حکومت کیلئے نئے معیار فراہم کرتی مودی کی قیادت

0

راجیو چندر شیکھر

وزرا کی کونسل میں شامل ہونے کے بعد جب میں اپنی ریاست، کرناٹک واپس گیا تب وہ موقع جن آشیرواد یاترا کا تھا۔ چار دنوں کی اس یاترا(سفر) میں مجھے6ضلعوں کا دورہ کرنے اور سیکڑوں شہریوں، سماجی لیڈروں اور کاریہ کرتاؤں(کارکنوں) سے ملنے کا موقع ملا۔
اس پورے سفر کے دوران جو لوگ مجھے دعائیں دینے اور نیک خواہشات پیش کرنے کے لیے اپنے گھروں سے باہر آئے تھے، ان سب کا ایک ہی رد عمل تھا وزیر اعظم اور قائد نریندر مودی پر بھروسہ، اعتماد اور فخر۔ شیو موگا کے اس کسان سے لے کر، جو اپنی زندگی کو تبدیل کرنے میں حکومت کی طرف سے ملنے والی امداد کے لیے میرا شکریہ ادا کرنے آیا تھا، سرسی کی اس خاتون خانہ تک، جسے ’اجولا‘ سے فائدہ حاصل ہوا، میں نے آشیرواد حاصل کرنے کے لیے جن مختلف مٹھوں کا دورہ کیا، وہاں کے قابل احترام اور باعلم سوامی جی، طبی ملازمین اور پارٹی کارکنان تک، جن کی خدمات کے لیے میں ان کا شکریہ ادا کرنے گیا تھا، یہ سبھی لوگ خود کو نئے ہندوستان سے متعلق وزیراعظم نریندر مودی جی کے وژن کا حصہ سمجھ رہے تھے۔ لہٰذا ان کی طرف سے مجھے جو اس قسم کا پیار، محبت، حمایت اور دعائیں مل رہی تھیں، وہ سب اس لیے تھا کیوں کہ میں بھی ان کی ہی طرح نریندر مودی کی ٹیم کا ایک حصہ ہوں۔
17 ستمبر وزیر اعظم مودی کا یوم پیدائش ہے۔ یہ وشو کرما دیوس بھی ہے۔ نریندر مودی کی زندگی اور حکومت میں ان کے20سال کو اس سے بہتر انداز میں بیان نہیں کیا جا سکتا ہے۔ بطور وزیر اعلیٰ13سال اور بطور وزیر اعظم ان کے7 سال کے عرصہ نے حکومت کی قیادت، سخت محنت، پالیسی سازی میں نئے معیار قائم کیے ہیں اور عوامی زندگی اور پبلک سروس میں شامل تمام لوگوں کے معیار کو کافی حد تک بلند کیا ہے۔
لیکن ہندوستانی سیاست پر اس کے اثرات اس سے بھی کہیں زیادہ ہیں۔ انہوں نے مستقل سیاسی خاندان، بدعنوانی اور ہماری جمہوریت کے جمود سے متعلق غلط فہمیوں کو دور کیا ہے۔ اس میں1947، یعنی جب ہمارا ملک آزاد ہوا تھا، تب سے دہشت گردی کا جواب دینے جیسے متعدد مسائل بھی شامل ہیں۔ انہوں نے ہر ایک ہندوستانی کے اعتماد، خواہشات اور تمناؤں کے رخ کو بھی موڑا ہے۔ ان حصولیابیوں کی آج کافی اہمیت ہے، خاص کر اس وقت جب ہم آزادی کا 75واں سال منا رہے ہیں اور ہماری نگاہیں مستقبل کے ہندوستان کی طرف ہیں۔
اس سال وزیر اعظم مودی کے بھی7سال پورے ہورہے ہیں۔30مئی،2019کو انہوں نے ایک شاندار، غیر متوقع جیت حاصل کی تھی، ایسی جیت جو حالیہ تاریخ میں کسی دوسرے لیڈر کو نصیب نہیں ہوئی، جو کہ تقریباً3دہائیوں میں کسی لیڈر اور سیاسی پارٹی کے لیے ایک واضح اکثریت تھی۔61کروڑ لوگوں کے ذریعے ووٹ ڈالنے کے بعد یہ مقبول ووٹ ان کے پہلے5سالوں کا اشارہ تھا۔ یہ جیت انہیں اس حقیقت کے باوجود حاصل ہوئی جب حزب مخالف کی جانب سے لگاتار جھوٹ اور فریب پر مبنی مہم چلائی گئی۔
ان کا سیاسی اور گورننس کا فلسفہ ہمیشہ سے ایک ہی رہا ہے یعنی سبھی کو برابر کا موقع ملنا چاہیے۔ سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس۔
اپنی دوسری مدت میں ایک بار تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا: ’’نئے بھارت کا یہ وژن عظیم روحانی شخصیت، سماجی مصلح اور شاعر، جناب نارائن گرو کے مقدس نظریات سے ماخوذ ہے: ’’جاتی بھیدم مت دویشم ادملادے سرورم سودر توین وادُن متروکستھن مانت ‘‘ یعنی ایک اصولی جگہ وہ ہے جہاں لوگ ذات اور مذہب کی تفریق سے آزاد ہوکر بھائیوں کی طرح رہیں۔
نئے ہندوستان کے اس راستے پر، دیہی ہندوستان مضبوط ہوگا اور شہری ہندوستان بھی طاقتور بنے گا۔ نئے ہندوستان کے اس راستے پر، صنعت کارانہ ہندوستان نئی بلندیاں حاصل کرے گا اور نوجوان ہندوستان کے خوابوں کو بھی پورا کیا جائے گا۔ نئے ہندوستان کے اس راستے پر، تمام نظام شفاف ہوں گے اور ملک کے ایماندار شہریوں کے وقار میں بھی مزید اضافہ ہوگا۔ نئے ہندوستان کے اس نئے راستے پر، 21ویں صدی کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کی جائے گی اور ایک طاقتور ہندوستان بنانے کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا۔
نریندر مودی نے ان7سالوں میں جو کچھ کیا ہے، وہ زیادہ تر حکومتیں کئی دہائیوں میں نہیں کر پائی تھیں۔ مالیاتی شعبہ کی صفائی سے لے کر، سبھی کے لیے اقتصادی مواقع کو وسیع کرنے، قومی سلامتی، ریکارڈ اعلیٰ سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، دفعہ370، لداخ کی نئی ریاست، شہریت ترمیمی قانون، رام مندر کا بلا تنازع تصفیہ وغیرہ۔ ایسی اور بھی بہت سی چیزیں ہیں جن کے لیے ہم سب ان کے شکر گزار ہیں۔
لیکن یہ ان کی قیادت، دوراندیشی اور کووڈ وبائی مرض کے گزشتہ18مہینوں کے دوران ان کی مسلسل سخت محنت ہے، جس کے لیے ہم واقعی ان کے شکر گزار ہیں۔
کورونا بحران کے اس پورے دور میں، مودی کی قیادت اور گورننس ہر جگہ نظر آ رہی تھی۔ انہوں نے ہر ایک شہری کو اس بات کے لیے تیار کیا کہ وائرس سے لڑنے اور اسے شکست دینے کے لیے پورے ملک کو مشترکہ طور پر عہد کرنا ہے جس کی وجہ سے1.4بلین ہندوستانیوں نے لاک ڈاؤن کے اس مشکل دور کو آسانی سے پار کر لیا۔
کووڈ وبائی مرض نے جب ہم پر حملہ کیا، تب ہمارے پاس پی پی ای کٹ تیار کرنے کی صلاحیت نہ کے برابر یا بہت کم تھی، محدود اسپتال اور آئی سی یو بیڈ تھے، ریاستوں میں حفظان صحت کا ڈھانچہ کمزور تھا، دوائیں، ٹیکے، آلات اور ہیلتھ کیئر اسٹاف بہت کم تھے۔ ایک طرف جہاں گھریلو سطح پر یہ چنوتیاں تھیں، وہیں وزیراعظم مودی کو ہماری شمالی سرحدوں پر چین کے خطرناک برتاؤ کا بھی سامنا کرنا پڑا، پاکستان کی طرف سے دہشت گردی کا سلسلہ جاری تھا اور ظاہر ہے کہ ایسے وقت میں ہندوستان کے کچھ سیاست دانوں نے چند ریاستوں میں بطور وزیراعلیٰ اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی بجائے کووڈ-19کو ایک بہتر سیاسی موقع سمجھ لیا۔

وزیراعظم مودی کا یوم پیدائش منانے کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ تمام ہندوستانی سبھی کیلئے ایک مضبوط، خوشحال ہندوستان کے ان کے خواب پر یقین کریں اور اس کیلئے مل کر کام کریں۔ سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس، سب کا پریاس۔ آج کے دن، میں انہیں اچھی صحت اور مادر وطن کی خدمت اسی طرح کرتے رہنے کیلئے نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔

لیکن ان تمام رکاوٹوں کے باوجود، انہوں نے ہماری بھرپور قیادت کی۔ اس پورے وقت میں وزیراعظم مودی کے ذریعے ذاتی طور پر کی گئی کوشش کسی غیرمعمولی انسان جیسی تھی، جو ایک عام آدمی کو کئی بار شکست سے دو چار کر سکتی تھی۔ ایسے وقت میں جب کہ خود سائنس داں اور ماہرین اسباب کو سمجھنے میں پریشانی کا سامنا کر رہے تھے، رد عمل تیار کرنا، نتائج اور حل جیسی چنوتیاں آسان نہیں تھیں۔
اس وبائی مرض کے دوران ہندوستان کی مزاحمت اور ردعمل اپنی پہلی مدت میں نریندر مودی کے ذریعے لیے گئے کئی دور اندیش فیصلوں کی وجہ سے بھی ممکن ہوپایا جو کہ ان کی دور اندیشی کا غیر متنازع ثبوت ہے۔ غریب اور کمزور لوگ جو اس صدمہ سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے، انہیں جن دھن کھاتوں کے ذریعے فوری مالی راحت فراہم کی گئی، کیوں کہ نریندر مودی نے کئی سال پہلے ہر ہندوستانی کے لیے بینک کھاتہ کھولنے کا فیصلہ کیا تھا۔ جے ڈی وائی، پی ایم غریب کلیان یوجنا، پی ڈی ایس اور پی ایم کسان نے اس بات کو یقینی بنایا کہ حکومت بغیر کسی لیکیج کے دیہی لوگوں، کسانوں اور غریبوں کو مالی مدد فراہم کرے۔ ڈیجیٹل انڈیا نے کروڑوں لوگوں کو معلومات سے جڑنے اور دور دراز کے مقام سے کاروبار کو جاری رکھنے میں مدد کی۔ وبائی مرض کے دوران رسوئی گیس کے سیلنڈر کے لیے اجولا اسکیم، جن اوشدھی یوجنا اور پی ایم آیوشمان نے عام لوگوں کی کافی مدد کی۔ وزیر اعظم مودی کی قیادت نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ہندوستان کسی بھی جھٹکے کو برداشت کر سکتا ہے اور کئی ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے اموات کی تعداد کو بہت کم کر سکتا ہے۔
جیسا کہ گزشتہ18مہینوں نے دکھایا ہے، ہندوستان کو ایک مضبوط قیادت کی ضرورت تھی جو ہندوستان کو اس قسم کے بحران سے باہر نکالنے کی صلاحیت رکھتی ہو اور یہ خوش قسمتی کی بات ہے کہ ہمیں ان کی قیادت اور دور اندیشی حاصل تھی جس نے کووڈ کے خلاف ہماری لڑائی میں کئی اہم کامیابیاں حاصل کیں جیسے کہ حالیہ13ستمبر کو ملک میں ٹیکہ لگوانے والوں کی تعداد75کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔
کووڈ کے بعد کے دور میں پوری دنیا میں زبردست تبدیلیاں واقع ہو رہی ہیں۔ ہندوستان بھی اپنے مستقبل کے بارے میں مزید مضبوط، پراعتماد اور پرجوش ہے، جس کے لیے وزیراعظم مودی نے مستقبل میں ’آتم نربھر بھارت‘کا وژن دیا ہے اور ان کا پختہ عقیدہ ہے کہ ہندوستان کا وقت آ چکا ہے۔ جیسا کہ انہوں نے اس سال 15اگست کو کہا تھا، ’یہی وقت ہے، یہی وقت ہے۔ ‘
یہی وہ سال ہے جب میں نے بھی عوام کی خدمت کرتے ہوئے15سال مکمل کر لیے ہیں۔ میں اسے اپنے لیے اعزاز اور خوش قسمتی سمجھتا ہوں کہ مجھے وزیراعظم مودی کی قیادت میں خدمت کرنے کا موقع ملا اور میں وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں اپنے ملک اور اپنے تمام لوگوں کی ترقی کا گواہ بن رہا ہوں۔
وزیراعظم مودی کا یوم پیدائش منانے کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ تمام ہندوستانی سبھی کے لیے ایک مضبوط، خوشحال ہندوستان کے ان کے خواب پر یقین کریں اور اس کے لیے مل کر کام کریں۔ سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس، سب کا پریاس۔ آج کے دن، میں انہیں اچھی صحت اور مادر وطن کی خدمت اسی طرح کرتے رہنے کے لیے نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔
(مضمون نگار صنعت کاری، ہنرمندی کی ترقی، الیکٹرانکس اور ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر مملکت ہیں)

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here