میونسپل کارپوریشن انتخابات میں شکست کے خوف سے نچلی سطح پر اتر آئی ہے:منیش سسودیا

0
Image: Economic Times

نئی دہلی(ایس این بی ) بی جے پی ایم سی ڈی اور گجرات انتخابات میں عام آدمی پارٹی سے ملنے والی ذلت آمیز شکست سے اس قدر خوفزدہ ہے کہ وہ انتخابات لڑنے کے لیے نچلی سطح پر اتر آئی ہے۔ بی جے پی نے اپنی توڑ پھوڑ اور سازشوں کے تحت عام آدمی پارٹی کے سینئر لیڈر ستیندر جین کو گزشتہ 6ماہ سے جیل میں رکھا ہوا ہے ۔لیکن اب بی جے پی ستیندر جین کی بیماری اور ڈاکٹروں کے مشورے کے مطابق جیل میں ہونے والی فزیو تھراپی کا ویڈیو جاری کرکے ان کی بیماری اور علاج کا مذاق اڑا رہی ہے۔
عام آدمی پارٹی کے سینئر لیڈر اور دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے ہفتہ کوپریس کانفرنس کے دوران یہ باتیں کہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی تاریخ میں پہلی بار کسی پارٹی نے الیکشن جیتنے کے لیے اتنی گھٹیا اور سستی حرکت کی ہے کہ وہ کسی شخص کی بیماری کا بے دردی سے مذاق اڑا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ستیندر جین جیل میں گرنے کے بعد ان کی ریڑھ کی ہڈی میں چوٹ آئی تھی اور دو آپریشن کے بعد ڈاکٹر نے انہیں مستقل رکھا۔فزیو تھراپی کا مشورہ دیا گیا۔ علاج کی ضرورت کسی کو بھی ہو سکتی ہے مگر ان کا مذاق اڑانا بہت سستا عمل ہے۔
اس موقع پر منیش سسودیا نے بتایا کہ عدالت نے ای ڈی کو ہدایات دی ہے کہ اس ویڈیو کو جاری نہیں کیا جائے گا، مگرعدالت کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بی جے پی نے اپنی سازش میں کامیاب ہونے کے لیے ستیندر سنگھ کا استعمال کیا ہے۔ جین کی ویڈیو کو غلط طریقے سے جاری کیا اور اس کا مذاق اڑایا جارہا ہے ۔ یہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہوئی ہے ہم اس پر کارروائی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھاجپا نے اپنی سازشوں اور ایجنسیوں کا غلط استعمال کرتے ہوئے ستیندر جین کو جھوٹے مقدمے میں 6ماہ سے جیل میں بند کر رکھا ہے۔ لیکن اس سے بھی بی جے پی کا دماغ مطمئن نہیں ہوا اور اب بی جے پی ایسی برے حرکت پر اتر آئی ہے کہ کسی شخص کی بیماری کو مزید بیماری میں بھی دے سکتا ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ستیندر جین کے علاج کی سی سی ٹی وی فوٹیج کو غلط طریقے سے نکال کر ان کی بیماری کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ بی جے پی کسی کی بیماری کا مذاق بنا کر ہارے ہوئے الیکشن جیتنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ حرکت بی جے پی کے علاوہ کوئی نہیں کر سکتا۔
منیش سسودیا نے کہا کہ ملک کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کوئی پارٹی اس طرح کی گھٹیا اور سستی حرکتوں کا سہارا لے کر کسی شخص کی بیماری کا اس قدر مذاق اڑا رہی ہے۔ کوئی بھی بیمار ہو سکتا ہے۔ ملک کا وزیراعظم ہوں، عام آدمی ہو یا جیل میں بند شخص ہو۔ بیمار اگر وہ گر جائے تو اسے علاج کی ضرورت ہو سکتی ہے، لیکن کسی کے علاج کی ویڈیو جاری کرنے، کسی کی بیماری کا مذاق اڑانے کا گھنا¶نا کام صرف اور صرف بی جے پی ہی کر سکتی ہے۔