’ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز‘

0

صبیح احمد

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے غازی آباد میںایک پروگرام کے دوران واضح طور پر کہا ہے کہ ’ تمام ہندوستانیوں کا ’’ڈی این اے‘‘ ایک ہے، خواہ وہ کسی بھی مذہب کے ہوں۔‘ موہن بھاگوت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ’لوگوں میں اس بنیاد پر تفریق نہیں کی جاسکتی کہ ان کا عبادت کر نے کا طریقے کیا ہے،یا وہ کس کی پوجا (عبادت) کرتے ہیں۔‘بھاگوت نے لنچنگ (پیٹ پیٹ کر قتل ) کر نے کے واقعات میں شامل لوگوں کو بھی زبردست تنقید کا نشانہ بنایا اور کہاکہ ’ایسے لوگ ہندوتو کے خلاف ہیں۔‘ موہن بھاگوت نے ہندوستان کو ’وشوگرو‘بنا نے کیلئے بلا تفریق مذہب و نسل تمام ہندوستانیوں کو ساتھ مل کر چلنے کی ضرورت پر زور دیا۔آر ایس ایس سربراہ نے یہ بھی کہاکہ ’ہندو اور مسلمان کے درمیان اتحاد کا آخری راستہ آپسی بات چیت ہے اور آج کا پروگرام اس کی شروعات ہے۔‘بھاگوت نے اسی طرح کی بہت ساری باتیں کہیں جو قابل خیر مقدم ہیں۔ اگر انہوں نے کسی خفیہ مقصد کے بغیر واقعی صدق دل سے یہ سب باتیں کہی ہیں تو ان کی جتنی بھی ستائش کی جائے کم ہے۔ ان کی پزیرائی ہونی چاہیے اور سب لوگوں کو متحد ہو کر ملک کی ترقی کے لیے دل و جان سے لگ جانا چاہیے۔ ملک کے تمام امن پسند شہری یہی چاہتے ہیںکہ پرامن ماحول ہو، کسی کے ساتھ کسی بھی طرح کی تفریق نہ برتی جائے، متحدہ طور پر ملک ترقی کرے اور اس کا ثمرہ قطار کے آخری شہری تک پہنچے۔ بہرحال بھاگوت کے ان بیانات کے وقت اور مقام نے لوگوں کو ذرا ہٹ کر سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ انہوں نے پہلی بار اس طرح کی باتیں کہی ہیں، اس سے پہلے بھی وہ فرقہ وارانہ اتحاد کی پرزور وکالت کر چکے ہیں۔ اس کے بعد بھی لنچنگ جیسے واقعات رونما ہوتے رہے لیکن ان کی طرف سے کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا۔ آئندہ سال کے اوائل میں شمالی ہند کی کئی اہم ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے جا رہے ہیں اور یہ انتخابات انتہائی اہم اور فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ شاید اسی لیے اس موقع پر آنے والے بھاگوت کے بیانات پرسوال کھڑے ہونے لگے ہیں۔

معیشت میں جو گراوٹ آئی ہے اس سے نہ صرف آنے والے دنوں میں مہنگائی اور افراط زر میں مزید اضافہ ہو گا بلکہ موجودہ صورت حال کا آنے والی سیاست پر بھی اثر پڑے گا۔ لوگ اعداد و شمار پر کم بھروسہ کرتے ہیں۔ وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ ان کی جیب میں کتنا پیسہ ہے اور انہیں گھریلو اخراجات پر کتنے پیسے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔

ادھر وزیراعظم نریندر مودی کو ان دنوں سب سے بڑے سیاسی چیلنج کا سامنا ہے۔ ہندوستان میں کووڈ19- وبا کی شدت کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کے نتیجے میں وزیر اعظم نریندر مودی کو ملکی و بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا رہا۔ حالانکہ اب وبا کی شدت میں کمی آنے کا سلسلہ جاری ہے لیکن اس کے باوجود وزیراعظم مودی اور ان کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیے عوامی مقبولیت سے متعلق چیلنجز برقرار ہیں۔ حال ہی میں رائے عامہ کے 2 ایسے جائزے سامنے آئے ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ 2019 کے انتخابات میں 3 دہائیوں کے دوران سب سے زیادہ اکثریت حاصل کرنے والے وزیر اعظم نریندر مودی کی مقبولیت میں کمی آ رہی ہے۔ مئی میں امریکہ کی ڈیٹا انٹلیجنس کمپنی ’مارننگ کنسلٹ‘ کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ کورونا وبا میں شدت کے بعد اگست 2019 کے بعد سے مودی کی مقبولیت کم ترین سطح پر آگئی ہے۔ انہیں 63 فیصد رائے دہندگان کی پسندیدگی حاصل ہو سکی اور اپریل میں ان کی پسندیدگی میں 22 پوائنٹس کی کمی ہوئی۔ ’سی ووٹر‘ کے سروے میں بتایا گیا ہے کہ نریندر مودی کی کارکردگی پر ’بہت زیادہ مطمئن‘ ہونے کا جواب دینے والوں کی شرح ایک سال کے دوران 65 فیصد سے 37 فیصد پر آگئی ہے۔ مقبولیت میں یہ گراوٹ عوامی رائے عامہ کے سروے میں سامنے آئی ہے۔
جہاں تک پارٹی کے اندر مقبولیت کا سوال ہے، اس میں بھی گراف کو تشفی بخش نہیں کہا جا سکتا۔ حکمراں جماعت بی جے پی ایک وسیع تنظیمی ڈھانچہ رکھتی ہے اور ملک میں اس کے کروڑوں فعال کارکنان ہیں۔ اتنی بڑی جماعت میں اس بات کا درست اندازہ نہیں لگایا جاسکتا کہ پارٹی کارکنان میں عدم اطمینان کس حد تک پایا جاتا ہے۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ اپنے 7 سالہ دور اقتدار میں نریندر مودی کی پارٹی پر گرفت اتنی مضبوط ہوچکی ہے کہ ان کے خلاف کھلے عام بات کرنا آسان بھی نہیں ہے۔ بہرحال وبا سے نمٹنے کی حکومتی کارکردگی پر عوامی ناراضگی اور پارٹی کے اندر بڑھتا ہوا عدم اطمینان بی جے پی کے لیے اگلا سیاسی امتحان ثابت ہوسکتا ہے۔ اس سلسلے میں آئندہ برس ملک کی آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑی ریاست اترپردیش کے ریاستی انتخابات کو اہم قرار دیا جا رہا ہے جہاں اس وقت بی جے پی کی حکومت ہے۔ ماضی میں بی جے پی کو عوامی سطح پر رائے دہندگان کو متحرک کرنے والے مقامی عام کارکنان کی وجہ سے کامیابی حاصل ہوتی رہی ہے۔ ایسے کارکنان اپنے علاقوں میں رہنے والے رائے دہندگان کو ذاتی طور پر جانتے ہیں اور انہیں ووٹ دینے پر قائل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر ووٹرس کو بھرپور انداز میں متحرک نہیں کیا گیا تو ایسے حلقوں میں بی جے پی کو مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جہاں شکست یا فتح کا فرق بہت کم رہا ہے۔ اگرچہ آئندہ عام انتخابات 2024 میں ہوں گے لیکن اگلے سال اترپردیش کے انتخابات میں اگر بی جے پی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکی تو یہ پارٹی کے لیے بڑا دھچکا ہوگا۔
مغربی بنگال کے انتخابی نتائج نے بھی بھگوا بریگیڈ کے کان کھڑے کردیے ہیں۔ مغربی بنگال میں وزیراعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور بی جے پی کے صدر جے پی نڈا سمیت مرکزی قیادت نے انتخابی مہم چلائی۔ بی جے پی کے ساتھ ساتھ آر ایس ایس کے کارکنان بھی ممتابنرجی کی جماعت کو شکست دینے کے لیے میدان میں تھے۔ حالانکہ ممتابنرجی کو اپنی نشست پر شکست کا سامنا کرنا پڑا لیکن ان کی جماعت ریاست میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ مغربی بنگال میں مودی کی قیادت میں بی جے پی کی ناقابل تسخیر شبیہ کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ اپوزیشن پارٹیوں کے نزدیک مغربی بنگال کے انتخابی نتائج اس بات کا اشارہ ہیں کہ نریندر مودی اور ان کی جماعت کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا مقابلہ ابھی ممکن ہے۔ سیاسی مبصرین یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ ’آج جو بنگال نے کیا ہے، کل پورا ہندوستان کرے گا۔ ‘
2014 کے عام انتخابات جیتنے کے بعد نریندر مودی کی ہندوستانی سیاست پر گرفت مسلسل مضبوط ہورہی تھی۔ 2019 میں بھی ان کی جماعت نے قومی انتخابات میں تاریخی کامیابی حاصل کی۔ کانگریس سمیت سیاسی جماعتیں بی جے پی کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہی تھیں اور یہ توقع کی جارہی تھی کہ مودی 2024 کے عام انتخابات بھی جیت جائیں گے لیکن کورونا وائرس کے بعد کی صورت حال میں اسپتال کے بستروں، دواؤں اور آکسیجن کی کمی کے باعث ہونے والی اموات کے مناظر نے عوامی موڈ کو تبدیل کر دیا ہے۔ لوگ آسانی سے اسپتال میں بستروں، آکسیجن اور ویکسین کی قلت بھول نہیں پائیں گے۔ لوگ یہ بھی نہیں بھولیں گے کہ جب ملک میں زندگی اور موت کی اصل کشمکش جاری تھی تو کس طرح بی جے پی کی قیادت نے بنگال میں جیت اور ہار کو زندگی اور موت کا مسئلہ بنا لیا تھا۔ کورونا وائرس نے ملک کی معیشت کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ مالی سال 21-2020 میں ہندوستان کی شرح نمو منفی 7.3 فیصد رہی جو گزشتہ 4 دہائیوں کی بدترین شرح ہے۔ اقتصادی بحران کے سبب ملک میں بے روزگاری میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ مہنگائی بہت بڑھ گئی ہے جو کہ غریبوں کی زندگی پر ایک کاری ضرب ہے۔ ملک کی معیشت بری طرح تباہ ہوئی ہے۔ معیشت میں جو گراوٹ آئی ہے، اس سے نہ صرف آنے والے دنوں میں مہنگائی اور افراط زر میں مزید اضافہ ہو گا بلکہ موجودہ صورت حال کا آنے والی سیاست پر بھی اثر پڑے گا۔ لوگ اعداد و شمار پر کم بھروسہ کرتے ہیں۔ وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ ان کی جیب میں کتنا پیسہ ہے اور انہیں گھریلو اخراجات پر کتنے پیسے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ کورونا وائرس کی دوسری لہر نے امیر اور غریب سب کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دیا۔ بڑے پیمانے پر مالی وسائل رکھنے والے امیروں، 2 وقت کی روٹی کے محتاج غریبوں اور با اختیار بیوروکریٹس کو اپنے پیاروں کے علاج کے لیے ایک ہی انداز کی مشکلات سے گزرنا پڑ رہا ہے۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS