نعت رسول ﷺ

0

دل سے کرتا ہوں میں اقرار رسولِ عربیؐ
آپ ہیں سیّد ابرار رسولِ عربیؐ
کہہ رہی ہے یہ سسکتی ہوئی انسانیت
آپ ہیں مونس و غمخوار رسولِ عربیؐ
ہر مسلماں یہی ارمان لئے بیٹھا ہے
دیکھ لوں آپ کا دربار رسولِ عربیؐ
ظلمتِ کفر ہوئی دہر میں رقصاں جس دم
ہوگئے آپ نمودار رسولِ عربیؐ
آپ ہی میری شفاعت کا وسیلہ ہوں گے
حشر میں احمد مختار رسولِ عربیؐ
سچ ہے دربار نبیؐ دیکھ چکا ہوں پھر بھی
آنکھیں ہیں طالب دیدار رسولِ عربیؐ
آگیا پھر سے قمرؔ آپ کے در پر واللہ
ہے کرم آپ کا درکار رسولِ عربیؐ
قمر سیتاپوری ، یوپی

 

ناموں میں اچھا نام مرے مصطفیٰ کا ہے
کاموں میں اچھا کام مرے مصطفیٰ کا ہے
دنیا کے ہر نظام کو آنکھوں سے دیکھ لو
بہتر ہے جو نظام مرے مصطفیٰ کا ہے
مکّے کی سر زمیں سے جہاں میں ہے روشنی
نو ری بھرا پیام مرے مصطفیٰ کا ہے
اللہ کے بعد آپ ؐ کو حاصل ہے مرتبہ
اعلیٰ ہے جو مقام مرے مصطفیٰ کا ہے
انگلی کے اِک اشارے سے چیریں ہیں چاند کو
یہ معجزہ بھی عام مرے مصطفیٰ کا ہے
غصے کو جو بھی ضبط کرے صبر بھی کرے
دو گھونٹ کا وہ جام مرے مصطفیٰ کا ہے
داخل ہوا جو دین میں اور راہِ حق چلا
وہ شاذؔ خود غلام مرے مصطفیٰ کا ہے
خطاب عالم شاذؔ ،24پرگنہ

 

یہ مرتبہ علی کا نبیؐ کا جمال ہے
خود بی بی عائشہ کو علیؓ کا خیال ہے
سجدہ کا حکم رب نے فرشتوں کو دے دیا
اُن کے مقام کا تو خدا کو خیال ہے
انگلی کے اک اشارے سے شق ہوگیا قمر
یہ تو رسول پاک کا ادنیٰ کمال ہے
مثل نبی وہ کون تھا بستر پہ رات بھر
عشق نبیؐ کی دنیا کو زندہ مثال ہے
شیر خدا کی ضرب سے خیبر اکھڑ گیا
دین خدا میں عشق علی کا کمال ہے
دولت کدہ سے خالی سوالی نہ جائے گا
ان کی عنایتوں سے یہ دنیا نہال ہے
ضیاء قادری اجمیری، حیدرآباد

 

خدالکھ دے مرا دانہ اگرطیبہ کی گلیوںمیں
توساری زندگی کردوں بسرطیبہ کی گلیوںمیں
رخ انوارکے دیدار کی حسرت لئے دردر
بھٹکتی ہے مری پیاسی نظرطیبہ کی گلیوںمیں
جدھردیکھو ادھررحمت ہی رحمت کی گھٹائیں ہیں
برستانور ہے شام وسحر طیبہ کی گلیوںمیں
جمال مصطفی کی بھیک لینے کے لئے شب بھر
اترتے ہیں ستارے فرش پر طیبہ کی گلیوںمیں
چراغِ عشق احمدکو بجھانا غیرممکن ہے
ہواس بات سے ہے باخبرطیبہ کی گلیوںمیں
فرشتے کہہ رہے تھے آدمی کیاہے شمیم انجم
خدا خودآج تک ہے جلوہ گرطیبہ کی گلیوںمیں
شمیم انجم وارثی، مغربی بنگال

 

تصور میں طیبہ نگر دیکھتے ہیں
نصیب اپنا ہم اوج پر دیکھتے ہیں
ہر ایک ذات خوابوں کی دنیا ہے روشن
نگاہوں سے طیبہ نگر دیکھتے ہیں
وہ راتوں کو اٹھ اٹھ کے روتے رہے ہیں
ہے اُمت کی کتنی خبر دیکھتے ہیں
لبوں پہ ہے صلے علیٰ کا ترانہ
مدینہ ہے عزمِ سفر دیکھتے ہیں
حسن اور حسین ہیں نبی کے دلارے
علی فاطمہ کے گہر دیکھتے ہیں
جو ہے سامنے روضہ آقا کا علویؔ
مقدر سے نورانی در دیکھتے ہیں
محمد علی علوی،کھدرا، لکھنؤ