بربادی سے بچا کر بھی روکے جاسکتے ہیں پیاز کے آنسو

0

پنکج چترویدی

چین کے بعد ہندوستان دنیا میں سب سے زیادہ پیاز پیدا کرنے والا ملک ہے اور یہاں سے ہر سال 13 ہزار کروڑ ٹن پیاز کی برآمدات ہوتی ہے، لیکن یہاں کی سیاست میں آئے دن پیاز کی کمی اور قیمت آنسو لاتے رہتے ہیں۔ یہ غور کرنا ہوگا کہ آب و ہوا میں تبدیلی کی وجہ سے پیاز کی کھیتی کو سب سے زیادہ نقصان ہو رہا ہے۔ بدقسمتی ہے کہ ہمارے ملک میں پیاز کی مانگ اور پیداوار اتنے بڑے مسئلے نہیں ہیں جتنا بڑا مسئلہ اس کی شاندار فصل ہونے پر اسے سنبھال کر رکھنا ہے۔ عام طور پر پیاز کی بوریاں کھلے میں رہتی ہیں اور بارش ہوتے ہی وہ سڑنے لگتی ہیں۔ اسی کے ساتھ ابھی نئی پیاز آنی شروع ہوگی لیکن دہلی کے بازار میں ریٹیل میں اس کی قیمت چالیس روپے سے نیچے نہیں آ رہی۔
ہندوستان میں پیاز کی تقریباً 70 فیصد پیداوار ربیع میں ہوتی ہے، یعنی دسمبر سے جنوری میں روپائی اور مارچ سے مئی تک فصل کی تیاری۔ خریف یعنی جولائی سے اگست میں بوائی اور اکتوبر سے دسمبر تک تیار فصل کا رقبہ بہت کم ہے۔ گزشتہ کچھ برسوں میں پیاز کے بازار میں ہوئی اٹھاپٹک پر غور کریں تو پائیں گے کہ جنوری 2018 میں پیاز کی کم پیداوار کی وجہ مہاراشٹر میں سمندری طوفان، مغربی سمندری ساحل پر کم دباؤ کے علاقے بننے پر بے وقت بارش کے سبب شولہ پور، ناسک، احمدنگر وغیرہ میں فصل برباد ہوتی تھی۔ نومبر 2019 سے جنوری 2020 تک بھی پیاز کی قیمت میں انتہائی اضافہ ہوا تھا اور اس کی وجہ بے موسم اور طویل عرصے تک برسات ہونا بتایا گیا تھا۔ 2020 میں خریف کی فصل بھی زبردست بارش میں دُھل گئی تھی۔ اس سال کرناٹک اور مہاراشٹر میں ستمبر میں برسات ہوگئی تھی۔ فروری 2021 میں پیاز کی آسمان چھوتی قیمت اور غیر ممالک سے منگوانے کی وجہ جنوری 2021 میں ان علاقوں میں زبردست بارش کا ہونا تھا جہاں پیاز کی کھیتی ہوتی ہے۔
ان دنوں مدھیہ پردیش میں پیاز کی زبردست فصل کسانوں کے لیے آفت بنی ہوئی ہے۔ شاجاپور منڈی میں ایک ہفتے میں 27 ہزار بوری پیاز خریدی گئی۔ یہاں آگرہ-ممبئی روڈ پر ٹریکٹر ٹرالیوں کی لمبی قطار ہے اور کئی کسان مال فروخت کیے بغیر واپس جا رہے ہیں۔ یہاں گزشتہ سال بھی کسان واجب قیمت نہ ملنے کی وجہ سے تحریک چلا چکے ہیں۔ واضح ہو کہ ریاست میں ہر سال تقریباً 32 لاکھ ٹن پیاز ہوتی ہے اور اسے رکھنے کی صلاحیت محض 3 لاکھ ٹن یعنی 10 فیصد سے بھی کم ہے۔ مہاراشٹر کی سب سے بڑی پیاز منڈی لاسل گاؤں میں ہفتے کو ایک ہزار 233گاڑیوں سے 17 ہزار 826 کوئنٹل پیاز لائی گئی اور اس کی قیمت زیادہ سے زیادہ 1600 روپے، کم سے کم 1000 روپے اور اوسطاً 2100 روپے فی کوئنٹل رہی۔ کسان کے لحاظ سے یہ قیمت بہت کم ہے لیکن کسان پیاز جمع کرکے نہیں رکھ سکتا اور اگر اس وقت تھوڑی سی برسات ہوگئی تو اس منڈی کا زیادہ تر مال سڑ کر بدبو پھیلانے لگے گا۔ ایک اندازے کے مطابق، ہر سال ہمارے ملک میں 70 لاکھ ٹن سے زیادہ پیاز خراب ہو جاتی ہے جس کی قیمت 22 ہزار کروڑ ہوتی ہے۔ مرکزی حکومت کی صارفین کے امور کی وزارت نے 2022 کے اقتصادی جائزے میں بتایا ہے کہ 2020-21 میں کوئی 60 لاکھ ٹن پیاز سڑنے یا خراب ہونے کا اندازہ لگایا گیا تھا جو 2021-22 میں 72 لاکھ ٹن ہے۔ اس وقت ملک میں پیاز کی دستیابی 3.86 کروڑ ٹن ہے، جبکہ 28 لاکھ ٹن درآمد کی گئی ہے لیکن بدقسمتی ہے کہ اس اسٹاک کو سنبھال کر رکھنے کے لیے بہتر کولڈ اسٹوریج نہیں ہیں۔ محض 10 فیصد پیاز کو ہی محفوظ رکھنے کے لائق انتظام ہمارے پاس ہے، ساتھ ہی پیاز پیدا کرنے والے اضلاع میں کوئی فوڈ پروسیسنگ فیکٹری نہیں ہے۔ کسان اپنی فصل لے کر منڈی جاتا ہے اور اگر اسے مال فروخت کرنے کے لیے 7 دن قطار میں لگنا پڑے تو مال لے جانے والی گاڑی کا کرایہ اور منڈی کے باہر سارا دن گزارنے کے بعد کسان کو کچھ نہیں ملتا، نتیجتاً آئے دن سڑک پر فصل پھینک دینے یا کھیت میں ہی سڑا دینے کی خبریں آتی ہیں۔
واضح ہو کہ پیاز کے کولڈ اسٹوریج میں دیگر کوئی چیزنہیں رکھی جا سکتی۔ اس کے علاوہ پیاز کی فصل جن دنوں آتی ہے، اس وقت عام طور پر برسات ہوتی ہے اور گیلی پیاز نہیں رکھی جاسکتی۔ حالانکہ حکومت نے کم سے کم دو ہیکٹیئر میں پیاز اُگانے والے کسانوں کو 50 میٹرک ٹن صلاحیت کا اسٹورہاؤس بنانے پر کوئی پچاس فیصد سبسڈی دینے کا اعلان کیا ہے لیکن ابھی اس کا زمینی نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے۔ آج ضرورت ہے کہ سائنسی، تکنیکی ادارے کم لاگت اور کفایتی آپریٹنگ اخراجات کی ایسی تکنیک ڈیولپ کریں جس سے کسان اپنی فصل کو بھی محفوظ رکھ سکیں، ساتھ ہی اضافی کمائی بھی ہو۔ یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ بجلی پر منحصر کولڈ اسٹوریج کا موجودہ نظام دوردراز گاوؤں کے لیے ممکن نہیں ہے، کیونکہ وہاں ایک تو بجلی کی غیرمستقل سپلائی ہوتی ہے، دوسرا منڈی تک آنے کے لیے ٹرانسپورٹ چارجز زیادہ ہیں۔ یہی نہیں، ضلع سطح پر فوڈپروسیسنگ کارخانے لگانے، سرکاری خریداری مراکز گاؤں کی سطح پر قائم کرنے، کسان کی فصل کو برآمد کے لائق اَپ گریڈ بنانے کی کوشش لازمی ہے۔ کسان کو صرف اس کی پیداوار کی واجب قیمت ہی نہیں چاہیے، وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ اس کی پیداوار کی سڑکر یا پھینک کر بے حرمتی نہ ہو بلکہ اس سے لوگوں کا پیٹ بھرے۔
[email protected]