Image:english.alarabiya.net

دنیا کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے جو چیزیں اہمیت کی حامل ہیں، ان میں حصول علم بھی ہے مگر شام میں جب گلیوں میں نکلنا، سڑکوں پر چلنا دشوار ہے، جب ایک روٹی آسانی سے نہیں ملتی، گھر تباہ کیے جا چکے ہیں، سیکڑوں اسکولوں کی عمارتیں مسمار کی جا چکی ہیں ، پھر یہ امید کون کرے کہ شامی بچوں کی تعلیم کی طرف توجہ دی جائے گی۔ 2019 کے آخری مہینوں میں چین میں کورونا وائرس نے تہلکہ مچانا شروع کیا تھا لیکن دیگر ملکوں کے لوگوں کو اس سے سابقہ 2020 میں پڑا۔ اس کے بعد سے کورونا دائرۂ اثر پھیلاتا چلا گیا اور آج بھی یہ کہنا مشکل ہے کہ کورونا پر قابو کچھ مہینوں میں پا لیا جائے گا، چنانچہ اپنی الجھنوں میں الجھے ہوئے لوگوں سے یہ امید تو نہیں کی جا سکتی کہ وہ شامی بچوں کی تعلیم پر توجہ دیں گے، البتہ دنیا میں ایسے ادارے اور ایسے لوگ ہیں جو دوسروں کی خدمت کر کے ہی سکون محسوس کرتے ہیں، اس لیے امید بندھتی ہے کہ شام کے حالات ہمیشہ خراب نہیں رہیں گے، شامی بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے پر توجہ دی جائے گی۔ اگست ، 2019 میں شامی بچوں کے بارے میں یونیسیف نے رپورٹ دی تھی۔ اس کے مطابق، شام اور بیرونی ملکوں میں موجود 80 لاکھ شامی بچوں کو مدد کی ضرورت ہے۔ 26 لاکھ بچے اندرون ملک ہی بے گھر تھے جبکہ بیرونی ممالک میں مہاجر کے طور پر نامزد ہونے والے شامی بچوں کی تعداد 25 لاکھ سے زیادہ تھی۔ تقریباً 10 ہزار بچے تنہا تھے یعنی وہ ماں باپ اور اپنوں سے الگ ہو گئے تھے یا ان کے اپنے مار ڈالے گئے تھے۔ انہیں کسمپرسی میں زندگی بسر کرنی پڑ رہی تھی۔ انہیں جینے کے لیے مزدوری کرنی پڑ رہی تھی۔ان کے ساتھ مسئلوں کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ خود کو ثابت کرنے کے لیے ان کے پاس کاغذات نہیں تھے۔
یونیسیف نے یہ رپورٹ دی تھی کہ شامی بچوں میں سے ایک تہائی بچے اسکول سے محروم ہیں ۔ اس نے یہ رپورٹ بھی دی تھی کہ ہر 8 میں سے ایک بچے کو نفسیاتی مدد کی ضرورت ہے اور یہ بات آسانی سے سمجھی جا سکتی ہے کہ اس مدد کی ضرورت کیوں ہے۔ بچے آنکھوں کے سامنے اپنوں کو مرتے ہوئے دیکھیں گے، دن رات گولیوں اور بموں کی آوازیں انہیں سننی پڑیں گی تو نفسیاتی اثر ان پر کیسے نہیں پڑے گا۔ شام میں انسانوں کا خون بہت بہا ہے مگر کتنے عالمی لیڈروں کو یہ احساس ہے کہ شام میں مارے جانے والے بھی انسان ہی ہیں۔ یہ بات مان لینے میں کوئی برائی نہیں ہے کہ لیڈروں کے لیے انسانیت کے مختلف پیمانے ہیں۔ وہ بھلے ہی سب کو انسان کہیں مگر سب کو انسان مان نہیں سکتے، ورنہ شام کی ویران گلیاں ان کی آنکھیں بھر دینے کے لیے کافی ہوتیں لیکن آج جو شامی بچے علم سے محروم کر دیے جائیں گے، کیا کل کوئی لیڈر انہیں انسانیت کا سبق پڑھا پائے گا؟ اور اگر پڑھانا چاہے گا تو کیا وہ یہ سوال نہیں کریں گے کہ انہیں مدد کی ضرورت تھی تو دنیا بھر کی انسانیت کہاں سو رہی تھی، شامیوں کے خون بہائے جانے پر یہ بات کیوں نہیں سوچی گئی کہ یہ بھی انسانوں کا ہی خون بہہ رہا ہے اور اگر سوچی گئی تو عملی اقدامات کیا کیے گئے اور اگر عملی اقدامات کیے گئے تو ان کے ناکام ہو جانے کی وجوہات کیا رہیں۔ سوال اور بھی ہیں، سوال بہت ہیں مگر شامیوں کا بھلا ان کے حالات پر سوال اٹھانے سے نہیں ہوگا، حالات کے لیے ذمہ دار تلاش کرنے سے نہیںہوگا، ان کا بھلا ہوگا امن بحال کرنے کے لیے مستقل اور پرخلوص جدوجہد کرنے سے۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here