ہندوستانی جڑی بوٹی جو فارس لے جائی گئی

0

عارف محمد خاں
(مترجم: محمد صغیرحسین)

درحقیقت، اس جہاں میں علم و آگہی سے زیادہ مطہر کوئی اور شئے وجود میں نہیں ہے۔(گیتا:4.38)
دسویں صدی کے ایرانی شاعر فردوسی نے اپنی رزمیہ مثنوی شاہنامہ میں ایک دلچسپ واقع کا ذکر کیا ہے کہ ہندوستانی کلاسیکی فن پارہ پنچ تنتر، جوکہانیوں کی شکل میں اخلاقیات کی اعلیٰ قدروں کا ایک مرقع ہے، کس طرح 550عیسوی میں فارس پہنچا۔ فردوسی، ہندوستانی روایات میں علم و حکمت کی اہمیت کا ایک دلکش تصور پیش کرتا ہے۔
شاہنامہ کے مطابق، نوشیرواں کے عہد میں، اس کے طبیب اعلیٰ برزونی نے بادشاہ کو مطلع کیا کہ اس نے سنا ہے کہ ہندوستان میں، پہاڑوں پر ایک جڑی بوٹی، سنجیونی پائی جاتی ہے جو مردے کو بھی زندہ کرسکتی ہے۔ اس نے بادشاہ سلامت سے ہندوستان جانے اور کراماتی جڑی بوٹی تلاش کرنے کی اجازت چاہی۔ بادشاہ نوشیرواں نے برزونی کی درخواست خوشی خوشی منظور کرلی اور اپنے ہندوستانی ہمسر کو ایک مکتوب لکھ کر درخواست کی کہ اس کے سفیر کو جڑی بوٹی تلاش کرنے میں ہرممکن تعاون دیا جائے۔
ہندوستانی راجا نے برزونی کا زبردست استقبال کیا اور جب برزونی نے راجا کو اپنے مشن سے آگاہ کیا تو اس نے فاضل محققین اور اہلکاروں کی ایک بڑی ٹیم کو سنجیونی کی تلاش میں برزونی کی مدد کرنے پر مامور کردیا۔ مقامی ٹیم کے ساتھ، برزونی ہمالیہ گیا اور ایک وادی سے دوسری وادی میں جڑی بوٹی کی تلاش میں سرگرداں رہا۔ ہمالیہ کے ایک بڑے علاقہ کا دورہ کرنے کے بعد، بالآخر وہ مطلوبہ جڑی بوٹی کو پانے میں کامیاب ہوگیا۔ برزونی نے بیاض کے مطابق عرق تیار کیا اور اسے تجربے کے لیے مہیا کی گئی متعدد لاشوں پر چھڑکا۔ اس کو سخت مایوسی ہوئی جب عرق مردوں کو زندہ کرنے میں ناکام ہوگیا۔ برزونی یہ سوچ کر انتہائی مایوس، دلبرداشتہ اور پریشان تھا کہ وہ واپسی پر اپنے بادشاہ اور رعایا کا سامنا کس طرح کرے گا۔
شکست خوردہ اور افسردہ برزونی نے اپنے ہندوستانی معاونین سے پوچھا کہ اس مشن کوبچانے کی کیا تدبیر کی جائے۔ وہ اسے ایک سن رسیدہ رِشی کے پاس لے گئے جو لوگوں کی بھیڑ سے الگ تھلگ ایک گوشۂ تنہائی میں زندگی گزار رہے تھے۔ جب برزونی نے اپنے آنے کا مقصد بیان کیا تو وہ رِشی بولے: ’’اوبرزونی! تم قدماء کی تمثیل کو نہیں سمجھے۔ پہاڑوں سے ان کی مراد اہل علم، مردوں سے مراد لاعلم اور ناواقف اور جڑی بوٹی سے اُن کی مراد علم و حکمت تھی۔‘‘
رشی نے برزونی کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ جب اہل علم، ناواقف اور لاعلم کو حکمت و دانائی بخشتا ہے تو اسے زندگی ملتی ہے:
حکمت کی جس جڑی بوٹی کی تلاش تم کررہے ہو، وہ ہمالیہ میں نہیں بلکہ تمہارے میزبان راجا کے خرینے میں، پنچ تنتر نامی ایک کتاب کی شکل میں محفوظ ہے۔ اگر تم یہ کتاب حاصل کرو اور اس کی حکمت و دانائی کو جمع کرو تو یہ درحقیقت وہ کراماتی جڑی بوٹی ہوگی جو مردوں کو دوبارہ زندگی بخشے گی۔
اس تشریح اور وضاحت کے بعد،برزونی راجا سے ایک بار پھر ملا اور اُس سے کہا کہ جس استعاری جڑی بوٹی کی اسے تلاش تھی وہ دراصل ایک کتاب عرفان و آگہی ہے جو شاہی خزینے میں موجود ہے۔ برزونی نے اس کتاب کو دیکھنے کی خواہش کا اظہارکیا۔ راجا بادل نخواستہ راضی تو ہوگیا لیکن اس نے یہ شرط لگائی کہ برزونی ہر روز دربار میں آئے گا اور راجا کی موجودگی میں کتاب کو پڑھے گا اور سمجھے گا۔ برزونی نے ایسا ہی کیا اور وہ ہر روز کتاب پڑھتا رہا اور یاد کرتا رہا۔ بعدازاں اس نے اپنی زبان، پہلوی میں وہ کتاب ازخود تحریر کی۔
کچھ اس طرح پنچ تنتر کا اوّلین ترجمہ فارسی میں ہوا، پھر 750عیسوی میں ابن مقفیٰ نے اس کتاب کا ترجمہ ’’کلیلۃ و دِمنۃ‘‘ کے نام سے عربی میں کیا۔ اس کتاب کی اثر آفرینی کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ محققین، اسلام میں ایک نئے اصطفائی(eclectic) فرقے، اخوان الصفا کے عروج کے لیے اسی کتاب کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ آج 60زبانوں میں اس کے 200سے زیادہ تراجم مردوں کو زندگی بخش رہے ہیں۔
(صاحب مضمون سردست ریاست کیرالہ کے عزت مآب گورنر ہیں)
 

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here