ملک کے اولین وزیرتعلیم مولانا ابوالکلام آزاد

0

چودھری آفتا ب احمد
سابق وزیر وہریانہ اسمبلی میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈر

آج’’ قومی یوم تعلیم‘‘ یعنی مولانا ابوالکلام آزاد کی پیدائش کا دن ہے، مولانا ابوالکلام آزادآج ہی کے دن11؍نومبر 1888میں مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے تھے ،مولانا آزاد آزاد ہندوستان کے پہلے وزیرتعلیم بنے تھے،اس لئے اس دن کو قومی یوم تعلیم کے طورپر منایا جاتا ہے ، مولانا ابوالکلام آزاد نے ملک کے وزیر تعلیم رہتے ہوئے نہ صرف ایک اچھی تعلیمی پالیسی بنائی بلکہ ہندوستان کو جدید تعلیم اور اس کے نصاب نیزتعلیمی نظام کو اسکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں نافذ کرکے اس سے لوگوں کو فیضیاب کرایا،انھوں نے تکنیکی تعلیم اور مینجمنٹ کیلئے ملک کے اندر کئی ادارے کھلوائے ،ملک میں آئی آئی ٹی کی شروعات انھوں نے ہی کرائی تھی،انھوں نے میڈیکل کالج بنوائے ،اسکول ، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے قیام میں اہم کردار ادا کیا ،مولانا آزاد نے یونیورسٹیوں کو گرانٹ ادا کرنے و ایک نگراں ادارہ کے طورپر ملک کی دارالحکومت دہلی میں یونیورسٹی گرانٹ کمیشن (یو جی سی)قائم کیا ،انھوں نے1953میںدہلی میں سنگیت ناٹک اکادمی 1954میں دہلی میں ہی ساہتیہ اکادمی اور للت کلا اکادمی قائم کی ،یہی نہیں انھوں نے تعلیم کو ہرفرد تک پہنچانے کے لئے ایک میکانظم تیار کیا،مولانا کی انھیں خوبیوں کی وجہ سے حکومت ہند نے ان کی پیدائش کے دن کو2008سے قومی یوم تعلیم کے طورپر منائے جانے کا فیصلہ لیا ،مولانا ابوالکلام آزاد ملک کے وزیرتعلیم ہونے کے ساتھ ساتھ سینٹرل ایڈوائزری ایجوکیشن بورڈ کے صدر بھی تھے۔
مولانا ابوالکلام آزاد کا اصل نام محی الدین احمد تھا،ان کے والد انھیں فیروزبخت کہہ کر پکارتے تھے والدہ کا تعلق مدینہ سے تھا،سلسلہ نسب شیخ جمال الدین افغانی سے ملتا ہے،جو اکبر اعظم کے عہد میں ہندوستان آئے اور یہیں مستقل سکونت اختیار کرلی،مولانا آزاد کے والد کو 1857کی جنگ آزادی میں جبکہ انگریز مسلمانوں کے خون کے پیاسے ہوگئے تھے،ہندوستان سے ہجرت کرنی پڑی، کئی سال عرب میں رہے،مولانا کا بچپن مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ میں گزرا،ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کی،پھر مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے جامعہ ازہر مصر چلے گئے،جامعہ ازہر سے تعلیم کی فراغت کے بعد ہندوستان آئے اور آزادی کی لڑائی میں گاندھی جی کے ساتھ کندھے سے کندھا ملاکر چلنے لگے،وہ کچھ ہی دنوں میں کانگریس کے بڑے لیڈر بن گئے ،اور کئی بار کانگریس کے صدر بھی رہے، مولانا یوں تو سیاسی طورپر کانگریس پارٹی کے ہمنوا تھے،لیکن ان کے دل میں مسلمانوں کے لئے درد تھا،جسے انھوں نے کئی موقعوں پر ظاہر بھی کیا ہے۔
مولانا ابوالکلام آزاد سیاسی طورپر کانگریس سے جڑے ہوئے تھے،وہ 1947میں ملک کو آزادی ملنے کے بعد پہلی مرتبہ 1952 کے عام پارلیمانی انتخابات میں اتر پردیش کی رام پورپارلیمانی سیٹ سے ممبر پارلیمنٹ منتخب ہوئے،اس کے بعد 1957کے عام پارلیمانی انتخابات میں ہریانہ کی گڑگاؤں پارلیمانی سیٹ سے ممبر پارلیمنٹ منتخب ہوئے،اور پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی کابینہ میں وزیر تعلیم بنائے گئے، حالانکہ آزادی سے قبل مسلمانوں کی اپنی پارٹی مسلم لیگ موجود تھی اور سیاسی طورپر مضبوط بھی تھی،باوجود اس کے انھوں نے کانگریس کو ترجیح دی اور اسی پارٹی کے بارے میں مسلمانوں کو یہ باور کرانے کی ہر چنداں کوشش کرتے رہے کہ ہمیں قوم پرستی کو ترک کرکے سیکولرازم میں یقین رکھنا چاہئے،اس ملک کو قوم پرستی نہیں چاہئے وہ ہندؤں میں ہو یا مسلمانوں میںاس کی ملک کو ضرورت نہیں ہے،کیونکہ یہ ملک سب کا ہے اس ملک میں ہندو بھی رہتے ہیں،مسلمان بھی رہتے ہیں،سکھ بھی رہتے ہیں عیسائی ،پارسی ،بودھ اور جین بھی رہتے ہیں،جب اس ملک میں سب مذاہب کے ماننے والے رہتے ہیں تو ایسی صورت میں قوم پرستی مذہبی فرقہ واریت اور آپسی تناؤ کے علاوہ ہمیں کچھ نہیں دے سکتی،قوم پرستی چاہے ہندو کی ہو یا مسلمان کی یہ ملک کیلئے بالکل بھی ٹھیک نہیں ہے،ملک کو سب سے پہلے غلامی سے آزادی چاہئے اور وہ آزادی سیکولرازم کی بنیادوں پر قائم ہو،ایسے خیالات مولانا ابوالکلام آزاد کے ملک اور قوم دونوں کے لئے تھے،انھوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قیام اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو برباد ہونے سے بچانے میں اہم کردار اداکیا تھا۔ مولانا ابوالکلام آزاد تقسیم ہندوستان کے خلاف تھے،وہ نہیں چاہتے تھے کہ ہندوستان کے دوٹکڑے ہوں،جبکہ مسلم لیگ نے محمد علی جناح کی قیادت میں پاکستان بنانے کی کال دے دی تھی،انھوں نے مسلمانوں کو سمجھایاکہ ہندوستان یونین میں ہی مسلمانوں کی فلاح ہے،وہ بھارت سے الگ ہونے کے لئے اپنی رائے نہ دیں،مولانا ابوالکلام آزاد کے اس نظریہ کی مسلم لیگ کے خلاف جاکر علماء نے بھی حمایت کی تھی ،مولانا ابوالکلام آزاد کو گرچہ علماء کی حمایت سے اپنے اس مشن میں کافی حد تک کامیابی ملی ،مگر وہ ملک کو دو ٹکڑے ہونے سے نہیں بچا سکے،اس کا آگے چل کر بھارت کے مسلمانوں کو بڑا خمیازہ بھگتنا پڑا جو ہنوزجاری ہے،ہندوستان کے مسلمان ہندو شدت پسند تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس)کے نشانہ پر آگئے، حالانکہ سردار ولبھ بھائی پٹیل نے جبکہ وہ ملک کے نائب وزیراعظم تھے اس تنظیم پر پابندی عائد کرنے کی نیت بھی کرلی تھی،مگر وزیراعظم جواہرلال نہرو کی نرم روی کی وجہ سے وہ ایسا نہیں کر سکے۔حیرت کرنے والی بات یہ ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد اپنے دل میں اپنی قوم کے لئے ہمدردی اور درد رکھتے تھے،وہ ملک کے پہلے وزیرتعلیم بنے انھوں نے تعلیمی پالیسیاں بنائیں ،تعلیمی ادارے کھلوائے ،مگر ان کی قوم ہی تعلیم سے دور رہی یہ ایک ایسا سوال ہے جو ہر کسی کے ذہن میں ابھرتا ہے،آخر ایسا کیوں ہوا؟دراصل مولانا ابوالکلام آزاد سرسید احمد خان کی جدید تعلیم کے نظریات کے حامی تھے،اسی لئے انھوں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قیام میں اہم کردار ادا کیا ہے،لیکن وہ علماء کے اس نظریات کو توڈنے میں ناکام رہے جو نظریات سرسید کی جدید تعلیم کا مخالف اور خالص مذہبی تعلیم کا حامی رہا ہے،یہ ایسا نظریہ تھا جو وقت کی دھارا کو پہچان نہ سکا اور دنیاوی ترقی میں پیچھے رہ گیا،اس کا نقصان یہ ہوا کہ مسلمان سرکارکی حصہ داری اور سیاست میں بھی پیچھے رہ گئے۔ مولانا ابوالکلام آزاد کو آزادی کی لڑائی میں جیل کی سزا بھی کاٹنی پڑی،انھیں 1992میں ملک کا سب سے بڑا اعزاز بھارت رتن ازمرگ دیاگیا،حکومت نے مولانا ابوالکلاآزاد کے نام سے کئی اداروں کے نام کو منسوب کیا ہے،جن میں سب سے اہم مولانا ابوالکلام آزاد یونیورسٹی،حیدرآباد،مولانا آزاد میڈیکل کالج،دہلی،مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن اور دوسرے کئی اہم تعلیمی ادارے شامل ہیں،مولانا ابوالکلام کا انتقال 22؍فروری 1958 کو دہلی میں ہوا،مولانا ابوالکلام آزاد کا مزار جامع مسجد کے باہری احاطہ میں صدر دروازہ کے قریب ہے۔