مجوزہ افغان کانفرنس سے پاکستان کی کنارہ کشی

0

محمد فاروق اعظمی

ہندوستان اس بنیادی فلسفہ پر یقین رکھتا ہے کہ ترقی، خوشحالی اور استحکام کیلئے امن ضروری ہے۔ اسی فلسفہ کی بنیاد پر ہندوستان کی خارجہ پالیسی کی عمارت بھی کھڑی ہے۔ ہندوستان کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ پڑوسی ممالک سے اس کے تعلقات نہ صرف خوشگوار رہیں بلکہ سب مل کر خطہ میں امن و استحکام برقرار رکھنے کا کام کریں۔لیکن ہندوستان کی ان کوششوں کو پاکستان کی جانب سے کبھی پذیرائی نہیں ملی ہے۔ افغانستان میں جاری بحران اور طالبا ن کی وجہ سے خطہ میں پیدا ہونے والے امن و سلامتی کے حوالے سے ہندوستان کے طلب کردہ اجلاس میں پاکستان نے شامل ہونے سے انکار کرکے ایک بار پھر ہندوستان کی کوششوں کو دھچکا پہنچانے کا کام کیا ہے۔
افغانستان میں طالبان کے قبضہ کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی ہے، اس کا تقاضا ہے کہ نہ صرف پڑوسی ممالک بلکہ آس پاس کے دیگر ممالک بھی سر جوڑ کر بیٹھیں اورخطہ میں طالبان کے حوالے سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیتے ہوئے کسی معقول حل پر پہنچیں۔ ہندوستان نے اس معاملہ کی سنگینی کا ادراک کیا اور افغانستان کے ساتھ ساتھ پورے جنوبی ایشیا میں امن و سیکورٹی کی صورتحال پر غور و خوض کیلئے پڑوسی ملکوں کے قومی سلامتی مشیروں کاایک اجلاس 10 نومبر 2021 کو نئی دہلی میں منعقد کررہاہے۔
ہندوستان کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کی صدارت میں ہونے والے اس مجوزہ اجلاس میں افغانستان کے تمام پڑوسی ممالک روس، ایران وسط ایشیائی ممالک قزاقستان، تاجکستان، کرغزستان ، ازبکستان اور ترکمانستان نے اپنی شرکت کی تصدیق کردی ہے۔حتیٰ کہ امریکہ، جرمنی ، فرانس اور یوروپی یونین کے بعض دیگر ممالک کی بھی شرکت کا امکان ظاہر کیاجارہاہے۔اس اجلاس کیلئے چین اورپاکستان کو بھی مدعو کیاگیا ہے۔ چین نے تو اب تک اس میں شرکت یا عدم شرکت کا کوئی جواب نہیں دیا لیکن پاکستان نے اس اجلاس میں شرکت سے یکسر انکار کردیاہے۔پاکستان کا یہ انکار افغانستان بحران کے حل کے سلسلے میں ہندوستان کے قائدانہ کردار کو کم کرنے کی کوشش ہے،جسے دنیا کے دوسرے ممالک بھی پسند نہیں کررہے ہیں۔
نئی دہلی میں 10نومبر کو مجوزہ افغان کانفرنس کے سلسلے میں متعدد ملکوں کی جانب سے حوصلہ افزا ردعمل افغانستان میں امن و استحکام کے حوالے سے ہندوستان کے قائدانہ کردارکا اعتراف ہے اور عالمی برادری نے ہندوستان کے اس اقدام کی بجاطور پر ستائش بھی کی ہے لیکن اس معاملے میں پاکستان کا رویہ افسوس ناک ہے اور اسے کسی بھی طرح سے قابل قبول نہیں ٹھہرایا جاسکتا ہے۔
افغانستان میں بحالی امن کی ہندوستان کی جانب سے یہ کوشش ایسی ہے کہ پاکستان اس کی پذیرائی کرتے ہوئے اپنے و ہ داغ دھونے کی کوشش کرتا جو افغانستان میں خانہ جنگی اور بحران کے حوالے سے اس پر لگے ہوئے ہیں لیکن پاکستان نے شرکت سے انکار کرکے یہ بتادیا ہے کہ وہ خطہ میں امن کا خواہش مند نہیں ہے۔پاکستان میں قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف کا کہنا ہے کہ وہ اس اجلاس میں شامل نہیں ہوں گے کیوں کہ پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ خطہ میں جو رکاوٹیں ہیں، اس پر بحث کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے افغانستان کے سلسلے میں ہندوستان کیلئے ’ تخریب کار‘ کا بھی لفظ استعمال کیا اور اپنے انکار کا سبب بیان کرتے ہوئے یہ واضح پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ افغانستان میں حالات ایسے نہیں ہیں کہ ان پر دوسرے ممالک کو تشویش ہو۔
اس سے قبل بھی خطہ میں امن و سلامتی کے حوالے سے بات چیت کے دوادوار ہوچکے ہیں ، پاکستان ان میں بھی شامل نہیں ہوا تھا۔ یہ دونوں دور طالبان کے قبضہ سے پہلے ایران میں ستمبر 2018 اور دسمبر2019میں ہوئے تھے۔ جنوبی ایشیا ممالک کے قومی سلامتی کے مشیروں کا اجلاس 2020میں بھی ہونا تھا لیکن کووڈ بحران کی وجہ سے یہ ملتوی ہوگیا اوراس کے بعد اگست 2021 میں افغانستان میں صورتحال یکسر ہی بدل گئی۔ افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد ایک منتخب حکومت بدل گئی اور پورا ملک طالبان کے قبضہ میں چلا گیا۔
طالبا ن کا ماضی اور اگست 2021کے بعد سے افغانستان کی صورتحال ایسی نہیں ہے کہ اس پر دوسرے ممالک خاص کر اس کے پڑوسی ممالک کو تشویش نہ ہو۔طالبان کی حکمرانی سے خطرہ صرف ہندوستان کو ہی نہیں ہے بلکہ آس پاس کے دیگر ممالک بھی خطرات کی زد میں ہیں۔ افغانستان اس وقت سنگین بحران سے گزررہاہے۔ لاکھوں افغانیوں کی دوسرے ممالک میں ہجرت، خواتین کی حفاظت، تعلیمی اداروں کا بند ہوجانا، ملک میں نظم و نسق کے مسائل، طالبان کی حکمرانی سے پیداہونے والے خطرات، داعش کے حملوں اوردوسرے ممالک میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کیلئے ا فغانستان کی سرزمین کا استعمال جیسے سنگین مسائل پوری دنیا کے سامنے کھلے پڑے ہیں اور پاکستان کا موقف یہ ہے کہ افغانستان کی صورتحال کسی بحث کی متقاضی نہیں ہے۔
ماضی میں طالبان کے کردار کے پیش نظر ہندوستان کی تشویش اگر کچھ زیادہ بھی ہے تو اسے غلط نہیں کہاجاسکتا ہے کیوں کہ ہندوستان، طالبان گزیدہ ہے۔ 1990کی دہائی میں جب طالبان نئی طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آئے تھے تو ایئر انڈیا کا طیارہ اغواکرکے قندھار لے گئے اورہندوستان، ان کے دہشت گردوں کو چھوڑنے پر مجبور ہوگیا۔ تین دہائی بعد آج ایک بار پھر وہی طالبان افغانستان پر قابض ہیں۔ طالبان2- اپنی نیک نیتی کی چاہے جتنی باتیں کریں لیکن ہندوستان کے حوالے سے ان کا ماضی ایسا نہیں ہے کہ اس پر ہندوستان کو یقین آسکے۔طالبان کے قبضے کے بعد ہندوستان کیلئے سب سے بڑی تشویش سلامتی کے حوالے سے ہے۔طالبان کی وجہ سے کشمیر میں دہشت گردانہ کارروائیوں اور تشدد میںا ضافہ کاخدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔ پاکستان کی آئی ایس آئی اور داعش سے طالبان کی قربت بھی ہندوستان کی اس تشویش کو دو چند کررہی ہے۔ہندوستان یہ ہر گز نہیں چاہتا کہ افغانستان کسی بھی حال میں ہندوستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں کی اجازت دے۔اس کے ساتھ ہی طالبان 1- کے بعد افغانستان کی بحالی اور تعمیر نو کے سلسلے میں ہندوستان کی بھاری سرمایہ کاری کو بھی طالبان سے خطرات لاحق ہیں۔
ان سب حالات کے پیش نظر قومی سلامتی کے مشیروں کا یہ اجلاس اہم ترین ثابت ہونے والا ہے اور اس میں نئی باتیں اور نئے امکانات سامنے آسکتے ہیں۔اس لیے اس اجلاس میں تمام متعلقہ ممالک کی شرکت لازمی ہونی چاہیے تھی لیکن جس طرح سے پاکستان نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شرکت سے انکار کیا ہے، اس سے یہی لگتا ہے کہ پاکستان نہیں چاہتا کہ افغانستان میں امن بحال ہو اور طالبان کی حکمرانی سے دنیا کو لاحق تشویش کم کی جائے۔
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here