بن کے خیرالورٰی آ گئے مصطفٰی

0

محمد صلی اللہ علیہ وسلم جس مہینے میں پیدا ہوئے، وہ مہینہ ہے ربیع الاول کا ہے، اور ربیع الاول عربی زبان کا لفظ ہے، ربیع کہتے ہیں بہار کو اور الأول بمعنی پہلا، جسکا مطلب ہے پہلی بہار، اور قاعدہ ہے کہ بہار جب آتی ہے تو کلیاں مسکراتی ہیں، بہار جب آتی ہے تو پھول کھلتے ہیں، بہار جب آتی ہے تو بلبل گنگناتی ہے، بہار جب آتی ہے سبزے لہلہاتے ہیں۔
اسکے علاوہ بہار اس وقت آتی ہے جب پہلے خزاں ہو، فطرت کا قاعدہ جب اندھیری شب عین شباب پر چلی جائے، تو اللہ صبح صادق کو بھیجتا ہے، اسی طرح جب خزاں پت جھڑ لگا دے، یا جب خزاں گلستاں کو ویران کردے تو اللہ بہار کو بھیجتا ہے۔
عرب کی تپتی ہوئی وادیوں میں کفر خزاں تھا، شرک خزاں تھا، ظلمت خزاں تھی، تو اللہ نے سیدہ آمنہ کے آنگن میں صدا بہار پھول کھلا دیا اور اعلان کرا دیا کہ بیواؤں کو کہہ دو تمہارے سروں پہ ڈوپٹہ رکھنے والے محمد آگئے ہیں، یتیموں کو کہہ دو تمہارے سروں پہ ہاتھ پھیرنے والے محمد آگئے ہیں، گناہ گاروں کو کہہ دو گناہوں سے نکال کر تمہیں راہ راست پر لانے والے محمد آگیے ہیں، اجڑے ہوئے کو کہہ دو تمہارے گھروں کو بسانے والے محمد آگیے ہیں، خستہ لوگوں کو کہہ دو تمہیں خوشی دینے والے محمد آگئے ہیں۔
قارئین! آقا کی ولادت ہو چکی، میلادالنبی کا اعلان ہوچکاہے۔ ساری دنیا مستی سے جھوم رہی ہے، وہ لڑکیاں جنھیں ذندہ درگور کردیا جاتا تھا وہ بھی خوشی کے مارے پکار اٹھیں، کہ آگیا، آگیا ہمیں سہارا دینے والا آگیا۔

سہارا سارے جہاں کا حبیب رب الانام آیا،
ستارے سارے چلے گئے ہمارا ماہ تمام آیا،
رسول سارے قطار باندھے کھڑے ادب میں ہیں انکے پیچھے،
نہ کوئی ایسا امام آیا، نہ کوئی ایسا رسول آیا۔

معزز قارئین! حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دو میلاد ہیں، ایک جسمانی میلاد ہے اور دوسرا روحانی میلاد ہے۔
میلاد جسمانی آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کا اس دنیا میں تشریف لانا ہے، اور میلاد روحانی آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کا چالیس سال کی عمر میں نبی بنایا جانا ہے۔
حضرت آقا صلّی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش پر جمال ظاہر ہوا اور چالیس سال کی عمر میں کمال ظاہر ہوا‌۔
جب آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کی جسمانی ولادت ہوئی تو آپ محمد بن عبداللہ تھے لیکن جب آپ کی روحانی ولادت ہوئی تو آپ محمد رسول اللہ بنے۔
ہمارے یہاں آج میلاد کے جلسوں میں ایک پہلو تو بہت اچھا ہے کہ صورت کے آنے پر اور آپ کے جمال کے ظاہر ہونے پر بہت اچھے اچھے واقعات کا ذکر کیا جاتا ہے، لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی بنائے جانے کے بعد، آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے ظاہر ہونے کے بعد جو انقلابی زندگی ہے جس سے اصل پیغام ملتا ہے، اسکا تذکرہ نہیں کیا جاتا‌۔
اسمیں کوئی شک نہیں کہ اماں جان حضرت آمنہ نے آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کا بوجھ محسوس نہیں کیا، ولادت پر کوئی مشقت نہیں ہوئی، بدبو کا کوئی تصور نہیں ہوا بلکہ آپ جس کمرے میں پیدا ہوئے اس کمرے سے خوشبو پھوٹ رہی تھی۔
اسمیں بھی کوئی شک نہیں کہ بچپن میں آپ کا ستر کسی نے نہیں دیکھا، اور حضور نے حلیمہ سعدیہ کے ایک ہی جانب سے دودھ نوش فرمایا تاکہ انکے رضاعی بھائی کے ساتھ ناانصافی نہ ہوجائے۔
جب حضرت حلیمہ نے آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کو اپنے کوڈ میں لیا تو بے شمار برکتیں ظاہر ہوئی، آپ کی دبلی پتلے اونٹنی چست ہوگئی، جہاں پر حضرت حلیمہ کے جانور چرتے تھے وہاں پر ہریالی بھی ہوگئی، غرض یہ کہ آج میلاد کے جلسوں میں صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسمانی ولادت ہی پر خاص طور سے روشنی ڈالی جاتی ہے، جسمانی ولادت کے وقت جو برکتیں نازل ہوئی اسی کو بیان کیا جاتا ہے اور روحانی ولادت پر کوئی بات نہیں ہوتی جبکہ اصل یہی تھا کہ روحانی ولادت پر بات کی جائے، آپ کے فرمان کو پڑھایا جائے، آپ کے اقوال پر عمل کیا جائے۔
قارئین! میلاد روحانی کا ایک پہلو یہ ہے کہ اس بات پر روشنی ڈالی جائے اور امت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملات کے بارے میں بتلایا جائے، کہ آپ کے معاملات کیسے تھے، لہذا ہمیں بھی ویسا کرنا ہے، معاشرت کیسی تھی، آپ کے اخلاق کیسے تھے، ہمیں بھی ویسا اخلاق اپنانا ہے، آپ کا برتاؤ چھوٹوں اور بڑوں کے ساتھ کیسا تھا، ہمیں بھی ویسا کرنا ہے، آپ کے قرض لینے اور دینے کا کیا طریقہ تھا، آپ کا اپنی بیٹیوں اور داماد کے ساتھ کیسا برتاؤ تھا، آپ کا اپنے رشتے داروں کے ساتھ معاملہ کیسا تھا، آپ کی گھریلو زندگی اور آپ کی تربیت کا انداز کیسا تھا، آپ کی داعیانہ اور تاجرانہ زندگی کیسی تھی۔ ہمیں بھی ویسا ہی کرنا ہے۔
روحانی ولادت کا یہ پیغام ہے کہ جسے ساری امت تک پہنچانا ضروری ہے۔
چنانچہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکت سراپا مجموعۂ صفاتِ حمیدہ ہے۔
لیکن آنحضرتؐ کی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو، جس پہلو کا تعلق ولادت جسمانی و روحانی دونوں کے ساتھ ہے،اور وہ ایک ایسا پہلو ہے جس نے دوست و دشمن سب کو اس بارگاہ خیر و حسن میں سرنیاز خم کرنے پر مجبور کر دیا، وہ پہلو ہے آپؐ کے اخلاق کریمانہ ۔
جسے قران کریم نے ’’خلق عظیم‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔

جسے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کان خلقہ القرآن کہہ کر قرآن پاک کی عملی تعبیر و تفسیر قرار دیا ‌ہے۔
جسے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے “انما بعثت لاتمم مکارم الاخلاق” (کہ مجھے مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے) کہہ کر بتلایا ہے۔

قارئین! اخلاق کا لفظ ذہن میں آتے ہی ایک ایسا خاکہ ابھر کر سامنے آجاتاہے کہ جس کو ہر آدمی اپنانے کی کوشش کرتا ہے، کیونکہ اخلاق انسان کاایک ایسا جز ہے کہ جس کے اندر یہ صفت پائی جاتی ہے تو سمجھ لیجئے کہ وہ کامل انسان ہے، اخلاق ایک ایسی دوا ہے جو دل و دماغ دونوں کو غذا پہنچاتا ہے، رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے علم اور عبادت کی زینت اخلاق کو قرار دیا ہے، قیامت کے دن مومن کے میزان عمل میں کوئی چیز حسن اخلاق سے زیادہ باوزن نہیں ہوگی، اسی طرح مومن اپنے حسن اخلاق ہی کی وجہ سے ہمیشہ روزہ رکھنے اور تہجد گزار کا مرتبہ حاصل کرلیتا ہے، مسلم شریف کی روایت ہے کہ ”نیکی حسن اخلاق کا نام ہے اور برائی وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور تمہیں ناپسند ہو کہ لوگ اسے جانیں۔“ (رواہ مسلم و ابو داؤد)

بہرحال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اخلاق حسنہ کی دولت سے ہی تڑپتی انسانیت کی غمخواری کی، اپنے ازلی وابدی دشمنوں کو پتھر کے جواب میں پھولوں کا گلدستہ پیش کیا، نفرت کے اندھیروں میں الفت و محبت کی شمع روشن کی، آپسی تفرقہ بازی اور دائمی بغض و عداوت کی بیخ کنی کرکے بھائی چارگی اور الفت ومحبت کے چشمے بہائے، یہی نہیں بلکہ ذرا دو قدم آگے بڑھ کر فتح مکہ کی تاریخ کے اوراق کو الٹ کر دیکھئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں فاتحانہ انداز میں داخل ہوتے ہیں، صحابہ کرام کی دس ہزار جمعیت آپ کے ساتھ ہے، صحابہ اعلان کرتے ہیں ”الیوم یوم الملحمة“ آج بدلے کا دن ہے، آج جوش انتقام کو سرد کرنے کا دن ہے، آج شمشیروسناں کا دن ہے، آج گذشتہ مظالم کے زخموں پر مرہم رکھنے کا دن ہے، آج ہم اپنے دشمنوں کے گوشت کے قیمے بنائیں گے، آج ہم ان کی کھوپڑیوں کو اپنی تلواروں پر اچھالیں گے، آج ہم شعلہٴ جوالہ بن کر خرمن کفار کو جلاکر بھسم کردیں گے اور گذشتہ مظالم کی بھڑکتی چنگاری کو ان کے لہو سے بجھائیں گے۔

لیکن تاریخ شاہد ہے اور زمین و آسمان گواہی دیتے ہیں کہ ایسا کچھ نہیں ہوا، رحمت نبوی جوش میں آئی اور زبان رسالت کی صدائیں لوگوں کے کانوں سے ٹکراتی ہیں ”لاتثریب علیکم الیوم واذہبوا انتم الطلقاء“ کہ جاؤ تم سب آزاد ہو، تم لوگوں سے کسی قسم کا بدلہ نہیں لیا جائیگا، یہ تھاآپ کا اخلاق کریمانہ، یہ تھا آ پ کے اخلاق حسنہ کا اعلیٰ نمونہ، جس کی مثال سے دنیا قاصر ہے۔
یہی وہ صفت ہے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا سب نمایا پہلو کہاجاتاہے،اور یہی وہ پہلو ہے جو ولادت جسمانی و روحانی دونوں سے منسوب ہے۔ لہذا اسی صفت کو ہمیں اپنانے کی ضرورت ہے۔
۔

امام علی مقصود فلاحی۔

متعلم:
جرنلزم اینڈ ماس کمیونیکیشن۔
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد۔

 

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
1
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here