اب لسانی عصبیت

0

عصبیت خطرناک اور موذی بیماری ہی نہیں بلکہ ہزار پا بلا ہے جس نے مختلف شکلوں میںپوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ کم و بیش تمام قومیں اس مرض میں مبتلا ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ کہیں اس بیماری کی شدت کم ہے توکہیں یہ سنگین شکل اختیار کرکے معاشرے کو تقسیم د رتقسیم کے عمل سے گزار رہی ہے۔ اس موذی بیماری کے شکاروں میں ایک شکارآج ہندوستان جنت نشان بھی بنا ہوا ہے۔ جہاںاقتدار اور حکمرانی کیلئے طرح طرح کی عصبیت پھیلاکر شہریوں کو ایک دوسرے کا جانی دشمن بنادیاگیا ہے۔ہندوستان میں مذہبی عصبیت کا برہنہ اورغلیظ کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ مذہب کی بنیاد پر امتیاز اور تقسیم جہاں عدم تحفظ کا احساس اجاگر کرکے امن و امان کا مسئلہ پیدا کررہی ہے، وہیں ملک کو ترقی کی راہ سے بھٹکاکر معیشت اور معاشرت دونوں کو دہکتے ہوئے آتش فشاں کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
لیکن سیاسی بازی گراب اس سے بھی مطمئن نہیں ہیں، انہیں اپنے خودکاشتہ خوابوں کی تعبیر کیلئے اس سے سوا کی تلاش ہے۔یہ تلاش انہیں لسانی عصبیت تک لے آئی۔ہندی بولے جانے کی وجہ سے تمل ناڈومیں بہاری مزدودوں پرحملے، انہیں مارنے پیٹنے اور قتل کی دھمکی دیے جانے کی ایسی بے بنیاد افواہ پھیلائی گئی کہ شمالی ہند اور جنوبی ہندکی دو ریاستوں میں تعلقات بھی خراب ہونے کی دہلیز پر پہنچ گئے اور مزدوروں کی بھاری تعداد خود کو غیر محفوظ بھی محسوس کرنے لگی۔ ہولی سے عین قبل سوشل میڈیا پر یہ افواہ بہت تیزی سے گشت کرنے لگی کہ تمل ناڈو میں بہار کے تارکین وطن مزدوروں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ کئی طرح کے ویڈیو زاورنفرت انگیز پوسٹ کا سیلاب آگیا۔ جن میں دعویٰ کیاگیاکہ ہندی بولنے والے بہاری مزدوروں پر تمل ناڈو کے لوگ حملے کررہے ہیں۔بعض ہندی اخبارات میں خبر بھی شائع ہوئی کہ 15 بہاری مزدوروں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں ملی ہیں۔یہاں تک الزام لگایا کہ بہار کے مزدوروں کو تمل ناڈو میں ’طالبان نما‘ حملوں کا سامنا صرف اس لیے کرنا پڑ رہا ہے کہ وہ ہندی بولتے ہیں۔
ان گمراہ کن خبروں کے بعد بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے بہار پولیس کو معاملے پر نظر رکھنے کی ہدایت دی۔ تمل ناڈو کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس سلیندر بابو نے بہار کے ڈی جی پی کو بتایا کہ اس طرح کا کوئی تشدد نہیں ہو رہا ہے۔ خبریں پھیلی ہوئی تھیں کہ ہراساں کیے جانے کی وجہ سے بہار کے زیادہ تر مزدورتمل ناڈو چھوڑ رہے ہیں۔ لیکن جب بالامورگن آئی اے ایس کی قیادت میں بہار کی ایک ٹیم صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے تمل ناڈو پہنچی تو پتہ چلاکہ زیادہ تر لوگ ہولی کاتہوار منانے کیلئے اپنے اپنے گھر جا رہے ہیں۔بہار کی ٹیم کے مطابق کچھ پرانے ذاتی جھگڑوں کا ویڈیو شوٹ کرکے پوسٹ کیا گیا تھا جن میں بتایاجارہاتھا کہ یہ بہار کے لوگوں پرتمل ناڈو کے لوگوں کا حملہ ہے لیکن حقیقتاً ایساکچھ نہیں ہوا اور تمل ناڈو میں بہاریوںکو مکمل تحفظ فراہم کیا جارہا ہے۔مجموعی طور پر حالا ت معمول پر ہیں۔بے بنیاد افواہ اور گمراہ کن خبریں پھیلانے والوں پر تمل ناڈو پولیس سخت کارروائی کر رہی ہے۔
کہاجارہاہے کہ لسانی عصبیت کو بنیادبناکر گمراہ کن افواہ پھیلانے والوں میں تمل ناڈو بی جے پی کے ریاستی لیڈر کے انا ملائی بھی ملوث ہیں جن کے خلاف پولیس نے مقدمہ درج کرلیاہے۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ کے اناملائی اس الزام کی تردید کے بجائے تمل ناڈو پولیس اور حکومت کو دھمکیاں دے رہے ہیں کہ ہمت ہے تو انہیں گرفتار کرکے دکھائے۔
تمل ناڈواور بہاریوں کے مابین لسانی عصبیت کو ہوا دینے میں بی جے پی کا کیاکردار ہے یہ تو غیر جانبدارانہ تفتیش کے بعد ہی پتہ چل پائے گا لیکن بی جے پی لیڈر کے اناملائی کے خلاف مقدمہ سے یہ تو طے ہے کہ لسانی عصبیت کایہ زہریلا دھواں زعفرانی خیمہ سے ہی نکلا ہے۔آج تمل ناڈو کے وزیراعلیٰ ایم کے اسٹالن نے یہ کہہ کر اس شبہ کو تقویت بھی پہنچادی ہے کہ شمالی ہند کی ریاستوں کے بی جے پی لیڈروں نے بدنیتی کے ساتھ تمل ناڈو میں مہاجر مزدوروں پر حملے کی افواہیں پھیلائی تھیں۔وزیراعلیٰ اسٹالن کا کہنا ہے کہ جیسے ہی انہوں نے بی جے پی کے خلاف قومی سطح کے اتحاد کی ضرورت کی بات کی، اس کے فوراً بعد ہی تمل ناڈو کے بارے میں افواہیں پھیلنے لگیں۔کچھ لوگوں نے جعلی ویڈیوز بنا کر جھوٹی خبریں پھیلائیں۔ شمالی ہند کی ریاستوں کے بی جے پی لیڈروں نے یہ کام خفیہ مقاصد کے ساتھ کیا۔
بی جے پی پر ایم کے اسٹالن کے اس بیان کو سیاسی الزام تراشی کہہ کر مسترد بھی نہیں کیاجاسکتا ہے۔کیوں کہ تمل ناڈوا ور بہار دونوں ہی ریاستوں میں غیر بی جے پی حکومتیں ہیں اور کانگریس حکمراں اتحاد میں شامل ہے۔ 2024 میں بی جے پی کے خلاف کانگریس کی قیادت میں بننے والے ممکنہ اتحاد میں جنتادل متحدہ، راشٹریہ جنتادل اور ڈی ایم کے کے ایک ساتھ آنے کا امکان ہے۔بی جے پی کی یہ شدید خواہش ہے کہ لوک سبھا انتخاب سے پہلے اپوزیشن کسی بھی حال میں متحد نہ ہو اور ایسے میںاس ممکنہ اتحاد کو بننے سے پہلے ہی سبوتاژ کرنے اور دونوں ریاستوں کے درمیان کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش بی جے پی کا سیاسی ہدف ہے۔ کچھ بعید نہیں کہ اقتدار کیلئے مذہبی عصبیت کو ہوا دینے والی بی جے پی نے ہی اپنے اس سیاسی ہدف کے حصول کیلئے لسانی عصبیت کا ہتھیار استعمال کیا ہو۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS