حکومت اور اپوزیشن کے مابین باہمی مفاہمت ناگزیر

جمہوریت کی بقا کیلئے

0

خواجہ عبدالمنتقم

کسی بھی جمہوری ملک میں جمہوریت کی بقا کے لیے برسر اقتدار جماعت اور حزب اختلاف کے مابین خوشگوار تعلقات اور باہمی مفاہمت اور ایک دوسرے کا احترام ناگزیر ہے اور دونوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ پارلیمانی ضابطۂ اخلاق میں درج ہدایات پر ایمانداری سے عمل کریں۔ اگر ایک جانب اپوزیشن کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ حکومت وقت کو اس کی لغزشوں سے آگاہ کرے، کسی بھی شعبۂ حیات میں ممکنہ خطرات سے باور کرائے اور ان سے نمٹنے کے لیے مثبت سجھاؤ دے تو دوسری جانب برسر اقتدار جماعت اور حکومت کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اسے محض Microscopic minority یعنی انتہائی قلیل تعدادی اقلیت سمجھ کر اور یہ سمجھ کر کہ اگر اس کی بات ان سنی بھی کر دی جائے تو بھی حکومت کے استحکام پر کوئی آنچ آنے والی نہیںاسے نظر انداز کردے اور اس کی صدا کی حیثیت نقار خانہ میں طوطی کی آواز یا اس مرغ شب آویز جیسی ہوجائے جو رات بھر ایک ٹانگ پر کھڑا رہتا ہے اور طلوع آفتاب تک حق حق کی صدا بلند کرتا ہے۔
پارلیمنٹ ہو یا اسمبلیاں ہمارے منتخب نمائندوں اور اصحاب منصب کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ پارلیمانی روایات کی ان دیکھی کریں۔ اگر کوئی منصب دار اس طرح کی روش اختیار کرتا ہے تواس کے بارے میں یہی کہا جائے کہ ’او شایستگی این مقام ندارد‘ یعنی وہ اس منصب کا اہل نہیں ہے یا اس منصب کی قابلیت نہیں رکھتا مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ ایسی صورت حال کیوں پیدا ہوتی ہے؟ کسی ملک میں جمہوریت کے معیارکی پیمائش کے لیے عالمی پیمانے پر تسلیم شدہ پیمانوں میں سے ایک پیمانہ یہ بھی ہے کہ وہاںسیاست، سیاسی سرگرمیوں اور جمہوری اداروں میں سب کی شمولیت ہو۔ ایسا نہ ہو کہ برسر اقتدار جماعت اور حزب اختلاف معدودے چند افراد کی ہی اجارہ داری ہو کر رہ جائے۔
ہماری پارلیمنٹ میں اکثر ہنگامہ آرائی اس وقت ہوتی ہے جب اپوزیشن کی بات نہیں سنی جاتی اور ناراض اراکین ویل تک چلے جاتے ہیں۔ ویل وہ مقام ہے جہاں ہمارے نمائندے اپنے عہدے کا حلف لیتے ہیں۔ یہ مقدس مقام پرسکون صورت حال میں خالی رہتا ہے۔ اس کے بارے میں لوک سبھا کے سب سے کم عمر سابق اسپیکرجی ایم سی بال یوگی نے کہا تھااور صحیح ہی کہا تھا:
“All is well if it does not end in Well.”
جس طرح عام لوگ حق احتجاج کا استعمال کرتے ہوئے قانون شکنی کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں، اسی طرح ہمارے پارلیمنٹ کے ارکان بھی اپنی ناراضگی کا اظہار کرنے کے لیے ویل تک چلے جاتے ہیں اور اس کے لیے انھیں تادیبی کارروائی کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے اور انھیں حسب صورت، راجیہ سبھا کے اراکین کے لیے ضابطۂ اخلاق اور اسٹینڈنگ کمیٹی برائے اخلاقیات، کی رو سے معطلی کی شکل میں سزا بھی بھگتنی پڑتی ہے۔ دیگر جمہوری ممالک بشمول امریکہ و جرمنی میں بھی اس طرح کے قواعد و ضوابط موجود ہیں۔ ’وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں بدلیں‘ کے مصداق اپوزیشن اپنے اسم بامسیٰ ہونے کی صداقت کا ثبوت دیتے ہوئے ایسی صورت حال میں جب انتظامیہ کچھ معاملات میں اپنے فرائض کی انجام دہی میں کوتاہی برتے اور شہریوں کے آئینی حقوق کا تحفظ کرنے میں ناکام رہے تو اپوزیشن اپنی آواز بلند کرے گی ہی۔ ویسے بھی حق احتجاج ہمارے آئین کے تحت ایک بنیادی حق ہے بشرطیکہ اس کا استعمال آئین کی حدود میں رہتے ہوئے کیا جائے۔ یہ مانا کہ دفعہ118(1) کے تحت پارلیمنٹ کا ہر ایک ایوان اپنے طریق کار اور اپنے کام کے انضباط کے لیے قواعد بنا سکتا ہے مگر ایسے قواعد آئینی التزامات کے تابع ہوں گے اور صدر راجیہ سبھا کے چیئرپرسن اور لوک سبھا کے اسپیکر سے صلاح کرنے کے بعد ہی ایسے قواعد بنا سکتے ہیں۔
جہاں عدالت کو شہریوں کے حقوق کا کسٹوڈین یا محافظ مانا جاتا ہے وہاں بقول سابق سپریم کورٹ جج کرشنا ایر انتظامیہ سے بھی یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ایسی صورت حال پیدا نہ ہونے دے کہ رکشک(محافظ) کو بھی بھکشک(قانون شکن) کہنا پڑ جائے۔پارلیمنٹ کی کارروائی بار بار معطل کرنے اور ہاؤس میں ہنگامہ آرائی کے سبب گزشتہ کئی سالوں میں پارلیمنٹ کی قوت تخلیق میں کافی کمی آئی ہے یا بہت سے فیصلے بحالت مجبوری جلد بازی میں لیے گئے ہیں ۔
پارلیمنٹ میں بار بار ہنگامہ آرائی سے نہ صرف ایوان کا قیمتی ومحدودوقت ضائع ہوتا ہے بلکہ کروڑوں روپے کا مالی نقصان بھی ہوتا ہے۔ دریں صورت متذکرہ بالا تادیبی قواعدو ضوابط کا استعمال نیک نیتی و غیر جانب داری سے کیا جانا چاہیے نہ کہ اپوزیشن کی آواز کو دبانے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر۔ ویسے بھی ہر آئینی منصب دار اپنا عہدہ سنبھالتے وقت اس بات کا حلف اٹھاتا ہے کہ وہ اپنے فرائض منصبی وفاداری سے انجام دے گا اور حتی المقدور آئین اور قانون کو برقرار کھے گا اور اس کی حفاظت ومدافعت کرے گا اور لوگوں کی خدمت اور فلاح و بہبود کے لیے اپنے آپ کو وقف کردے گا۔اپوزیشن کو بھی چاہیے کہ وہ ہاؤس میںارباب حکومت کی توجہ صرف ان امور کی جانب مبذ ول کرائے جن کا تعلق مفاد عامہ سے ہونہ کہ صرف سرکار اور برسر اقتدار جماعت کو نشانہ بنانے کے لیے۔صرف یہی نہیں بلکہ کسی بھی جانب سے دوران بحث غیر پارلیمانی الفاظ و اصطلاحات کا استعمال نہ کیا جائے جن کا استعمال کرنا لوک سبھا سکریٹریٹ کی شائع کردہ 900صفحات پر مشتمل کتاب ‘Unparliamentary Expressions’ (غیر پارلیمانی اصطلاحات) کی رو سے ممنوع ہے۔ہندوستان جیسے مہذ ب ملک میں جس کی سلامتی کونسل کا کسی بھی وقت رکن بننا نوشتۂ دیوار ہے معدودے چند لوگوں کے ذریعہ اس قسم کی زبا ن کا استعمال نہ صرف اخلاقی بد اطواری ہے بلکہ کسی بھی طرح قرین مصلحت نہیں۔پارلیمنٹ سکریٹریٹ کی اس اشاعت میںبدمعاش، غنڈہ، رنڈی وغیرہ جیسے بہت سے الفاظ کو اس فہرست میں غیرشائستہ اصطلاحات کے درجے میں رکھا گیا ہے۔ اسی طرح برطانیہ میں جس کی روایات اور قوانین ہمیں ورثے میں ملے ہیں وہاں بھی جھوٹا، بزدل، غداروغیرہ الفاظ استعمال کرنے کی اجازت نہیں۔ دیگر ممالک میں اس طرح کے ممنوع الفاظ کی ایک طویل فہرست ہے ۔ وقت کا تقاضا ہے کہ جو کچھ ہوچکا اسے درگزر کرتے ہوئے گزشتہ را صلوٰۃ آئندہ را احتیاط کے مصداق آنے والے وقت میں تمام متعلقین اپنی زبان پر قابو رکھیں اور ہنگامہ آرائی کی نوبت نہ آئے۔
موجودہ صورت حال میں اس مسئلہ کا حل یہ ہو سکتا ہے کہ برطانوی پارلیمانی روایت کی طرز پرپارلیمنٹ کا ایجنڈا طے کرنے کے لیے کچھ دن اپوزیشن کے لیے مختص کر دیے جائیں تا کہ انھیں امتیازی رویے کی شکایت کا موقع نہ ملے۔
(مضمون نگار آزاد صحافی،مصنف و سابق بیوروکریٹ ہیں۔ وہ این سی پی یو ایل کے لاء پینل کے رکن بھی ہیں اورامیٹی یونیورسٹی میں وزیٹنگ پروفیسر رہ چکے ہیں)

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
2
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here