سماجوادی تھے ملائم سنگھ یادو

0

کسی لیڈر کے لیے تازندگی اپنی مقبولیت برقرار رکھنا بہت مشکل ہوتا ہے اور یہی مشکل کام کرنے میں ملائم سنگھ یادوکامیاب رہے، کیونکہ وہ اس ملک کے لسانی اور ثقافتی تنوع سے واقف تھے، سبھی مذاہب کے لوگوں کا احترام کرتے تھے، سماج کو جوڑے رکھنے میں یقین رکھتے تھے۔ وہ سیاسی فیصلے سیاست کے بدلتے منظرنامے کے مطابق لیتے تھے مگرذاتی تعلقات کا بھی خیال رکھتے تھے۔ مثلاً: ان کے اور ان کے جیسے دیگر لیڈروں کے عروج نے اترپردیش میں کانگریس کے ووٹ بینک پر اثر ڈالا، وہ اس ریاست میں وہ مقام نہیں حاصل کر سکی جو کبھی اسے حاصل تھا مگر ان کے تعلقات کانگریس سے کبھی خراب نہیں ہوئے۔ 2008 میں ایٹمی معاہدے کے ایشو پربایاں محاذ نے حکومت سے حمایت واپس لی تو ملائم سنگھ یادو کے حمایت دینے کے فیصلے سے ہی منموہن سنگھ کی حکومت بچ سکی تھی۔ اسی طرح پی ایم نریندر مودی کو ملائم سنگھ یادو نے دوبارہ وزیراعظم بننے کا آشیرواد دیا تھا تو لوگوں کو حیرت ہوئی تھی جبکہ اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں تھی۔ ملائم سنگھ یادو رشتوں اور سیاست کو الگ رکھتے تھے، فرض کو بھی سمجھتے تھے اور سماجی ذمہ داری کو بھی۔ اترپردیش کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے اپنے فرض کا خیال کرتے ہوئے ہی ملائم سنگھ یادو نے بابری مسجد کی حفاظت کے سلسلے میں یہ کہا تھا کہ ’بابری مسجد پرایک پرندہ بھی پر نہیں مار سکے گا۔‘ مگر ان کے انتباہ کے باوجود کارسیوکوں نے بابری مسجد کی طرف بڑھنے کی کوشش کی تھی تو انہیں روکنے کے لیے پہلے ان پر لاٹھیاں اور پھر گولیاں چلی تھیں، اس میں متعدد لوگ مارے گئے تھے۔ اس کے بعد ایسا لگا تھا کہ ملائم سنگھ یادو شاید ہی کبھی اترپردیش کے وزیراعلیٰ بن پائیں گے، کیونکہ کارسیوکوں کو روکنے کے لیے طاقت کے استعمال سے ملک کے اکثریتی طبقے میں ان کی شبیہ منفی بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ مسلمانوں سے ان کی قربت کو دیکھتے ہوئے انہیں ’مولانا ملائم‘ کہا جانے لگا تھا مگر 1993 میں ملائم سنگھ یادو نے اترپردیش کا وزیراعلیٰ بن کر یہ ثابت کر دیا کہ ان کے خلاف کی جانے والی منفی تشہیرکا اثر ان کی شبیہ پر نہیں پڑا ہے، لوگوں میں ان کی مقبولیت کم نہیں ہوئی ہے، لوگ انہیں کسی ایک فرقے تک محدود کر کے نہیں دیکھتے، انہیں سماج واد اور سیکولرزم کا علمبردار مانتے ہیں، یہ سمجھتے ہیں کہ ملائم اس تہذیب کے پروردہ ہیں اور اسی تہذیب میں جیتے ہیں جس پر اقبالؔ جیسے شاعر کو بھی ناز تھا اور اسی لیے اقبالؔنے لکھا تھا، ’یونان و مصر و روما سب مٹ گئے جہاں سے؍ اب تک مگرہے باقی نام و نشاں ہمارا‘۔
ملائم سنگھ یادو تیسری بار اترپردیش کے وزیراعلیٰ 2003 میں بنے، 2012 میں ان کے بیٹے اکھلیش یادو وزیراعلیٰ بنے۔ 2017 اور 2022 کے اسمبلی انتخابات میں ان کی پارٹی سماجوادی پارٹی کو کتنے فیصد ووٹ ملے، اس بحث میں پڑنا غیرضروری ہے، کیونکہ ایک وقت آنے پر ملائم سنگھ یادو خود اپنے آپ میں سماجواد اور سیکولرزم کی مثال بن گئے تھے، لوگ محبت سے انہیں ’نیتاجی‘ کہتے تھے اور یہ کہلوانے کے لیے انہیں کسی انتخاب میں جیتنے کی ضرورت نہیں رہ گئی تھی۔ چودھری چرن سنگھ یوں ہی نہیں، اجیت سنگھ کو اپنا قانونی وارث اورملائم سنگھ یادوکو سیاسی وارث کہا کرتے تھے۔ یہ ملائم سنگھ یادو کا کمال تھا کہ بغیر کسی سیاسی پس منظر کے وہ اس مقام تک پہنچے۔ ابتدائی دنوں میں کشتی میں ان کا ’چرخہ داؤ‘ بہت مشہور تھا مگر شاید ہی کسی نے یہ سوچا ہوگا کہ بڑے بڑے پہلوانوں کو پٹک ڈالنے والے ملائم سیاست میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیں گے۔ ملائم سنگھ یادو 22 نومبر، 1939 کو موجودہ اترپردیش کے سیفئی میں پیدا ہوئے تھے۔ پرجا سوشلسٹ پارٹی کے لیڈر ناتھو سنگھ نے 1967 میں انہیں جسونت نگر اسمبلی سیٹ کے لیے ٹکٹ دلوایا تھا اور اس سیٹ پر انہیں فتح ملی تھی۔ اس وقت ان کی عمر 28 سال تھی، وہ اترپردیش کی سیاسی تاریخ میں سب سے کم عمری میں ایم ایل اے بننے والے لیڈربن گئے تھے۔ 38 سال کی عمر میں وہ اترپردیش کے کوآپریٹو منسٹر بنے۔ 5 دسمبر، 1989 کو پہلی بار اترپردیش کے وزیراعلیٰ بنے۔ وزیراعلیٰ کا حلف لینے کے بعد ملائم سنگھ یادو نے کہا تھا کہ ’لوہیا کا غریب کے بیٹے کو وزیراعلیٰ بنانے کا پرانا خواب پورا ہو گیا ہے۔‘ اور یہی بات غالباً ان کے ذہن میں ہمیشہ رہی کہ ان کا پس منظر کیا ہے، اس لیے وہ اپنے نام کی طرح لوگوں کے لیے ہمیشہ ملائم رہے، ان تک لوگوں کی رسائی آسان تھی، جولوگ ان سے ملنے جاتے، ان سے وہ بڑے اخلاق سے پیش آتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آج 10 اکتوبر کو ان کی موت نے عام لوگوں کو بھی رلا دیا ہے اور ان کا رونا واجب بھی ہے، کیونکہ ملائم سنگھ یادو جیسے لیڈر روز روز پیدا نہیں ہوتے جبکہ ہندوستان کو ایسے ہی لیڈروں کی ضرورت ہے۔
[email protected]