اپوزیشن کی صف بندی

0

مودی سرکارکوگھیرنے اورقومی سطح پربی جے پی کے خلاف صف بندی اوراتحاد کے لیے کانگریس کی عبوری صدر سونیا گاندھی نے بڑا قدم اٹھایا ہے۔ انہوںنے 19 اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ ورچوئل میٹنگ کی جو بڑی بات اور بڑا پیغام ہے۔یہ تعدادبتارہی ہے کہ اپوزیشن پارٹیاں صف بندی کیلئے کچھ زیادہ ہی پرجوش اورسرگرم ہیں۔ ملاقاتوں اورمیٹنگوں کا سلسلہ بڑھتا جارہا ہے جس کے کچھ نہ کچھ نتائج ضرور برآمد ہوں گے۔ میٹنگ میں بڑی خوبصورتی سے ایجنڈے کو پیش کرتے ہوئے کانگریس کی صدر نے کہا کہ سبھی پارٹیوں کے ساتھ کچھ نہ کچھ مسائل اورپریشانیاں ہیں لیکن یہ وقت ان سب سے اوپر اٹھ کر اور اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ملک کے مفاد میں ایک ساتھ آگے بڑھنے کا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ 2024 کاپارلیمانی الیکشن ہمارا ہدف ہونا چاہیے۔ یہ چیلنج تو ہے لیکن ہم متحد ہوکر کرسکتے ہیں۔ انہوں نے تمام پارٹیوں سے اپیل کی کہ مودی سرکار کے خلاف متحد ہوں۔بتایا جاتا ہے کہ شرکاء نے بھی کھل کراپنی باتیں رکھیں ،اتحادکومضبوط کرنے اوراہم ایشوز پر متحدہ حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ دراصل پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں پیگاسس، کسانوں کی تحریک ، رافیل اورمہنگائی جیسے ایشوز پر گھیرنے کی اپوزیشن کی متحدہ کوششوں سے سرکار کی بڑھتی پریشانی سے بڑے پیمانے پر اپوزیشن کو جوڑنے کی تحریک ملی۔سونیاگاندھی کی اس میٹنگ سے قبل پارٹی کے لیڈر راہل گاندھی نے بھی اسی مہینے ایک بریک فاسٹ میٹنگ رکھی تھی جس میں 14اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں نے شرکت کی تھی اوراس بار وہ تعداد بڑھ کر 19ہوگئی۔اس کامطلب یہ ہے کہ اتحاد کی کوششیں رنگ لارہی ہیں۔
دراصل مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میںاپوزیشن کے انتشار کے باوجود ممتابنرجی کی پارٹی ترنمول کانگریس کی زبردست جیت اوربی جے پی کی شکست کے بعد قومی سطح پر حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ اپوزیشن میںبی جے پی کے خلاف اتحاد اورمحاذ تیار کرنے کی کوششیں کچھ زیادہ ہی ہورہی ہیں۔ ملاقاتوں اورمیٹنگوں کا سلسلہ چل پڑا ہے۔ جولائی کے اواخرمیں مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ اپوزیشن کومتحد کرنے کے مشن پر راجدھانی دہلی آئی تھیں اور5دنوں تک قیام کرکے کانگریس کی عبوری صدر سونیا گاندھی، دہلی کے وزیراعلیٰ اروندکجریوال سمیت متعدد لیڈروں سے ملاقات کی تھی جبکہ راشٹریہ جنتادل کے لیڈرلالوپرساد یادو اورسماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش سنگھ اوردیگرلیڈروں سے فون پر بات چیت کی تھی۔میڈیا کے ساتھ بات چیت میں 2024کے پارلیمانی انتخابات کے لیے مودی سرکار کے خلاف بگل بجاتے ہوئے مس بنرجی نے نہ صرف ’مودی بمقابلہ باقی ہندوستان ‘کا نعرہ دیا تھابلکہ یہ بھی کہا تھا کہ جب مغربی بنگال صوبہ ایسا کرسکتا ہے تو باقی ہندوستان کیوں نہیں کرسکتا؟ جاتے جاتے مس بنرجی نے یہ بھی کہا تھاکہ وہ ہر 2ماہ پر دہلی آئیں گی۔یعنی اپنے مشن پرکام کرتی رہیں گی۔دوسری بات یہ ہے کہ کانگریس نے جب پرشانت کشور کی خدمات حاصل کیں توانہوں نے بھی پارٹی کو اپوزیشن کو متحد کرنے کا مشورہ دیا تھا۔
2024کے پارلیمانی انتخابات اوراگلے سال کچھ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظراپوزیشن کو متحد کرنے کی کوششیں تو ہورہی ہیںلیکن کچھ سیاست بھی نظر آرہی ہے۔ جیسے جب مس بنرجی دہلی آئی تھیں تو انہوں نے وزیراعلیٰ اروند کجریوال سے ملاقات کی تھی اور اکھلیش سنگھ سے فون پر بات کی تھی لیکن سونیا گاندھی نے میٹنگ کی تو میڈیا رپورٹ کے مطابق عام آدمی پارٹی اوربہوجن سماج پارٹی کو دعوت نہیں دی گئی اورسماجوادی پارٹی نے شرکت نہیں کی۔ایساکیوں ہوا؟ کیا اپنی اپنی پسند اورسیاست ہے یا کچھ اورماجرا ؟وجہ جو بھی ہو ایسی باتیں اتحاد کی کوششوں کو نقصان پہنچاسکتی ہیں۔
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
1
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here