نعت رسول ﷺ

0

رہبر اُمت اللہ اکبر صلی اللہ علیہ وسلم
روشن روشن چہرہ انور صلی اللہ علیہ وسلم
من کا درپن کھول رہے ہیں ایسی بھاشا بول رہے ہیں
رحمت کا دُنیا کا عنبر صلی اللہ علیہ وسلم
کتنا پیارا کتنا سندر، رحمت کا بھر پور سمندر
موجیں بولیں اللہ اکبر صلی اللہ علیہ وسلم
آئو جنم کا جشن منائیں ہم بھی درپر شیش جھُکائیں
آپ کے در پر جھکتا ہے امبر صلی اللہ علیہ وسلم
بیچ بھنور میں کس کا سفینہ کون کہے دشوار ہے جینا
اُن کا سفینہ وہ ہی سمندر صلی اللہ علیہ وسلم
ذرہ ذرہ اُن کی خاطر اللہ خود ہی فرماتا ہے
اللہ کے محبوب پیمبر صلی اللہ علیہ وسلم
مانگ رہا ہے خواجہ کے در پر چشم کرم ہو اپنے ضیاءؔ پر
ذکر تمہارا اُس کے لب پر صلی اللہ علیہ وسلم
ضیاء قادری اجمیری، حیدرآباد
٭٭
دنیا ہے ایک دشت ، تو گلزار آپ ہیں
اس تیرگی میں، مطلع انوارآپ ہیں
ہولاکھ آفتاب قیامت کی دھوپ تیز
میرے لیے تو سایہ دیوار آپ
یہ فخر کم نہیں کہ میں ہوں جس کی گردِ رہ
اس قافلے کے قافلہ سالار آپ ہیں
مجھ کو کسی سے حاجت چارہ گری نہیں
ہرغم مجھے عزیز کہ غم خوار آپ ہیں
ہے میرے لفظ لفظ میں گر حسن و دلکشی
اس کایہ راز ہے،مرا معیار آپ ہیں
انسان مال و زر کے جنوں میں ہیں مبتلا
اس حشر میں ندیم کو درکار آپ ہیں
احمدندیم قاسمی
٭٭
ہے، قسم اللہ کی وہ خلد کا حقدار ہے
سنتِ شاہِ مدینہ کا جو پیرو کار ہے
لاکھ یہ آسائش و خوشحالی سے سرشار ہے
جو نہیں عشقِ نبی تو زندگی بیکار ہے
چاند سورج اور چراغ و جگنو تارے ہی نہیں
ذرہ ذرہ آمدِ آقا سے جلوہ بار ہے
رات دن روتے رہے جو فکرِ امت میں نبی
اس لئے میرے خدا کو آنسوں سے پیار ہے
اے خدا اے آرزوئیں پوری کرنے والے رب
تجھ سے شہرِ مصطفے میں موت کا اصرار ہے
اس نے توبہ اور درود پاک کی کثرت ہے دی
آپ کا یہ عشق تو آقا بہشت آثار ہے
دھڑکنیں دل کی ہیں کہتی ربِ ھب لی امتی
آپ کو ہم عاصیوں سے آقا اتنا پیار ہے
چہرہ گیسو قد و قامت ہیں سبھی کچھ بے مثال
یعنی ذاتِ مصطفے قدرت کا اک شہکار ہے
سجدے کو دیتے رہیں گے طول بخشش ہونے تک
اس قدر ہم سے محبت آپ کو سرکار ہے
ذکی طارق بارہ بنکوی
٭٭
سرورِ انبیاء کی باتیں کر
رشکِ خلقِ خدا کی باتیں کر
فخرِ ارض و سما کی باتیں کر
خلق کے رہنما کی باتیں کر
ان کی فکرِ رسا کی باتیں کر
اور اک اک ادا کی باتیں کر
جن سے پائے گا تُو پتہ رب کا
اُس حبیبِ خدا کی باتیں کر
دل مصفّا ہوں نور سے جن کے
کعبہء با صفا کی باتیں کر
ذکر سے جن کے راہ روشن ہو
ایسے نور الہدیٰ کی باتیں کر
ربّ ھب لی صدا رہی جن کی
تُو اسی پیشوا کی باتیں کر
جو مدینے میں ہیں سخی داتا
ان کی دست ِ سخا کی باتیں کر
نام روشن ضمیرؔ لے اُن کا
تُو سدا مصطفی کی باتیں کر
روشن ضمیرؔکولکتہ