مسکان کا کہنا ہے کہ حجاب پہننے کے اپنے حق سے متعلق جدوجہد جاری رکھیں گی

0

دانش رحمنٰ
نئی دہلی : کرناٹک حجاب معاملے کو فرقہ پرست طاقتیں سیاسی رنگ دینے کی کوشش کررہی ہیں۔ کرناٹک کے کئی اضلاع کے متعدد کالجز میں باحجاب طالبات
پر حملے کیا جارہا ہے۔ کالجز میں سنگ باری کی گئی، یہاں تک کہ شیموگا کے ایک کالج میں بھگوا جھنڈا لہرایا گیا لیکن ان سب کے باوجود کسی کے خلاف کوئی
کارروائی نہیں کی گئی۔ کرناٹک میں حجاب پر سیاست کی جارہی ہے۔ کرناٹک کے مانڈیا کے پی ای ایس کالج کا ویڈیو کافی وائرل ہورہا ہے۔
May be an image of ‎one or more people and ‎text that says '‎لباس جسم پھٹ جائے مری گردن بھی کٹ جائے روح پھر بھی نعرۀ تكبير بولے گی مگری‎'‎‎وائرل ہونے والی ایک
ویڈیو میں نمایاں ہے کہ مسکان پارکنگ سے گزر رہی ہوتی ہیں کہ اس دوران بی جے پی کے جھنڈے کے رنگ کے مفلر پہنے لوگوں کا ایک ہجوم ان کے سامنے آتا
اور نعرے لگاتا ہے، اس کے جواب میں مسکان بھی وہیں ٹھہر کر بلند آواز میں’اللہ اکبر‘کے نعرے لگانے شروع کر دیتی ہیں۔ اس ویڈیو میں آپ صاف طور پر نظر
آرہا ہے کہ مسلم لڑکی مسکان حجاب پہن کر کالج کے کیمپس میں داخل ہوتی ہے تو اس کو دیکھ کر بھگوا رنگ کے اسکارف پہنے کچھ طالب علم ’جے شری
رام‘کا نعرہ لگاتے ہیں۔ اس لڑکی نے اکیلے ان کے سامنے ’اللہ اکبر‘کا نعرہ لگایا اور اپنا احتجاج درج کیا۔ یہ واقعہ ہندوستانی ریاست کرناٹک میں اپنے تعلیمی
ادارے کے بعد ہراساں کیے جانے کے باوجود جگہ چھوڑ کر ہٹنے کے بجائے ہجوم کے سامنے نعرے لگانے والی مسلم لڑکی مسکان سے اظہار یکجہتی کے لیے
لوگ سوشل میڈیا پر ’اللہ اکبر‘ٹرینڈ کرنے لگا۔
NDTVمانڈیا کے پی ای ایس کالج میں حالیہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی
کے خلاف مسلم طالبات نے سخت ردعمل دیا ہے۔ گزشتہ چند روز کے دوران ریاست میں متعدد مقامات پر طالبات کی جانب سے احتجاج کرتے ہوئے حجاب پر پابندی
واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
حجاب کے معاملے پر احتجاج اور اس کے حوالے سے سامنے آنے والے ردعمل کا سلسلہ اتنا بڑھا کہ منگل کے روز ریاست میں تمام سکول اور کالج تین روز کے
لیے بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ کرناٹک کے وزیراعلی نے ٹوئٹر پر جاری کردہ پیغام میں جہاں مقامی افراد سمیت طلبہ، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کی انتظامیہ سے
امن و امان بحال رکھنے کی اپیل کی وہیں تمام ہائی سکولوں اور کالجوں کی بندش کا اعلان کرتے ہوئے متعلقہ افراد سے تعاون کی اپیل کی ہے۔
انڈین نیوز چینل این ڈی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مانڈیا کے پی ای ایس کالج میں سیکنڈ ایئر کی طالبہ مسکان کا کہنا تھا کہ وہ پریشان نہیں تھیں، وہ اپنی
اسائنمنٹ جمع کرانے کے لیے کالج گئی تھیں۔ لیکن وہاں موجود ہجوم نے انہیں حجاب میں اندر جانے نہیں دیا۔ اس موقع پر ’انہوں نے میرے سامنے شورشرابا
کرتے ہوئے نعرے لگائے جس کے جواب میں میں نے بلند آواز میں اللہ اکبر پکارنا شروع کر دیا‘۔
کرناٹک کے ضلع منڈیا سے تعلق رکھنے والی مسکان سے پوچھا گیا کہ احتجاج کرنے والوں کو اس سے قبل بھی دیکھا ہے؟ جس کے جواب میں مسکان کا کہنا تھا کہ
’دس فیصد کالج کے ہوں گے جب کہ باقی سارے باہر کے عناصر تھے۔‘ مسکان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی اسائنمنٹ جمع کرانے کے لیے کالج گئی تھیں۔ مسکان کا
کہنا ہے کہ حجاب پہننے کے اپنے حق سے متعلق جدوجہد جاری رکھیں گی۔
مانڈیہ پری یونیورسٹی کالج کی طالبہ نے ہجوم کے سامنے اللہ اکبر پکارنے کا سلسلہ اس وقت تک جاری رکھا جب وہاں موجود انتظامیہ کے کچھ افراد نے انہیں ہجوم
سے بچایا۔ کامرس کی سیکنڈ ایئر کی طالبہ نے مزید کہا کہ ’ہماری تعلیم ہماری ترجیح ہے، وہ ہماری تعلیم برباد کر رہے ہیں‘۔
کرناٹک کے مختلف شہروں میں حجاب پر پابندی اور اس کے بعد مسلم طالبات کے احتجاج کا ذکر کرتے ہوئے مسکان کا کہنا تھا کہ ’ہم ہر وقت برقعہ یا حجاب
استعمال کرتی تھیں۔ میں کلاس میں حجاب برقرار رکھتے ہوئے برقعہ اتار دیا کرتی تھی۔ یہ ہماری شخصیت کا حصہ ہے، ہمیں پرنسپل نے کبھی اس سے منع نہیں کیا
لیکن باہر کے لوگوں نے یہ سلسلہ شروع کیا‘۔ پرنسپل نے ہمیں کہا کہ برقعہ استعمال نہ کریں لیکن ہم حجاب کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی، یہ ایک مسلم
لڑکی کی شخصیت کا حصہ ہے۔
سوشل میڈیا پر مسکان کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کرتے ہوئے جہاں حکومتی جماعت بی جے بی کے حامی انہیں اور حجاب کی
حمایت کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، وہیں دیگر حلقے ان سے اظہار یکجہتی کے لیے مختلف انداز اپنا رہے ہیں۔
ریاست میں حجاب کے حوالے سے احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ اس وقت شروع ہوا تھا جب اوڈوپی کے گورنمنٹ گرلز کالج نے کہا تھا کہ انہیں حجاب پہننے کی
وجہ سے کلاس میں داخل ہونے سے روک گیا تھا۔
مقامی سطح پر مسلمان لڑکیوں کے حجاب پہننے کے خلاف احتجاج کیا گیا تھا جس کے بعد گزشتہ جمعہ اور سنیچر کو زعفرانی رنگ کے جھنڈے پہنے طلبہ و دیگر
نے تعلیمی اداروں میں مارچ کا انعقاد کیا تھا۔
ایسے ہی ایک موقع پر مانڈیہ نامی علاقے میں ایک کالج کے باہر باحجاب مسلم طالبہ زعفرانی مفلر ٹانگے احتجاج کرنے والے مردوں کے ہجوم کے سامنے کھڑی ہو
گئی اور ان کے نعروں کے جواب میں اللہ اکبر کے نعرے لگانے لگی۔
حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاج کرنے والی مسلم طالبات پر تنقید کرنے والوں کو جواب دیتے ہوئے کچھ ہندوستانا یوزرس کا کہنا تھا کہ اگر وہ ایسا چاہتی ہیں تو
اس میں کیا غلط ہے۔


کرناٹک ہائی کورٹ میں اوڈوپی کے سرکاری کالج سے تعلق رکھنے والی پانچ طالب علم نے حجاب پر پابندیوں کے خلاف درخواست دی ہے جس کی سماعت جاری
ہے۔
مسلم طالبہ مسکان کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل ٹائم لائنز پر آنے کے بعد اس پر گفتگو کا سلسلہ اتنا بڑھا کہ ٹرینڈز پینل میں نصف
درجن سے زائد ٹرینڈز اسی موضوع سے متعلق ہیں۔ ان میں ’مسکان‘، ’حجاب رو‘، ’حجاب‘، ’ہندوتوا‘، ’مسلم گرلز‘، ’انڈین مسلمز‘ اور ’اللہ
اکبر‘ نمایاں ہیں۔
جوابی نعرے لگاتے ہوئے مسکان کی تصاویر شیئر کرنے والوں نے ان کے سکیچز شیئر کیے تو سیکنڈ ایئر کی طالبہ کو ’مزاحمت کی علامت‘ اور ان کی اکلوتی
آواز کو ’ہزاروں آوازوں پر بھاری‘ قرار دیا۔
منگل کی شام تک صرف ٹوئٹر پر ان ٹرینڈز میں لاکھوں ٹویٹس کی گئیں جن میں مسکان کا ذکر غالب رہا۔
حجاب کے خلاف ہونے والے احتجاج کو مقامی طلبہ کے بجائے کسی اور کی منظم کوشش قرار دینے والوں نے اپنے دعوے کے حق میں ویڈیوز اور تصاویر شیئر
کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا یہ کسی کے کہنے پر ایسا کر رہے ہیں؟
انڈین پارلیمنٹ کے سابق رکن اور جمعیت علمائے ہند کے سربراہ کی جانب سے مسکان کی جرات کی تعریف کرتے ہوئے ان کے لیے پانچ لاکھ روپے
May be an image of 2 people and textکے نقد انعام کا
اعلان کیا گیا۔
نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے انڈیا میں مسلم خواتین سے درپیش سلوک پر تبصرے میں لکھا ’حجاب میں لڑکیوں کو اسکول جانے سے روکنا تشویشناک ہے۔
خواتین کے کم یا زیادہ لباس پر اعتراض کا سلسلہ برقرار ہے‘۔ انڈین رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ ’مسلم خواتین کو پسماندہ رکھنے کی یہ
کوشش روکی جانی چاہیے۔‘
انڈین صحافی رعنا ایوب نے لکھا ’حجاب پہنے ایک عورت کے خلاف ہزاروں سنگھی‘۔ وزیرِاعظم نریندر مودی کو ٹیگ کرکے رعنا پوچھتی ہیں ’میں سمجھتی تھی
آپ خواتین کی آزادی کے حامی ہیں اور انھیں تعلیم دینا چاہتے ہیں؟‘وہ کہتی ہیں کہ مجھے امید ہے دنیا اس نفرت کو دیکھ رہی ہو گی جو اس ملک نے مسلمان
عورتوں کے خلاف بپا کر رکھی ہے۔
یہ ہندوستان کی طاقت رہی ہے کہ ہر کوئی جو چاہے پہننے کے لیے آزاد ہے۔ اگر حجاب کی اجازت نہیں تو پھر سکھوں کی پگڑی کا کیا ہوگا؟ ہندوئوں کی پیشانی جو نشان (ماتھے پر)؟ عیسائی کی کراس ( صلیب)؟ یہ کالج ایک پھسلن ڈھلوان سے نیچے جا رہا ہے۔ لڑکیوں کو اندر آنے دو۔ انہیں تعلیم حاصل کرنے دیں۔ انہیں فیصلہ
کرنے دیں: ششی تھرور

انہوں نے سیکڑوں سالوں تک دلتوں کو گروکل میں داخل نہیں ہونے دیا۔ آج وہ حجاب کے نام پر مسلمانوں کو اسکول سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ اس پرتشدد طریقے سے اپنی طاقت قائم کی ہے۔ حجاب کے ساتھ یا بغیر پڑھنا ہمارا آئینی حق ہے۔
مسلمان لڑکیاں نہ ڈرتی ہیں اور نہ ڈریں گی :ارفع خانم شیروانی


انڈیا کے ماہرِ طبعیات اور ریٹائرڈ آئی پی ایس افسر ڈاکٹر این سی آستھانہ کہتے ہیں کہ انگریزی زبان میں اس کی مذمت کرنے کے لیے الفاظ بھی کم ہیں۔ وہ پوچھتے
ہیں کہ ’چاہے وہ اکیلی ہو یا اس کے ساتھ کوئی ہو، آپ ایک لڑکی کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟ آپ حکومت یا کالج کے خلاف احتجاج کریں، ایک اکیلی لڑکی
پر جملے کستے ہوئے اسے ہراساں کیوں کر رہے ہیں۔‘
بولی وڈ اداکارہ پوجا بھٹ نے پی ای ایس کالج بنگلور میں حجاب پہنے مسلمان طالبہ کو ہراساں کرنے والی ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا
’ہمیشہ کی طرح ایک@PoojaB1972
عورت کو دھمکانے کے لیے آدمیوں کے جتھے کی ضرورت پڑی ہے۔‘
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی یہ ویڈیو ان الفاظ کے ساتھ شئیر کی ’آج کے انڈیا میں مسلمانوں سے نفرت کو ایک عام سی
بات بنا دیا گیا ہے۔ ہم اب وہ قوم نہیں رہے جو متنوع ہونے کا جشن مناتی ہے، اب ہم لوگوں کو الگ کرنا اور انھیں سزا دینا چاہتے ہیں۔‘
کرناٹک کے وزیر اعلی بسواراج بومائی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ میں تمام طلباء، اساتذہ اور اسکولوں و کالجوں کی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ کرناٹک کے لوگوں سے
امن و امان اور ہم آہنگی برقرار رکھنے کی اپیل کرتا ہوں۔ میں نے اگلے تین دن تک تمام ہائی سکول اور کالج بند رکھنے کا حکم دیا ہے۔ تمام متعلقہ افراد سے تعاون کی
اپیل ہے۔