چین سے مزید خبردار رہنے کی ضرورت

0

پروفیسر عتیق احمدفاروقی
چین کی سب سے بڑی سیاسی تقریب میں ان کے صدر شی جن پنگ کاخطاب کسی بادشاہ سے کم شاندار نہیں تھا۔خالص شاہی اندازمیں انہوںنے پیغام دیا کہ اہم مسئلوں پر پیچھے مڑنے کاان کاکوئی ارادہ نہیں ہے۔ ان میں زیرو کووڈ پالیسی سے لیکر تائیوان، رشوت خوری مخالف مہم اورچینی کنٹرول میں موجود مذاہب جیسے متعدد خصوصی ایجنڈے شامل ہیں۔ اِن پر دوٹوک بیان سے اُن کافیصلہ واضح ہے کہ اُن کے طے شدہ اہداف پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں اوروہ چین کو اسی سمت میںلے جاناچاہتے ہیں۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ وہی چین کو نئے دور میں لے جائیں گے۔ تیانمن چوک میں واقع ’دی گریٹ ہال آف دی پیوپل ‘نے کمیونسٹ پارٹی کانگریس میں دوہزار سے زیادہ نمائندوں کے روبرو قریب دوگھنٹے چلی شی کی تقریر خصوصاً اِنہیں نکات پر مبذول تھی۔ چونکہ وہ لگاتار تیسری مدت کار سنبھالنے جارہے ہیں تووہ ماؤجیسے تنگ سے قدآور رہنماؤں کی صف میں شامل ہوگئے ہیں۔ اب سب کی نظراُن کے پانچ سال کے مستقبل کے ایجنڈے پر ہوگی جس کے مرکز میںچینی قوم کی شاندار نئی تصویر جہاں پر ہرشعبہ میں انقلابی اقدام کرنے کامنصوبہ ہے، منظرعام پر ابھرے گی اورجس کے ذریعے وہ اپنی وارثت کو قوت بخشیںگے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ چینی کمیونسٹ پارٹی قیادت خصوصاً شی کیلئے تیوان سے زیادہ اہمیت کا کوئی اورمدعہ نہیں ہے۔ انہیں سب سے زیادہ شاباشی چین کے اتحاد کا عمل اوراُن کے انقلابی اقدام پر ہی ملی۔ انہوں نے کہاکہ تاریخ کا پہیا اِسی سمت میں گھوم رہاہے اوربناکسی شک وشبہات کے ملک کے مکمل اتحاد کے ہدف کو پورا کیاجائے گا۔ اپنی تقریر کی شروعات میں ہی وہ اس مدعے پرآگئے جو اس معاملے کی اہمیت اوران کی ترجیح کا آئینہ دار ہے۔انہوں نے کہا کہ چین سے علاحدگی میں جٹی علاحدگی پسند طاقتوں کی فعالیت کے باوجود ان کی حکومت تائیوان میں علاحدگی پسندی اوربیرونی مداخلت سے نمٹنے کو لیکر ڈٹی رہی۔ شی نے اِسی بات کی نشاندہی کی کہ اس معاملے میں کوئی ڈھیل نہیں دی جائے گی اورکسی بھی طرح کے احتجاج سے سختی سے نمٹاجائے گا۔ تائیوان کی آزادی کی مخالفت اوراپنی قومی خودمختاری اورجغرافیائی اتحاد کو لیکر انہوں نے کہاکہ ’’نئے دورمیں تائیوان کے مدعے کو سلجھانے کیلئے ہمیں جامع حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنا،اُس کے ساتھ باہمی تعاون بڑھانا،تائیوان کی آزادی کی مضبوط مخالفت ،بیرونی طاقتوں کی پرزورمدافعت اورتائیوان صوبے میں ترجیحی بنیاد پر اقدام کرنا اوراقتدار پر پکڑ بنائے رکھنا ہے۔ ‘‘
جن پنگ نے اس بات کو بھی یقینی بنایا کہ ان کی بات نہ صرف ان کے حامیوں بلکہ ’تائپے‘تک بھی پہنچ جائے۔ انہوں نے پرامن اقدام کی جملے بازی کے ساتھ ہی سبھی ضروری پیش قدمی کرنے کی بات بھی دُہرائی۔تائیوان صوبے کی حالیہ کشیدگی کو دیکھتے ہوئے یہ بات واضح ہے کہ چین کی عالمی شناخت میں تائیوان کا کردار کتنا اہم ہوگیاہے چاہے بات گھریلو پالیسی کی ہو یا خارجہ پالیسی کی ہو۔ تائیوان پر توجہ مبذول کرنے کے ساتھ وہ نہ صرف جارحانہ تائیوان پالیسی کیلئے گھریلو سیاسی حمایت حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں بلکہ کسی ممکنہ بحران کی حالت میں باہر نکلنے کی راہ بھی مشکل بنارہے ہیں۔ ویسے تو شی نے دنیا کو بارہا یاددلایاہے کہ چینی فوج تائیوان کو ملنے والی کسی بھی بیرونی تعاون کو روکنے کے اہل ہے، لیکن یہ واضح ہوتاجارہاہے کہ اب اس مدعے پر اُن کے صبر کا پیمانہ لبریزہوچکاہے۔ پارٹی کانگریس سے نکلا پیغام واضح ہے کہ تائیوان پر چینی دباؤ میں اضافہ ہوگااورتائیوان کا حوصلہ توڑا جائے گا۔
شی کی تقریر پر تائپے نے سخت الفاظ میں ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ،’’تائیوان کا رخ پختہ ہے کہ قومی خود مختاری پر پیچھے نہیں ہٹاجائے گا، جمہوریت اورآزادی سے کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگااورجنگ تودونوں ہی فریقین کیلئے کوئی متبادل نہیں‘‘۔اِسے تائیوانی عوام کیلئے عمومی اتفاق رائے بتایاگیاہے۔ تائیوان کے وزیراعظم سینگ چینگ نے کہا کہ شی جن پنگ کو ہمیشہ تائیوان کے ساتھ سختی سے نمٹے کے بجائے اپنے ملک میں چل رہے احتجاج ومظاہرے پر توجہ دینی چاہیے۔ قابل ذکر ہے کہ گزشتہ دنوں بیجنگ میںدو بڑ ے جھنڈوں کے ساتھ مظاہرہ کیاگیاجس میں ’زیرو کوڈپالیسی ‘کو ختم کرنے اورشی جن پنگ کواقتدا رسے ہٹانے کامطالبہ کیاگیاتھا۔ دراصل تائیوان کے ساتھ چین کے روابط تلخ دور سے گزررہے ہیں کیونکہ چینی کمیونسٹ پارٹی کو محسوس ہورہاہے کہ ’پرامن اتحاد ‘کیلئے وقت ہاتھ سے نکلتاجارہاہے۔ وہیں تائیوان کے رویہ میں نسلی تبدیلی آرہی ہے۔ بیجنگ کے تلخ رد عمل سے چین -تائیوان میں دوریاں مزید بڑھ رہی ہیں۔ شی نے بھلے ہی’ ایک ملک دوحکومت‘کاداؤں چلتے ہوئے کہا ہو کہ یہ ہانگ کانگ اورمکاؤ کیلئے سب سے بہترین ادارہ جاتی مشین ثابت ہوئی ہے اوراُس کی آڑ میں تائیوان کو محبان وطن کے ذریعے حکومت کا وسیع خود مختار علاقہ کا سبز باغ دکھایاہو،لیکن تائیوان میں کوئی بھی نہیں چاہتا کہ وہاںہانگ کانگ جیسے حالت پیدا ہوں۔۔ چینی صدر نے ظاہر تو یہی کیاہے کہ تائیوان اُن کی عالمی فعالیت کا اہم ترین مرکز بنارہے گا،لیکن یہ وقت ہندوستان سمیت باقی دنیا کیلئے شکل لے رہے واقعات کے مخصوص اثرات کا سنجیدگی سے تجزیہ کرنے کاہے۔ ہندوستان اس کو نظرانداز نہیں کرسکتاکہ ’دی گریٹ ہال آف دی پیوپل‘ میں گلوان میں ہوئے تصادم کے ویڈیو فٹیج دکھائے گئے ۔دراصل تائیوان کے تئیں بیجنگ کی پالیسی تو ایک بڑے مسئلے کی محض ایک علامت ہے۔ یہ بیماری ہے شی جن پنگ کا سامراج واد سے لگاؤ۔ موجودہ صورت حال میں یکطرفہ تبدیلی کی ان کی یہ خواہش صرف تائیوان تک ہی محدود نہیں رہے گی۔ یہ ان کے سامراجی منصوبوں کا سب سے واضح اظہار ہے ۔ ہندوستان سے بحرجنوب چین اوربحر مشرق چین بھی بہت زیادہ دورنہیں ہیں۔ اِسی سبب تائیوان کے ساتھ یکجہتی کااظہار وقت کی ضرورت ہے۔
qqq