کشمیرمیں نہیں ملے گا دیگرریاستوں کے لوگوں کو ووٹنگ کا حق

0

جموں (ایجنسیاں)جموں کے ضلع ڈپٹی کمشنر نے اپنا حکم واپس لے لیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ جموں میں ایک سال سے رہنے والے لوگوں کو ووٹر بنایا جائے۔ یہ کام 15 اکتوبر سے شروع ہونا تھا۔ جموں کے ضلع الیکشن افسر نے منگل کو ایک حکم جاری کیا تھا۔ اس آرڈر میں ان دستاویزات کی فہرست دی گئی تھی، جن کی بنیاد پر جموں میں رہنے والے لوگ اپنی شہریت ثابت کر کے ووٹر بن سکتے ہیں۔ اس آرڈر میں ان لوگوں کا بھی ذکر تھا جن کے پاس ان دستاویزات میں سے کوئی بھی نہیں ہے۔ جموں و کشمیر کی سیاسی جماعتیں حکومت کے اس فیصلے کی مخالفت کر رہی تھیں۔کانگریس، پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس جیسی پارٹیاں نئے ووٹر بنانے کے اس فیصلے کی مخالفت کر رہی تھیں۔ معاملے کو طول پکڑتا دیکھ کر انتظامیہ نے بدھ کی دیر رات اس سلسلے میں جاری حکم واپس لے لیا۔ جموں کے ڈی سی کے جاری کردہ اس حکم کے بعد ریاست کی اپوزیشن جماعتیں اس کے خلاف متحد ہوگئیں۔ اس نے نہ صرف اس حکم کے خلاف بیان دینا شروع کر دیا بلکہ اس پر احتجاج کا ایک دور شروع ہو گیا تھا۔یہ حکم آنے کے بعد ریاست کی سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا تھا کہ بی جے پی جموں و کشمیر کو مذہب اور علاقے کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ بی جے پی کی ان کوششوں کو ناکام بنایا جانا چاہئے۔