مالے :مغرب نے پھر منہ کی کھائی

0

لگتا ہے افریقہ میں فرانس کی بالا دستی کا زوال آرہا ہے۔ اس کے اشارے بہت پہلے سے ہی ملنے شروع ہو گئے تھے مگر اب افریقہ کے ساحلی خطہ کے اہم ملک مالے نے فرانس کے ساتھ دفاعی سمجھوتے کو یکسر ختم کر دیا ہے۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ غیر ملکی افواج نے رہی سہی فوجی نفری کا انخلا شروع کر دیا ہے۔ فرانس نے 2013 میں اس علاقہ میں دہشت گردی کے خلاف جد وجہدکے لیے اپنی فوج بھیجی تھی اورمالے اور آس پاس القاعدہ ودیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مہم چلائی تھی مگر تقریباً 9 سال تک مہم چلانے کے بعد اب یہ لگتا ہے کہ فرانس کے حقیقی عزائم کیا ہیں یہ سب مقامی حکومتوں اور عوام کے سامنے آگئے ہیں ۔کئی ملکوں کویہ احساس ہو گیا ہے کہ فرانس جان بوجھ کر اس علاقہ میں اپنا قیام طویل کر رہا ہے اور اس منصوبہ کے پس پشت یقینا کچھ مفادات ہیں۔ خیال رہے کہ یہ خطہ معدنی ذخائر اور خاص طور پر یورینیم کے لیے مشہور ہے ۔ فرانس مسلسل اس بات پر اصرار کرتا رہا ہے کہ اس علاقہ میں جمہوری طور پر منتخب حکومتیں ہی اقتدار میں رہیں۔ مالے میں 2020 میں فوج نے عبوری حکومت کا تختہ پلٹ کر اقتدار میں قبضہ جما لیا تھا۔ فرانسیسی حکومت اور دیگر مغربی حلیف مالے کے مقتدر طبقہ پر یہ دبائو ڈالتے رہے ہیں کہ وہ الیکشن کرانے کے لیے ایک مربوط لائحہ عمل پر عمل کریں جس پر اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتوں کا اتفاق ہے مگر بعد میں فرانس کے اثرات اور دبائو کی پالیسی کو مد نظر رکھتے ہوئے مالے کی فوج نے روس کے ساتھ روابط بنا لیے اور وہاں سے فوجی ماہرین کو مدعو کرکے دہشت گردی اور لاقانونیت کے خلاف ایک فوجی محاذ تیار کر لیا ۔ پچھلے دنوں ماسکو کی سرکار کے قریبی سمجھے جانے والے فوجی ادارے جس کو بھاڑے کے ٹٹو یا پیشہ ور پرائیویٹ کمپنیاں بھی کہتے ہیں ، کے ماہرین نے متعدد مقامات پر اپنا کنٹرول کر لیا ہے۔ فرانس کی حکومت کی سرگرمیوں پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے مالے کی حکومت نے فرانسیسی سفیر کو نکال دیاتھا۔ ظاہر ہے یہ قدم دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتی ہوئی دوریاں اور کشیدگیوں کو ظاہر کرتا ہے۔ پچھلے دنوں جس فوجی اڈے سے فرانسیسی فوج کو بے دخل کیا گیا تھا اور اس پر ویگنر گروپ نے کنٹرول کر لیا تھا وہاں سے اجتماعی قبریں برآمد ہوئی تھیں فرانس کا کہنا ہے کہ یہ سب ویگنر گروپ کی کرتوت ہیں جو انسانی حقوق کی صریحاً خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ فرانس اور دیگر مغربی ممالک کی رائے ہے کہ ویگنر گروپ جہاں جہاں تعینات ہے وہا ں کشت وخون کا بازار گرم کر رہا ہے۔ وہ اپنے عزائم کے حصول کے لیے انسانی اقدار کو پامال کرتا ہے ۔ بہر کیف چند روز قبل مالے سرکار نے فرانس کے ساتھ کیے گئے تین معاہدوں کو رد کر دیا ہے یہ وہ تین معاہدے ہیں جن کی وجہ سے فرانسیسی افواج قانونی طور پر فرانس میں تعینات ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مالے کافرانس کے ساتھ سمجھوتے توڑنے کا فیصلہ یکطرفہ ہے۔ جب کہ فرانس چاہتا تھا کہ ان سمجھوتوں کو یکدم نہ توڑا جائے بلکہ کچھ ترمیم کر کے بیچ کا راستہ نکالا جائے ، مگر مالے کا کہنا ہے کہ یہ سمجھوتے اس کی اقتدار اعلیٰ کی صریحاً خلاف ہیں۔ مالے فوج کا الزام ہے کہ غیر ملکی افواج کے جہازوں نے اس کی فضائی حدود کی کم از کم 50 مرتبہ خلاف ورزی کی ہے اور مقامی فوج و حکومت کے ضوابط کو نظر انداز کیا ہے۔ فرانس ان الزامات کی تردید کر رہا ہے۔ اجتماعی قبروں کے دریافت ہونے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان مزید تلخی دیکھی جا رہی تھی۔ فرانس پر الزام ہے کہ غوثی ( Gossi ) فوجی اڈے میں جو اجتماعی قبریں برآمد ہوئی ہیں اس کے پیچھے خود فرانس ہے نہ کہ روسی حمایت یافتہ کمپنی ویگنر گروپ کے فوجی۔ فرانس ان الزامات کی تردید کرتا ہے ، مالے کا کہنا ہے کہ فرانس کی فوج اس کی فوجی تنصیبات اور اداروں کی جاسوسی کر رہا ہے اور تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔
فرانس کے 2400 فوجی مالے میں تعینات تھے اور انتہائی خطرناک حالات میں اپنی خدمات انجا م دے رہے تھے۔ مگر اچانک مالے کے وزیر خارجہ کے اس اعلان کے بعد کہ ان کا ملک یہ سمجھوتے ختم کر رہا ہے مالے کے وزیر خارجہ اس سمجھوتے کو رد کرنے کے بعد یہ اعلان کر دیا کہ فرانس مالے کی سرزمین پر جو بھی سرگرمیاں انجام دے رہا ہے ان کا کوئی قانونی جواز نہیں رہ گیا ہے۔ فرانس نے اس اعلان کے بعد کہا ہے کہ وہ اپنی فوج کی انخلا کی کارروائیاں جاری رکھے گا لیکن مالے کی سرزمین پر جو کچھ ہو رہا ہے اس پر بات چیت اور اتفاق رائے ہونا چاہیے۔ اگر چہ فرانس کا یہ موقف ہے کہ مالے کے اقتدار اعلیٰ کا وہ احترام کرتا ہے ۔ ایک افریقی تھنک ٹینک افریکن سکیورٹی سیکٹر نیٹور (ASSN ) کے ڈائریکٹر نگالے بگایوکو کا کہنا ہے کہ آج ایسی صورت حال پیدا ہوگئی ہے کہ اس بات کا خطرہ ہے کہ فرانس اور مالے کی افواج کے درمیان کسی غلط فہمی کے نتیجہ میں کوئی بڑا حادثہ نہ ہو جائے۔کچھ ماہرین کو یہ لگتا ہے کہ یہ ٹکرائو کچھ اور پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔ مالے میں اقوام متحدہ کی امن فوج تعینات ہے جس کے 14 ہزار فوجی اور پولیس اہلکار ہیں۔ یہ اہلکار اقوام متحدہ کے تحت کام کررہے ہیں اور یہ مشن اقوام متحدہ کا سب سے بڑا امن مشن ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگردونوں ملکوںکے درمیان کوئی ٹکرائوہوا تو اقوام متحدہ کے تحت کام کرنے والی امن فورس کا کیا رول ہو گا اور فرانس کے ساتھ سمجھوتا توڑنے کے بعد اگر کوئی پیچیدگی پیش آتی ہے تو اس کے نتائج بہت زیادہ خراب ہو سکتے ہیں اور اقوام متحدہ کی امن فورس کے لیے بھی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ یہ صورت حال فرانس کے لیے انتہائی تشویشناک اور اس کے وقار کو خراب کرنے والی ہے۔ اس سے پیچیدہ معاملہ یہ ہے کہ فرانس اور مغربی ممالک کے دبدبے کو روس چیلنج کر رہا ہے وہ بھی ایک ایسی سکیورٹی کمپنی اور پرائیویٹ آرمی کے ذریعہ جو کہ عالمی سطح پر کئی معاملات میں نکتہ چینی اور جنگی جرائم کے مرتکب پائی گئی ہے۔جب کہ مالے کے حکمرانوں کا کہنا ہے کہ ویگنر گروپ صرف مشاورتی رول ادا کر رہاہے۔ یہاں یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ یہ حالات صرف مالے تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ شرپسندانہ اور مسلح جد وجہد کا دائرہ پڑوسی ممالک برکینا فاسو اور نائجر تک پھیلا ہوا ہے۔ گزشتہ دوسال سے مالے میں جو کشت و خون کا بازار گرم ہے اس میں بڑی تعداد میں فوجی اور شہری ہلاک ہوئے ہیں ۔ بڑی تعداد میں لوگوںنے ہجرت کی ہے۔ فوج نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ان حالات کو قابومیں کرنے کے بعد ملک میں سول حکومت قائم کر دے گی مگر فوج اس وعدے کو پورا نہیں کر رہی ہے۔ مغربی افریقہ میں فرانس اور مغربی ممالک کی حمایت والے پندرہ ممالک اکنامک کمیونٹی آف ویسٹ افریقہ اسٹیٹس پر مشتمل بلاک (ای سی اوڈبلیو اے ایس) مالے کی سرکار پر دبائو ڈالتا رہا ہے کہ وہ ملک میں جمہوری عمل کو شروع کرائے اوروہاں پر منتخب حکومت کے قیام کے لیے نظام الاوقات پر عمل آوری یقینی بنائے۔ اس نظام الاوقات کے مطابق مالے میں 2023 کے اوائل تک ایک منتخب حکومت کا قیام ضروری ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ مالے کے علاوہ برکینا فاسو ، گینیاں میں بھی جمہوری طور پر منتخب حکومت کا قیام ضروری ہے ۔ ان دونوں ملکوںمیں اقتدار فی الحال فوج کے ہاتھ میں ہے۔ (ش۔ا۔ص)

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS