ہندوستان کی تاریخ ساز شخصیت…ابوالکلام آزاد

0

ڈاکٹرحافظؔ کرناٹکی

مولانا ابوالکلام آزاد ان عبقری لوگوں میں سے ایک تھے جو روزروز پیدا نہیں ہوا کرتے ہیں۔ مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت بہت جامع اور ہمہ گیرتھی۔ کہنے کو تو لوگ کسی کو بھی نابغۂ روزگار کہہ دیتے ہیں، مگر سچ پوچھیے تو مولانا آزاد کی شخصیت ہر طرح سے نابغۂ روزگار کہلانے کی حقدار تھی۔ ہم سبھی جانتے ہیں کہ جس عمر میں لڑکے بالے کھیل کود میں اور پڑھائی لکھائی میں مست مگن رہا کرتے ہیں اس عمر میں مولانا ابوالکلام آزاد قوم و ملّت کی شیرازہ بندی اور ملک عزیز ہندوستان کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کرنے کے لیے اخبار نکال رہے تھے۔ وہ بھی اس پایہ کا اخبار کے ملک بھر کے سارے بڑے علماء، دانشور، اور ادیب و اسکالر اسے ذوق و شوق اور فخر کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔ اور باالخصوص مولانا آزاد کی تحریروں اور مضامین کے لوگ دیوانے تھے۔ کسی کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ ابوالکلام آزاد کوئی عمر دراز مولانا نہیں بلکہ ایک بالکل تازہ نوجوان ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے حوالے سے کئی واقعات مشہور ہیں جو آج بھی دلچسپی سے سنائے جاتے ہیں۔ایک بار خواجہ الطاف حسین کی ملاقات ابوالکلام آزاد سے ہوئی تو انہیں لگا کہ یہ لڑکا مولانا ابوالکلام آزاد کا بیٹا ہے۔ لہٰذا انہوں نے ان سے کئی سوالات کیے اور ان کے والد مولانا ابوالکلام آزاد کی خیریت بھی دریافت کی اور انہیں سلام کہنے کے لیے بھی کہا۔ مگر جب مہدی افادی نے بتایا کہ یہی ابوالکلام آزاد ہے تو وہ حیران ہوگئے۔ انہیں یقین ہی نہیں آیا کہ جس بھاری بھرکم شخصیت ابوالکلام آزاد کے مضامین وہ دلچسپی سے پڑھا کرتے ہیں وہ یہی نوجوان ہے۔
مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت بڑی پہلودارتھی۔ اس ایک شخص میں انسانی صفات کے کئی شعبے یکجا ہوگئے تھے اور کمال کی بات یہ تھی کہ ہر صفت ایک دوسرے پر حاوی ہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتی تھی۔ ان تمام صفات کی یکجائی جہاں نظر آتی ہے وہ مولانا ابوالکلام کی علمی اور عملی دونوں زندگیاں ہیں۔ مگر ان کی کامل شکل ان کی تحریر اور تقریر میں نظر آتی ہے۔
مولانا آزاد ایک دانشور دور اندیش مدبر، بے باک صحافی اور سیاسی رہنما ہونے کے ساتھ ساتھ صاحب طرز انشا پرواز بھی تھے۔ اپنی سوچ اور اپنی فکر کے حامل دانشوروں اورجینیس شخصیتوں کا عموماً یہ طرہ ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کی بنائی ڈگرپر نہیں چلتے ہیں وہ اپنے عہد، زمانے، اور ملک و قوم اور عوام الناس اور بین الاقوامی سیاسی، تعلیمی، اور اقتصادی رشتوں اور رابطوں اور بنی نوع انسان کے مزاج کو اور وقت کی نبض کی رفتار کو وہ اپنے انداز میں دیکھتے جانتے اور سمجھتے ہیں۔ایک زمانہ تھا کہ مسلمانوں کے بڑے رہنماکے طور پر سرسید احمد خان ہندوستان کے افق پر نمودار ہوئے اور وقت کی نبض کو اور اس کے مزاج کو سمجھتے ہوئے مسلمانوں کو سرکار انگلشیہ کی سرپرستی قبول کر نے اور تعلیم و تعلّم کو اپنانے کا مشورہ دیا۔ انہیں لگا کہ تعلیم کے بغیر کسی قسم کی جدّوجہد کا میاب نہیں ہوگی۔ اس کے نصف صدی کے بعد ہندوستان کی سیاسی صورت حال اور ملک و قوم کی نبض کی رفتار کو سمجھتے ہوئے مولانا ابوالکلام آزاد نے قوم کی رہنمائی کا بیڑا اٹھایا اور اپنی علمی اور عملی صلاحیتوں سے کام لے کر ملک کی جدّوجہد آزادی میں نہ صرف یہ کہ خود عملی طور پر حصّہ لیا بلکہ قوم کو بھی حصہ لینے پر آمادہ کیا۔ یہاں یہ بات بھی کہی جاسکتی ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد ان خوش نصیب سیاسی رہنماؤں اور جدوجہد آزادی کے ان مجاہدوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے اپنی آنکھوں سے اپنے خواب کو شرمندہ تعبیر ہوتے ہوئے دیکھا۔ مگر یہ ان کا ٹوٹا ہوا خواب تھا۔ کیوں کہ انہوں نے متحدہ آزاد ہندوستان کا خواب دیکھاتھا مگر وہ دوٹکڑوں میں بٹ گیا۔اسی لیے کسی نے آزادی کا پروانہ لیے ہندوستان کے سیاسی رہنماؤں کے چہرے کے تأثر کے بارے میں لکھا تھا کہ جب ہندوستان کی آزادی کا پروانہ ہندوستان کے رہنماؤں کے ہاتھوں میں دے دیاگیا تو میں نے دیکھا کہ نہرو کے چہرے پر اطمینان اور خوشی کا رنگ جھلک رہا تھا۔ پٹیل کی آنکھوں میں مسرت کے چراغ روشن تھے اور بھی بہت سارے رہنما موجود تھے جن کے چہرے سے خوشی ٹپک رہی تھی۔ اس بھیڑ میں ایک چہرہ ابوالکلام آزاد کا تھا۔ جس پر ٹھہراؤ، تفکر، اور غم کی ہلکی سی کہر چھائی تھی۔کیوں کہ ان کے خوابوں کا مشترکہ و متحد ہ ہندوستان دو ٹکڑے ہو چکاتھا۔ بعض لوگ تو آج کھلے طور پر کہتے ہیں کہ ہندوستان میں جو بھی مسلمان رہ گئے ہیں وہ مولانا ابوالکلام آزاد کی محنت کا ثمر ہے۔ اس کے باوجود یہ بات سچ ہے کہ مولانا آزاد نے آزادی کی جس جنگ میں عملی طور پر حصہ لیا اس میں کامیاب ہوئے اور آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم بنے۔ اور یہ ضروری بھی تھا۔ سبھی بڑے رہنما یہ بات بہت اچھی طرح جانتے تھے کہ اس غلامی سے آزاد ہوئے تازہ تازہ آزادی کی ہوا میں سانس لیتے ملک کو مستحکم بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اسے تعلیمی اعتبار سے مضبوط اور خود کفیل بنایاجائے اور اس کے لیے ایک ایسا تعلیمی مدبر تلاش کیا جائے جو وزیر تعلیم بن کر ملک کو تعلیمی اعتبار سے اپنے قدموں پر کھڑا کرنے میں ہر طرح کامیاب ہو۔ سبھوں کی نظر انتخاب مولانا ابوالکلام آزاد پر ٹک گئی کیوں کہ سبھی جانتے تھے کہ بس وہی ایک ایسے انسان ہیں جو ملک کو تعلیم کی شاہ راہ پر کامیابی سے آگے لے جاسکتے ہیں۔مولانا ابوالکلام آزاد بڑی دانشوروانہ انقلابی شخصیت کے مالک تھے۔ وہ ہندوستان میں تعلیم کی جڑوں کو مضبوط کرنے والے ایسے وزیر تعلیم تھے جن کی فکر کی بنیادوں پر ہی آج کا نظام تعلیم قائم ہے۔