محمد فاروق اعظمی: قیس۔۔۔ہر تصویر کے پردہ میں بھی عریاں

0

محمد فاروق اعظمی

صحافتی کارکن یا ایک ورکنگ جرنلسٹ کی حیثیت سے خاکسار سیاسی جماعتوں، سیاست دانوں، حکمرانوں، صاحبان اقتدار اور ان کے ارد گرد رہنے والی اشرافیہ کوکم وبیش ربع صدی سے دیکھتا، سنتا،پڑھتا اوران کی بابت لکھتاآرہاہے اور اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ سبھی ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں۔ نظریات اور ایجنڈے کی بڑی بڑی باتیں کرنے والے نام نہاد عوامی لیڈر، خاتون آہن ہوں یا لوہ پرش،سبھی کا مقصد صرف اور صرف اقتدار، حکمرانی اور دولت ہے۔اس میں نہ بھارتیہ جنتاپارٹی کی قیدہے نہ کانگریس، ترنمول کانگریس،این سی پی، ڈی ایم کے، سماج وادی اور نہ راشٹریہ جنتادل اور جنتادل کی قیدہے یہ سب چاہے جس رنگ کا جامہ پہن لیں، اندر سے ایک ہی ہیں۔
تمام سیاسی جماعتوں کا ایجنڈا، سیاسی و معاشی پروگرام ایک اور مقصد حکمرانی ہے۔اس مقصد تک پہنچنے کیلئے جسے جو راستہ آسان لگتا ہے، اسی پر سفر کرتا ہے۔ کوئی سماجی انصاف کا علم اٹھائے اقتدار تک پہنچتا ہے، تو کسی کی کلغی میں ماں ماٹی مانش کا پھریرا لہراتا ہے تو کوئی ہاتھ میںبھگوا لیے ہوئے آگے بڑھتا ہے۔ان سبھی کی منزل ایک ہوتی ہے۔یہ دوسری بات ہے کہ ان میں سے کوئی راہ میں آنے والوں کو کچلتا ہو اگزرتارہتا ہے تو کوئی دامن بچاکر آگے بڑھتا ہے،کوئی عوام کی آہ و بکا، فریاد، نالہ و شیون پر کچھ لمحوں کیلئے ٹھٹھک کر رکتا ہے،سنتا ہے اور پھر آگے بڑھ جاتا ہے۔
دلچسپ بات تو یہ ہے کہ سماجی انصاف، ماں ماٹی مانش، جمہوریت اور ہندو توکی دہائی دینے والی سبھی سیاسی پارٹیاں اور لیڈران زاد سفر ایک ہی مقام سے حاصل کرتے ہیںاور وہ ہیں ملک کے سرمایہ داراور صنعت کار۔زاد سفر دینے والوں کی کاسہ لیسی کرتے ہوئے جب یہ منزل یعنی اقتدار تک پہنچتی ہیں توان کی بدترین غلامی کا طوق ان کے گلے میں ہوتا ہے اور ان کے ہی ایجنڈے کی تکمیل اور مفادات کا تحفظ کرتی ہیں۔ تازہ خبر آئی ہے کہ ملک کی تین سیاسی پارٹیوں کو انتخابی بانڈز کے ذریعہ کل 10,700کروڑ کی خطیر رقم بطور عطیات حاصل ہوئی ہیں۔ 31مارچ 2022تک بھارتیہ جنتاپارٹی کو 1,033 کروڑ روپے، ترنمول کانگریس کو 528 کروڑ روپے اور کانگریس کو 253 کروڑ روپے ملے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق سال 2021-22 میں انتخابی بانڈز کا سب سے بڑا حصہ بھارتیہ جنتاپارٹی کو ملا ہے دوسری بڑی حصہ دار ترنمول کانگریس اور تیسری قومی پارٹی کانگریس ہے۔
بھارتیہ جنتاپارٹی نے الیکشن کمیشن کو جو سالانہ آڈٹ رپورٹ جمع کی ہے، اس کے مطابق پارٹی کو انتخابی بانڈز کے ذریعہ سال 2018، 2019، 2020اور2021میں بالترتیب210کروڑ، 1,450کروڑ، 2,555کروڑ اور 22.38کروڑروپے وصو ل ہوئے جس سے بی جے پی کی کل رقم5,270کروڑ روپے ہوگئی۔ یاد رہے کہ انتخابی بانڈز اسکیم 2017میں متعارف کرائی گئی اور 2018 میں اس کا نفاذ ہوا۔ 2022تک کل9,028کروڑ روپے اس کے ذریعہ سیاسی جماعتوں کو ملے جن میں نصف سے زیادہ بی جے پی کی جھولی میں گئے۔ دوسری بڑی حصہ دار مرکز کی حکومت کی سب سے بڑی ناقد کہے جانے والی ترنمول کانگریس ہے جسے صرف ایک سال 2021-22کے دوران 528کروڑروپے ملے۔ ترنمول کانگریس کو سال2019میں 97کروڑ،2020میں 100کروڑ اور 2021 میں42کروڑروپے ملے۔کانگریس نے گزشتہ مالی سال میں انتخابی بانڈز کے ذریعہ 253 کروڑ روپے حاصل کیے تھے۔ 2021 میں اسے صرف 10 کروڑ روپے ہی ملے۔
سیاسی پارٹیوں کو ملنے والی یہ بھاری بھرکم رقم اس صورت میں جب سیاسی فنڈنگ میں شفافیت لانے کے بلند بانگ دعوے کے درمیان2017 میں حکومت نے انتخابی بانڈزمتعارف کرائے، فقط 4برسوں میںاس کے ذریعہ سیاسی جماعتوں کو 10,700 کروڑ روپے حاصل ہوگئے۔ یہ خطیررقم غریب، مزدور، محنت کشوں کا چندہ نہیں بلکہ بڑے بڑے سرمایہ داروں کی وہ سرمایہ کاری ہے جو اقتدار کی منزل تک پہنچنے میں سیاسی جماعتوں کی زاد راہ ہے۔
اے ڈی آر کی ایک رپورٹ کے مطابق مالی سال2018-19میں کارپوریٹ اور صنعتی گھرانوں کے مختلف شعبوں نے سیاسی جماعتوں کو مجموعی طور پر 876.10کروڑ روپے دیے۔ سیاسی جماعتوں کو معلوم ذرائع سے ملنے والے عطیات کا یہ 92فیصد ہے۔ 2004 سے 2012کے درمیان کارپوریٹ عطیات کے مقابلے میں مالی سال 2018-19 میں حاصل ہونے والے عطیات میں 131فیصدکا اضافہ ہوا ہے۔5 سیاسی جماعتوں میں سے بھارتیہ جنتاپارٹی کو سب سے زیادہ1573صنعتی گھرانوں کے عطیات ملے ہیں۔ دوسرا مقام کانگریس کا ہے جسے 122صنعتی گھرانوں نے عطیات دیے ہیں جب کہ این سی پی کو 17 کارپوریٹ گھرانوں نے چندے دیے ہیں۔ بھارتیہ جنتاپارٹی، کانگریس اور ترنمول کانگریس کو سب سے زیادہ عطیات دینے والاٹاٹا گروپ کا پروگریسیو الیکٹورل ٹرسٹ رہا ہے جس نے ان تینوں کو مجموعی طور پر455.15کروڑ روپے دیے ہیں۔ جس میں بی جے پی356.535کروڑ روپے، کانگریس کو55.629کروڑ روپے اور ترنمول کانگریس کو42.986کروڑ روپے ملے ہیں۔
ہم اپنے آپ کو ایک جمہوری ملک کہتے ہیں، جسے سیاسی جماعتیں چلا رہی ہیں، ان سیاسی جماعتوں کو سرمایہ دار اور صنعت کار چلارہے ہیں جن کی ساری توجہ دولت کے ذریعہ اقتدار کا حصول ہے، اس رجحان کی وجہ سے سیاسی عمل میں پیسے کی طاقت کا اثر بڑھ رہا ہے۔اعداد و شمار کے تجزیہ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ جس سیاسی جماعت کو جتنے زیادہ عطیات ملتے ہیں اور ان کے امیدواروں کے پاس جتنی زیادہ دولت ہوتی ہے، اس کے جیتنے کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوتے ہیں۔سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کا اگر حلف نامہ دیکھاجائے تو زیادہ اثاثے ظاہر کرنے والے اور زیادہ سے زیادہ رقم خرچ کرنے والے امیدواروں میں سے اکثر جیت حاصل کرتے ہیں۔ کم رقم خرچ کرنے والوں کے حصہ میں ناکامی ہی آتی ہے۔
سیاست میں پیسہ کا یہ کردار بتارہاہے کہ عوام کی فلاح و بہبود، سماجی انصاف، رنگارنگ نعرے، جمہوریت، آزادی، اظہار رائے کا حق، یہ سب ایک کھیل تماشا سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتے ہیں۔ جو سیاسی مداری اپنے کھیل کو بہتر انداز میں پیش کرسکتا ہے، اس کے حصہ میں حکمرانی آتی ہے اورجس کا کھیل کمزور پڑتا ہے، وہ اگلی پاری کے انتظار میں اپنا سفر جاری رکھتا ہے۔
[email protected]