آنگ سان سوچی کو مزید 3 سال قید کی سزا سنا دی گئی

0

نیپیداؤ (یو این آئی) : میانمار کے دارالحکومت نیپیداؤ کی ایک عدالت نے ملک کی معزول رہنما آنگ سان سوچی کو رشوت لینے کے الزام میں تین سال قید کی سزا سنائی ہے۔ نیوز پورٹل ایاروادی نے رپورٹ کیا کہ عدالت نے میانمار کی سیاست دان کے خلاف نیپیداؤ سینٹرل جیل کے علاقے میں منعقدہ ایک نجی سماعت میں فیصلہ سنایا، جہاں وہ اپنی سزا کاٹ رہی ہیں۔ انہیں رشوت لینے کے دو الزامات کا مجرم پایا گیا اور ہر ایک کیس میں تین سال کی سزا سنائی گئی، جو کہ ایک ساتھ پوری کی جائے ۔ ان کے خلاف رشوت ستانی کے الزامات کا تعلق 2018-2019 میں متعدد تاجروں کی جانب سے ان کی والدہ اور جنرل آنگ سان کی اہلیہ مہا تھری تھڈما کھن کی کے نام سے ایک خیراتی فاؤنڈیشن میں مبینہ طور پر رقم کی منتقلی سے ہے ۔سوچی کو 1991 میں امن کا نوبل انعام ملا تھا اور وہ فروری 2021 تک میانمار کی وزیر اعظم کے مساوی ریاستی کونسلر تھیں، جس کے بعد فوج نے ملک میں اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ جنتا نے سوچی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا اور انہیں اس وقت کے صدر ون مائنٹ کے ساتھ گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔ آج کی سزا کے ساتھ وہ کل 26 سال جیل میں گزاریں گی۔