نیا سال اور مسلمان!

0

محمد انس قریش

بہت جلد سال ِرواں رخصت ہونے والا ہے،اور پھر ۲۰۲۲ء کے عیسوی کیلنڈر کی شروعات ہوگی،وقت نہایت تیز رفتاری کے ساتھ گذررہا ہے،اور انسانی زندگی اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے، لہذا سال کا اختتام اور نئے سال کی شروعات خوشی و مسرت کا موقع نہیں ہے بلکہ احتسا ب ِ نفس اورموقعِ عبرت و نصیحت ہے، کیوں کہ زندگی کے اوقات میں اضافہ نہیں بلکہ کمی ہورہی ہے، آگے بڑھنے اور نئے عزم وحوصلہ کو پروان چڑھانے کی ضرورت ہے، لیکن یہ عجیب بات ہے کہ  تمام حقیقتوں کوجاننے کے باوجود نئے سال کا آغاز جشن وطرب کی محفلوں کو سجا کر اور اخلاق و شرافت کی حدوں کو پامال کر کے اور خواہشات و ارمانوں کا ناجائز طریقہ پر اظہارکرکے کیا جاتا ہے، اور بد تہذیبی کا طوفان برپا کیا جاتا ہے، رنگینیوں میں کھوکر اور مستیوں میں ڈوب کر نئے سال کو خوش آمدید کہا جاتا ہے۔ در اصل یہ نئے سال کا جشن عیسائیوں کاایجاد کیا ہوا ہے، عیسائیوں میں قدیم زمانے سے نئے سال کے موقع پر جشن منانے کی روایت چلتی آرہی ہے، اس کی ایک وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ان کے عقیدے کے مطابق ۲۵/دسمبر کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہوئی ، اسی کی خوشی میں کرسمس ڈے منایا جاتا ہے ، جس کی وجہ سے پوری دنیا میں جشن کی کیفیت رہتی ہے اور یہی کیفیت نئے سال کی آمد تک برقرار رہتی ہے۔ لیکن افسوس کہ آج غیروں کی دیکھا دیکھی میں نئے سال کی خوشی کے اظہار اور جشن کے اہتمام میں بہت سارے مسلمان بھی پیش پیش رہتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہمیں اپنی فکر اور ذمہ داری کو اور بڑھاناچاہیے تھا ، ہمیں پوری سنجیدگی کے ساتھ اپنی زندگی اور وقت کو منظم کرکے اچھے اختتام کی کوشش میں لگ جانا چاہیے تھا  اوراپنا محاسبہ کرکے کمزوریوں کو دور کرنے اور اچھائیوں کو انجام دینے کی کوشش کرنی چاہیے تھی ۔ لیکن افسوس صد افسوس اس کے برعکس ہوتا یہ ہے کہ عیسوی سال کے اختتام اور نئے سال کے آغاز پر غیروں کی طرح بہت سارے مسلمان بالخصوص نوجوان لڑکیاں اور لڑکے،دھوم دھام سے خوشیاں مناتے ہیں، آتش بازی کرتے ہیں، کیک کاٹتے ہیں اور ایک دوسرے کو نئے سال کی مبارک باد پیش کرتے ہیں پھراظہار مسرت کے اس بے محل موقع پر وہ جائز اور مناسب حدود سے نکل کر بہت سے ایسے کام بھی کرتے ہیں ؛جنہیں ایک عقلمند انسان اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتا، اور نہ ہی انسانی سماج کے لیے وہ کام کسی طرح مفید ہیں ؛بلکہ نگاہ بصیرت سے دیکھاجائے تو حد درجہ مضر ہیں ۔ مثال کے طور پر (۳۱)دسمبر اور یکم جنوری کے بیچ کی شب میں نئے عیسوی سال کے آغاز کی خوشی مناتے ہوئے جگہ جگہ قمقمے روشن کئے جاتے ہیں، رنگ بہ رنگی تقاریب کا اہتمام ہوتاہے، ناچنے گانے والیوں کو بلاکر رقص و سرود کی محفلیں جمتی ہیں اوران حرام کاموں پر بے تحاشہ پیسہ خرچ کیا جاتا ہے۔ بہت سارے نوجوان اس رات شراب وکباب کا جم کر استعمال کرتے ہیں اور اس غلط کام پر بھی بے دریغ پیسہ صرف کرتے ہیں،  اور وقت کا ضیاع کرتے ہیں ۔ لیکن اگر ہم شریعت مطہرہ کا مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہوگا اسلام میں نئے سال کی ابتداء پر یوں مرد و عورت کو  آزاد ہوجانے کی کوئی اجازت نہیں ہے  اور المیہ یہ ہے کہ آج ہم پر مغربی ثقافت کا ایسا رنگ چھایا ہے کہ ہم بھول ہی گئے کہ ہم نمازوں کو چھوڑ کر  سنت رسول چھوڑ کر غیروں کے طریقے اختیار کرنے لگے جبکہ آج سے چودہ سو سال پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ” مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْ“۔ (ابودوٴد ۲/۲۰۳) ترجمہ: جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ انھیں میں سے ہے۔لہذا مسلمانوں کو اس سے بچنے کی سخت ضرورت ہے؛تاکہ دوسری قوموں کی مشابہت سے بچا جاسکے؛  دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کو غیروں کی مشابہت سے بچائے اور آقائے نامدار جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت کی اتباع کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین

متعلم :- مدرسہ عربیہ تعمیر ملت دودھ پور علی گڈھ

 

آپ کے تاثرات
+1
1
+1
0
+1
0
+1
2
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here