یوپی کے مدارس میں اب ریاضی، تاریخ اور سائنس پڑھانا لازمی!

0

yogi adityanathلکھنؤ (ایس این بی) : ٹیچرس ایسوسی ایشن مدارس عربیہ اترپردیش نے مدرسہ بورڈ کی اس تجویز کی مخالفت کی ہے، جس میں مدارس کی ملازمت میں اردو کی لازمیت ختم کرنے اور منشی، مولوی و عالم کے امتحان میں لازمی مضامین کی تعداد میں اضافہ کی بات کہی گئی ہے،جس کے تحت یوپی میں سرکاری منظوری والے مدارس کے طلبا کو آئندہ تعلیمی سیشن سے این سی ای آرٹی نصاب کے مطابق لازمی موضوعات کی شکل میں ریاضی، تاریخ، سائنس اور سماجیات کی بھی تعلیم دی جائے گی۔ ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری دیوان صاحب زماں نے ایک پریس ریلیز میں مدرسہ بورڈ کی تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مدارس کے منشی، مولوی اور عالم کے امتحان میں لازمی مضامین کا اضافہ غیرضروری اور طلبا پر بار ہے، جس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک جانب مدرسہ بورڈ سکنڈری ایجوکیشن یوپی اور سی بی ایس ای بورڈ کی طرز پر این سی ای آر ٹی کی کتابیں مدارس کے نصاب میں شامل کرنے کی بات کرتا ہے تو دوسری جانب لازمی مضامین کی تعداد میں اضافہ کی تجویز پاس کرتا ہے، جو مضحکہ خیز ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ مدارس کی بدقسمتی ہے کہ مدرسہ بورڈ کی تشکیل میں مدارس کے اساتذہ کو نظرانداز کرکے سیاسی لیڈروں کو نامزد کیا گیا، جس کے بعد یہ صورت حال پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ ایکٹ ضابطہ کے مطابق مدارس کی ملازمت میں اردو کی لازمیت ختم کرنے کے فیصلہ سے مدارس میں تعلیم کا معیار متاثر ہوگا، جو مستقبل کیلئے نہ صرف خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ ایکٹ 2004 کی دفعہ 3 کے مطابق مدرسہ تعلیم کے ماہر کو بورڈ کا چیئرمین اور شیعہ و سنی مدارس کے 2 پرنسپل اور4 اساتذہ کو ممبر نامزد کرنے کا ضابطہ ہے، لیکن موجودہ بورڈ کے چیئرمین و ممبران ان شرائط کو پورا نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں رضوان الحق ایڈووکیٹ کو چیئرمین کے عہدہ سے اور غیاث الدین ندوی لکچرر طبیہ کالج لکھنؤ کو ممبر کے عہدہ سے الٰہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے 29 مئی 2009 کے اپنے فیصلہ میں برطرف کرکے ماہر تعلیم کی باقاعدہ تشریح کر دی تھی۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کے خلاف یوپی حکومت کی اپیل بھی 30 اکتوبر 2009 کو خارج کر دی گئی تھی۔ مدرسہ بورڈ کے موجودہ چیئرمین اور ممبران کی نامزدگی اس فیصلہ کی تشریح اور مدرسہ بورڈ ایکٹ2004 کی دفعہ 3 کے خلاف ہے۔ اس لئے ٹیچرس ایسوسی ایشن مدارس عربیہ اترپردیش کا ایک وفد جلد ہی اس سلسلہ میں اعلیٰ حکام سے مل کر مدرسہ بورڈ کی تجویز واپس لینے کا مطالبہ کرے گا۔
واضح رہے کہ اترپردیش مدرسہ تعلیمی بورڈ کے تحت سینئر سکنڈری عالم (انٹرمیڈیٹ) تک کی تعلیم میں سائنس، ریاضی، تاریخ اور سماجیات کے مضامین لازمی طور پر شامل کرنے کا فیصلہ مدرسہ تعلیمی بورڈ کی منگل کو ہوئی میٹنگ میں کیا گیا ہے۔ ابھی تک مذکورہ مضامین اختیاری تھے اور طلبا کو ان میں سے اپنی دلچسپی کے مطابق مضامین منتخب کرنے کا اختیار تھا، لیکن اب مدرسہ بورڈ نے، جو تجویز پیش کی ہے، اس کے مطابق منشی، مولوی (ہائی اسکول) کے نصاب میں دینیات، عربی، فارسی، اردو، انگریزی، ہندی پانچ مضامین لازمی اور معقولات سماجی علوم، سائنس، طب اور ہوم سائنس میں ایک مضمون اختیاری ہوگا۔ اسی طرح انٹرمیڈیٹ میں دینیات، عربی، فارسی، اردو، انگریزی 4 مضامین لازمی اور معقولات سماجی علوم، طب، ہوم سائنس، ہندی، سائنس، کمپیوٹر ٹائپنگ وغیرہ میں سے ایک مضمون اختیاری تھا۔ ان میں مزید لازمی مضامین کا اضافہ کی تجویز مدرسہ تعلیمی بورڈ کی جانب سے پیش کی گئی ہے۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here