بی جے پی نے کشمیر کوایک تجربہ گاہ بنایا ،غیر مقامی لوگوں کو ووٹنگ کا حق دینا جمہوری اقدار کے خلاف:محبوبہ مفتی

0
Image: Outlook India

سرینگر(صریر خالد،ایس این بی) : جموں کشمیر میں غیر مقامی افراد کو ووٹنگ کا حق دئے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سابق وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھاجپا پر اپنے مفاد کیلئے ’’کشمیر کا استعمال کرنے‘‘ کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر ریاستی افرادکویہاں پر ووٹ کا حق دینا آئینی اور جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔ اْنہوں نے اس معاملے پر ایک کْل جماعتی میٹنگ بھی بلائی ہے۔آج یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران محبوبہ مفتی نے جموں کشمیر کے چیف الیکشن افسر کے اس بیان پر شدید ردِعمل کا اظہار کیا کہ جس میں اْنہوں نے جموں کشمیر میں 25 لاکھ تک ووٹروں کا اضافہ کئے جانے کا امکان ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہاں مقیم کسی بھی مزدور،طالبِ علم،ملازم وغیرہ کو بھی ووٹ کا حق حاصل ہوگا۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ یہ ایک سنجیدہ مسئلہ اور ’’ یہاں کی انتخابی جمہوریت کے تابوت میں آخری کیل ہے‘‘۔انہوں نے کہا ’’ میں نے اس سلسلے میں جموں و کشمیر کے سب سے سنیئر سیاسی لیڈر ڈاکٹر فاروق عبداللہ سے بات کرکے کْل جماعتی اجلاس طلب کرنے کی درخواست کی ہے تاکہ مستقبل کے لئے لائحہ عمل تیار کیا جاسکے‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی مْلکی مفاد کی بجائے اپنے سیاسی مفادات کے حصول کے لئے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2024 کے انتخابات کے بعد مْلک کے آئین کو بھی ہٹائے گی اور عجب نہیں ہے کہ ترنگے کی جگہ بھگوا جھنڈا لہرایا جانے لگے گا۔مْلکی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا ’’میں مْلک کے لوگوں سے کہنا چاہتی ہوں کہ جمہوری نظام کو مسخ کیا جا رہا ہے‘‘۔اْنہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر نے ایک جو ایک مْسلم اکثریتی ریاست ہونے کے باوجود جمہوری اور سیکولر (ہندوستان) مْلک کے ساتھ ہاتھ ملایا تھا لیکن یہاں کی جمہوری اقدار کو ختم کیا جا رہا ہے۔اْنہوں نے کہا کہ بی جے پی مْلک کو ہندو راشٹرا ہی نہیں بلکہ بی جے پی راشٹرا بنانا چاہتی ہیمحبوبہ مفتی نے کہا ’’بی جے پی غیر مقامی ووٹروں کو ووٹ ڈالنے کا حق دے کر یہاں کے انتخابات میں دھاندلی کرنا چاہتی ہے کیونکہ وہ سمجھ چکی ہے کہ وہ تین برس گذرنے کے بعد بھی یہاں کے لوگوں کا عزم توڑنے میں ناکام ہوئی ہے‘‘۔اْنہوں نے کہا’’ ایک طرف ڈی راڈیکلائزیشن پر بے تحاشا پیسہ خرچ کیا جارہا ہے اور دوسری جانب ایسے فیصلے لئے جاتے ہیں کہ جن سے نوجوانوں میں بنیاد پرستی کا عنصر مضبوط ہوجاتا ہے‘‘۔اْنہوں نے 1987 کے اسمبلی انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھاری دھاندلیاں نہیں کی گئی ہوتیں تو یہاں کے ،بصورتِ دیگر، امن پسند لوگوں نے بندوق نہیں اْٹھائی ہوتی اور ہم آج اس بات کا خمیازہ نہیں بھگت رہے ہوتے۔