موجودہ حالات میں ہمارا ر د عمل اور لائحۂ عمل

0

انجنیئر خالد رشید علیگ

ملک کے موجودہ حالات نہ کوئی مشکل پہیلی ہیں جس کو بوجھا نہ جاسکتا ہو، نہ ہی کوئی جاسوسی ناول جس کا انجام پوشیدہ ہو اور نہ ہی ایسا کوئی سفر جس کی منزل نا معلوم ہو، اس مہم کے فرقہ پرست آقاؤں کے عزائم بھی سورج کی روشنی کی طرح واضح ہیں اور ان عزائم کو حاصل کرنے کی حکمت عملی بھی سورج کی دھوپ کی طرح عیاں حقیقت ہے۔ اب سوال صرف یہ رہ گیا ہے کہ جو خواب سنگھ پریوار دیکھ رہا ہے،وہ شرمندۂ تعبیر ہوگا یا نہیں اور اگر ہوگا تو ملک کو اس کی کیا قیمت چکانی پڑے گی؟ کیا ملک میں کچھ اور طبقات کو اچھوت بنا کر ان کے حصے کے وسائل پہ قبضہ کرنے کوئی سازش ہو رہی ہے؟ کیا ملک کی موجودہ سیکولر جمہوری شکل باقی رہے گی جس میں کم سے کم کاغذ پر سب کو برابر کے حقوق حاصل ہیں یا پھر ملک میں وہی امتیازی نظام قائم ہوجائے گا جس میں ایک خاص طبقہ کی کمر پہ جھاڑو باندھ دی جاے گی؟ ملک کا آئین اسی شکل میں قا ئم یا اس کو تبدیل کر کے ان لوگوں کی پسند کا نیا سنویدھان بنایا جائے گا جو ملک میں قدیم ہندوستان کا امتیازی نظام قائم کرنا چاہتے ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جو ہر ہندوستانی کے دماغ میں پیدا ہو رہے ہیں اور ہر حساس ہندوستانی یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ آخر اس کے اس عظیم ملک کا مستقبل کیا ہوگا؟ شاید یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ماہ یعنی مئی کے مہینہ میں ملک میں چار ایسے اجلاس منعقد ہوئے جن میں ملک کے دانشوران جمع ہوئے اور ملک میں جاری خلفشار پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا اور کسی ایسے لائحہ عمل کی تلاش کرتے نظر آئے جو ملک کو اس سنگین صورت حال سے نکال سکے۔ پہلا اجلاس 8مئی کو کانسٹی ٹیوشن کلب میں منعقدہوا جس میں ڈاکٹر بصیر احمد خان نے ملک کے کچھ دانشوران کو جمع کر کے حالات کی سنگینی پہ غورو خوض کیا۔ اس کے بعد 20مئی کو مسلم مجلس مشاورت نے دو روزہ اجلاس جناب نوید حامد کی صدارت میں منعقد کیا، جس کا مقصد بھی موجودہ حالات کے پیش نظر کوئی ایسی راہ تلاش کرنا تھا جو ملک کو ان سنگین حالات سے نجات دلا سکے۔ اس کے بعد ملک کے جانے مانے مسلم رہنما محترم ادیب صاحب نے ملک بھر کے دانشوران کو جمع کر کے اس فرقہ پرستی کے طوفان کو روکنے کا کوئی راستہ تلاش کرنے کے لیے دو روزہ اجلاس ایوان غالب میں منعقد کیا۔ اسی روز یعنی 29مئی کو دیوبند میں اس عظیم اجلاس کا انعقاد عمل میں آیا جس کی چرچا دو روز سے میڈیا میں زور شور سے ہو رہی ہے۔ مذکورہ بالا تمام اجلاسوں کا مقصد صرف یہ تھا کہ ملک عزیز کو کس طرح نفرت کے اس طوفان سے محفوظ کیا جائے اور کس طرح ملک کے آئین کی حفاظت کے جائے نیز یہ کہ تمام مجالس کے شرکا اس بات پر بھی متفق نظر آئے کہ ملک کے آئین کو ایک سنگین خطرہ لاحق ہے۔ اس کے علاوہ ایک خوشنما تاثر جو ان اجلاسوں نے قائم کیا، وہ یہ کہ تمام شرکا ملت کے مختلف گروپوں کو متحد کرنے کے لیے کوشاں نظر آئے۔ اس سلسلہ میں ہوا کا سب سے خوش گوارجھونکا دیوبند کی جانب سے آیا جہاں جمعیۃ علماء ہند کے دونوں دھڑوں نے اتحاد کی خواہش نہ صرف ظاہر کی بلکہ مولانا ارشد مدنی اور مولانا محمود مدنی نے اس کا اعلان بھی کردیا۔ بہرحال مذکورہ بالا اجلاسوں کا ایک ہی ماہ میں منعقد ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کے جمہوریت پسند اور بالخصوص مسلمان ملک کے مستقبل اور آئین کی بالادستی کو لے کر فکرمند ہیں اور کوئی ایسا لائحہ عمل وضع کرنا چاہتے ہیں جو وطن عزیز کو اس خطرناک صورت حال سے باہر نکال سکے۔ اس صورت میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ہمارا ردعمل اور لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے؟ مذکورہ اجلاسوں کا نتیجہ کیا ہوگا یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، اصول یہ ہے کہ اگر کسی مرض کاعلاج کرنا ہو تو اس کی تشخیص اور ان وجوہات کا پتہ لگانا ضروری ہوتا ہے جہاں تک اس موجودہ خلفشار کا تعلق ہے تو اس کی صرف ایک وجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ کچھ خاص لوگ جو اقلیت میں رہنے کے باوجود ملک کے بیشتر وسائل پر قابض ہیں اور کسی بھی صو رت میں اس نظام کو قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ ملک میں جو امتیازی نظام منوواد کے نام پر ہزاروںسال پہلے قائم کیا گیا تھا وہ آج بھی قائم ہے، یہ اور بات ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی شکلیں ضرور بدلتی رہیں لیکن اس کی امتیازی فطرت جوں کی توں باقی رہی۔ مثال کے طور ہر ایک زمانہ تھا جب تعلیم پر اعلیٰ ذات والوں کی اجارہ داری قائم رکھنے کے لیے ان کو اسکولوں سے دور رکھا جاتا تھا، ان کے کانوں میں اشلوک چلے جاتے تو ان کے کانوں میں سیسہ ڈال دیا جاتا تھا، جب دنیا تھوڑی سی ترقی یافتہ ہوئی تو اس نظام کو دوسرے نظام سے تبدیل کر دیا گیا جس میں تعلیم کے دروازے تو سبھی کے لیے کھول دیے گئے لیکن غریب بچوں کے لیے ایسے اسکول جہاں بلیک بورڈ بھی لکھنے کے لائق نہ ہو اور اعلیٰ ذات (امیروں) کے لیے ایسے اسکول جہاں ہر بچے کا الگ کمپیوٹر ہو، اسکول میں ایئر کنڈیشن کمرے، گھر میں ہوم ورک کے لیے دوسرا کمپیوٹر دستیاب ہو۔ کیا یہ نظام اس نظام سے کم امتیازی ہے جس میں کانوں میں سیسہ ڈال دیا جاتا تھا ؟ یہ سلوک ہر شعبۂ حیات میں رواں ہے کیونکہ بغیر اس امتیازی نظام کے یہ ممکن ہی نہیں کہ 15 فیصد لوگ 85 فیصد وسائل پہ اپنا تسلط قائم رکھ سکیں ۔
یہ سارا خلفشار اسی لیے بپا کیا جا رہا ہے تاکہ اس ظالمانہ امتیازی نظام کو مزید سو دو سو سال جاری رکھا جاسکے۔ اس امتیازی نظام کو قائم رکھنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہندوستان کا آئین ہے جس کے نتیجہ میں ملک میں جمہوری نظام قائم ہے، لہٰذا ملک میں اگر کوئی اور نظام قائم کرنا ہے تو آئین کو ختم کردینا یا اس کو غیر مؤثر بنانا ضروری ہے، لہٰذا ملّی تنظیموں کو کوئی ردّ عمل ظاہر کرنے سے پہلے ملک کے ان تمام جمہوریت پسند عوام کو اعتماد میں لینا چاہیے اور یہ بات واضح کردینی چاہیے کہ یہ جدوجہد مسلمانوں کی نہیں، آئین کو بچانے اور ملک میں مساوات کے نظام کی حفاظت کی جدوجہد ہے ۔ کوئی بھی ردّ عمل ظاہر کرنے سے پہلے ہمیں اپنے آپ کو اور تمام ہندوستانیوں کو یہ یقین دہانی کرانی ہوگی کہ ہمارا ردعمل پوری طرح آئینی اور قانونی ہو یقینا جذباتی نوجوانوں کو اس بات پہ راضی کرنا کافی مشکل کام ہے جو عدالتوں کے غیر جانبدار رویہ سے مایوس ہو چلے ہیں لیکن فی الحال ہمارے پاس کوئی اور متبادل نہیں ہے ۔
[email protected]