پرینکا گاندھی نے مہنگائی کے حوالے سے مودی حکومت کو گھیرا، کہا چپل والوں کو جہاز سے سفر کرنے کا وعدہ کیا تھا،اب پیدل چلنا بھی مشکل ہوا

0
image:google.com

نئی دہلی :ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے کانگریس مسلسل مودی حکومت کو نشانہ بنا رہی ہے۔ کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر مرکزکی حکومت پر حملہ کیا ہے۔ پرینکا گاندھی نے ٹویٹ کیا اور کہا کہ وعدہ کیا گیا تھا کہ وہ چپل والے جہاز میں سفر کریں گی۔ اب ہوائی چپل والوں کا سڑک پر چلنا مشکل ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اس قدر اضافہ کردیا ہے کہ اب ہوائی چپلوں اور


متوسط ​​طبقے کے لیے سڑک پر سفر کرنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ اس سے قبل پرینکا گاندھی بھی کھاد کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بارے میں ٹویٹ کرکے حکومت کو نشانہ بنا چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے این پی کے کھاد پر 275 روپے اور این پی پر 70 روپے اضافہ کیا۔ حکومت نے ہر روز ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کیا اور ہر روز 100 کے پار پہنچا دیا۔ بی جے پی کے دور حکومت میں مزدور اور کسان مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ صرف مودی دوست امیر ہو رہے ہیں۔

ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ ملک کے کئی شہروں میں تیل 100 سے تجاوز کر گیا ہے۔ سبزیوں اور کھانا پکانے کی گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت ترقیاتی کاموں کا حوالہ دے کر مہنگائی پر اپنا دفاع کر رہی ہے۔ آج کی تاریخ میں پٹرول طیاروں کے ایندھن سے زیادہ مہنگا ہو گیا ہے۔ دہلی میں ہوائی جہاز کے ایندھن 79 روپے فی لیٹر پر دستیاب ہے۔ جب کہ پٹرول 100 سے تجاوز کر گیا ہے۔ پیر کو مسلسل چوتھے دن تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ دہلی میں پٹرول 105 84 پیسے میں فروخت ہو رہا ہے اور ممبئی میں اس کا ریٹ 111 روپے 77 پیسے ہو گیا ہے۔ ممبئی میں ڈیزل بھی 102.52 روپے کا ہو گیا ہے۔ دوسری طرف اگر ہم ایل پی جی کی بات کریں تو اس ماہ اس میں 15 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے کے بعد اب قومی دارالحکومت دہلی میں ایل پی جی سلنڈر کی قیمت 884.50 روپے سے بڑھ کر 899.50 روپے فی سلنڈر ہوگئی ہے۔ ساتھ ہی تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے راحت ملنے کی کوئی امید نہیں ہے۔ مرکزی وزیر پٹرولیم ہردیپ پوری نے بھی اشارہ دیا ہے کہ ابھی تیل کی قیمتوں میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here