لاک ڈاؤن میں پسماندہ بستیاں کس طرح زندہ رہیں؟

0

ایڈم اورباچ/طارق تھیچل
(مترجم:محمد صغیر حسین)

عام طور پر جب عدیل قریشی سرکاری افسران سے رجوع کرتے ہیں تو وہ مشرقی جے پور میں بے ڈھنگے طور پر پاؤں پسارتی غریب و پسماندہ کچی آبادی، پہاڑی نگر کے لیے نیم پختہ سڑکوں، سیور اور اسٹریٹ لائٹ کا مطالبہ کررہے ہوتے ہیں۔ لیکن گزشتہ اپریل کے بعد سے قریشی کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوگیا۔ اب انہیں عالمی وبا کورونا وائرس کی قہرسامانیوں اور اُس کے نتیجے میں سخت لاک ڈاؤن کے دوران پہاڑی نگر کے باشندگان کے کھانے اور ایندھن کی دستیابی کا بھی انتظام کرنا تھا۔ قریشی اسی بستی میں رہتے ہیں اور ایک غیررسمی مقامی لیڈر ہیں۔ انہوں نے فون پر ہمیں بتایا: ’’میں نے روز کمانے اور روز کھانے والے کنبوں کی ایک فہرست بنائی۔ یہ ایسے لوگ تھے کہ جو ایک دن بھی کام نہ کریں تو بھوکے رہیں گے۔ چنانچہ میں نے تہیہ کرلیا کہ ہر حال میں اُن کی ضروریات زندگی کا انتظام کرنا ہے۔۔۔‘‘
600کلومیٹر دور بھوپال میں، اوم پرشاد، جو ایک پسماندہ بستی کے مقامی لیڈر ہیں، اس مقصد کے لیے سخت جدوجہد کررہے ہیں کہ بستی کے لوگ اسے صاف ستھرا رکھیں اور انہیں اس بات کا علم و یقین ہو کہ یہ وائرس کس آسانی سے ایک دوسرے کو متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’’لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد ہی میں نے پہلا کام یہ کیا کہ بستی کو صاف کیا اور دوسرا کام جو میں نے کیا وہ لوگوں کو اس متعدی وبا کے بارے میں بیدار کرنا تھا۔‘‘
ہندوستان کی غریب و پسماندہ بستیوں کے بارے میں میڈیا میں بار بار کہا گیا کہ وہ کورونا وائرس کے مراکز ہیں۔ صحافیوں نے بار بار کہا اور لکھا کہ ان بستیوں میں رہنے والے لوگ خاص طور پر وبا کی زد پر ہیں۔ انہیں حکومت کی حکمت عملی کے تحت نافذ بندشوں کے معاشی نتائج کی مار بھی جھیلنی پڑتی ہے۔ چوں کہ غریب و پسماندہ بستیوں میں رہنے والے بیشتر افراد غیررسمی سیکٹروں میں کام کرتے ہیں اور بھیڑبھاڑ میں رہتے ہیں اور اکثر انہیں پانی اور صفائی ستھرائی کی لازمی عوامی سہولتیں بھی میسر نہیں ہوتیں، اس لیے وہ ہمیشہ وبا کے خطرات کی زد پر رہتے ہیں۔ 
چہارطرفہ تشویشات کے انبار کے باوجود، وبا کے دوران کے تجربات کے بارے میں پسماندہ بستیوں کے باشندگان سے منظم معلومات کم ہی موصول ہوئی ہیں۔ زیادہ تر رپورٹوں میں بڑے شہروں کی مشہور جھگی جھونپڑی بستیوں مثلاً ممبئی میں دھراوی بستی کے باشندگان سے گفتگو کو مرکز توجہ بنایا گیا ہے۔ شہروں کے سائز کے برابر کی یہ بستیاں ملک کی تمام چھوٹی چھوٹی بستیوں کی نمائندگی نہیں کرتیں۔ میڈیا کی تصویرکشی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تمام تربستیاں یکساں طور پر خطرات کی زد پر ہیں اور وبا کے مدمقابل بے بس اور بے کس ہیں۔ یہ منظرکشی اس بات کو نظرانداز کردیتی ہے کہ پسماندہ بستیوں کے مابین بیّن فرق ہوتا ہے۔
وبا اور لاک ڈاؤن کے دوران ان بستیوں کے باشندگان کس طرح متاثر ہوئے تھے، اس کا صحیح اندازہ لگانے کے لیے ہم نے لاک ڈاؤن کے عروج کے زمانے میں، اپریل اور مئی 2020کے دوران، جے پور اور بھوپال کی 79پسماندہ بستیوں کے 321مقامی لیڈروں کا ایک فون سروے کیا۔ جہاں تک ہماری معلومات کا تعلق ہے، یہ ان اہم لیڈروں کو منظرعام پر لانے اور وبا کے دوران اُن کے تجربات اور تاثرات جاننے کی پہلی کوشش ہے۔ ہماری معلومات کا ماحصل درج ذیل ہے:
اولاً، ہمارے سروے سے ظاہر ہوا کہ ان بستیوں کے لیڈر ہاتھ پر ہاتھ دھرے وائرس کو پھیلنے اورمعاشی پریشانیوں کو شدید تر ہوتے دیکھتے نہیں رہ گئے۔ موٹے طور پر، ہر دس میں سے 6لیڈروں نے لاک ڈاؤن کے دوران کسی نہ کسی مقامی سیاستداں سے مل کر امداد کی درخواست ضرور کی۔ اس بحران کے دوران ڈرامائی طور پر اُن کی مانگوں میں ایک بڑی تبدیلی دیکھنے کو ملی۔ لاک ڈاؤن کے دوران 91%مطالبات پہلے کی طرح انفرااسٹرکچر کی اصلاحات کے لیے نہ ہوکر، باشندگان بستی کی خوراک اور راشن سے متعلق تھیں۔ اس بات سے یہ اندازہ ہوا کہ ان لیڈروں نے اپنی بستی میں ایسے کنبوں کا صحیح تخمینہ لگایا جن کے پاس اتنی رقم بچی ہوئی نہ تھی کہ اگر وہ ایک دن بھی کام پر نہ جائیں تو بھوکے نہ رہیں۔
دوسرے یہ کہ انفرااسٹرکچر ترقیات میں وبا سے پہلے سے ہی موجود تفریق پر اس بات کا انحصار ہوتا ہے کہ ان بستیوں کے لوگ صحت سے متعلق سرکاری رہنما ہدایات کی کس حد تک پابندی کرسکتے ہیں۔ ہم نے 2015 میں 79 پسماندہ بستیوں کے جن 1594کنبوں کا سروے کیا تھا، اُن میں سے 39% گھروں میں قابل استعمال پانی کے نل نہیں ہیں۔ پانی لینے کے لیے انہیں یا تو سڑک پر لگے ہوئے عوامی نلوں تک یا پانی کے ٹینکروں تک جانا پڑتا ہے جہاں پانی لینے والوں کا ہجوم ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ پانی کے ٹینکر کب آئیں گے اور آئیں گے بھی یا نہیں آئیں گے، اس بے یقینی کی وجہ سے لوگ لمبی قطاروں میں دیر تک پانی کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ ایسی آبادیوں کے مقامی لیڈران، جہاں گھروں میں پانی کے نلوں کے سہولت عام نہیں ہوتی، یہ شکایت مستقل طور پر کرتے رہتے ہیں کہ پانی حاصل کرنے کے مقامات سوشل ڈسٹینسنگ کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔ جے پور کے ایک بستی لیڈر، وکرم نے ہمیں بتایا: ’’لوگ جانتے ہیں کہ پانی کے لیے بھیڑبھاڑ کی جگہوں پر جانا خطرناک ہے لیکن انہیں بدرجۂ مجبوری ایسا کرنا ہی پڑتا ہے۔‘‘ ساری پسماندہ بستیوں کو یکساں سمجھنے اور اُن کے درمیان تفریق و تفاوت کو نظرانداز کرنے کی غلطی کا اندازہ بحران کے دوران خوب ہوا۔
تیسرے یہ کہ پسماندہ بستیوں کے مقامی لیڈروں کی باشندگان بستی کی خدمت کرنے کی صلاحیتیں یکساں نہیں ہوتیں۔ جب ہم نے ان لیڈروں سے پوچھا کہ لاک ڈاؤن کے دوران شروع کی گئی یا توسیع کی گئی راحت رساں اسکیموں کے بارے میں بتائیں تو اُن مقامی لیڈروں میں سے 47%یا تو کچھ بھی نہ بتاپائے یا صرف ایک اسکیم کے بارے میں صحیح طور پر بتاپائے۔
25%لیڈران نے تین یا تین سے زیادہ اسکیموں کے بارے میں صحیح معلومات دیں۔ سیاستدانوں سے اپنے مطالبات منوا لینے کی صلاحیت کے اعتبار سے بھی بستی کے لیڈروں کی اہلیت میں فرق ہوتا ہے۔ شہر کے رہنماؤں کو متاثر کرنے میں دوعوامل اہم رول ادا کرتے ہیں: تعلیم اور سیاسی پارٹی نیٹ ورک سے وابستگی۔ وبا سے پہلے کی گئی تحقیقات میں ہم نے دیکھا کہ یہ خصوصیات روزمرہ کے مسئلوں کے حل کرنے میں بھی موثر ثابت ہوتی ہیں۔ چنانچہ جو لیڈران وبا سے پہلے اثردار تھے وہ بعد میں بھی اثردار ثابت ہوئے۔
عالمی وبا کا ایک خوش گوار پہلو یہ ہے کہ مہاجر محنت کشوں سے لے کر گندی اور پسماندہ بستیوں کے مکینوں تک تمام کے تمام افراد کو اہم شہری کمیونٹیز میں شمار نہ کرنے کی ناکافی سرکاری فہم کا اندازہ لگ گیا۔ شہریوں کو مساوی سمجھنے کی ضرورت کا احساس بیدار ہوا۔ اب بلند بانگ دعوؤں کے بجائے کچھ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ بحرانوں کے مابین عارضی ہلچل کے بجائے مستقل جدوجہد تقاضائے وقت ہے۔
(ایڈم اورباچ، اسکول آف انٹرنیشنل سروس، امریکن یونیورسٹی میں معاون پروفیسر ہیں اور طارق تھیچل، یونیورسٹی آف پینسلوانیا میں سینٹر فار دی ایڈوانس اسٹڈی آف انڈیا کے ڈائریکٹر ہیں)
(بشکریہ: ہندوستان ٹائمز)
 

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS