مدھیہ پردیش میں بلدیاتی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان

0

11جون سے کاغذات نامزدگی کا عمل ہوگا شروع، 6اور13جولائی کوہوگی پولنگ، 17 اور 18 جولائی کو نتائج کا اعلان
بھوپال(ایجنسیاں) : مدھیہ پردیش میں لوکل باڈی کے انتخابات دو مرحلوں میں ہوں گے۔ پہلے مرحلے کی پولنگ 6 جولائی کو ہوگی اور نتائج 17 جولائی کو آئیں گے۔ اس کے ساتھ ہی دوسرے مرحلے کی پولنگ 13 جولائی کو ہوگی اور نتائج 18 جولائی کو آئیں گے۔ ریاستی الیکشن کمیشن کے کمشنر بسنت پرتاپ سنگھ نے بدھ کو بلدیاتی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کردیا۔ اس کے ساتھ ہی شہری علاقوں میں بھی ضابطہ اخلاق نافذ ہو گیا۔ پنچایتی انتخابات کی تاریخوں کے اعلان کے ساتھ ہی دیہی علاقوں میں ضابطہ اخلاق پہلے سے ہی نافذ ہے۔ ووٹنگ صبح 7 بجے سے شام 5 بجے تک ہوگی۔ ریاست میں 298 میونسپل کونسل ہیں جن میں 16 میونسپل کارپوریشنز، 99 میونسپل کونسلیں اور 35 نو تشکیل شدہ ہیں۔ ریاست میں 378 اربن باڈیز میں سے 321 اربن باڈیز کی میعاد مکمل ہو چکی ہے۔ 57 اربن باڈیز کی میعاد ابھی پوری ہونا باقی ہے۔ 321 باڈیز میں سے 318 باڈیز اور 35 نو تشکیل شدہ اربن باڈیز یعنی 347 اربن باڈیز میں سے 29 میونسپل کونسلز کے انتخابات کرانے کے لیے الیکشن پروگرام جاری کیا گیا ہے۔
11 جون کو نوٹیفکیشن کے ساتھ ہی کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا سلسلہ شروع ہو جائے گا جو 18 جون تک جاری رہے گا۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 20 جون کو ہوگی اور کاغذات نامزدگی واپس لینے اور انتخابی نشانات کی الاٹمنٹ 22 جون کو ہوگی۔ پہلے مرحلے کے 11 اضلاع میں 6 جولائی اور دوسرے مرحلے کے 38 اضلاع میں 13 جولائی کو پولنگ ہوگی۔ شہری اداروں کے پہلے مرحلے کے ووٹوں کی گنتی 17 جولائی کو ہوگی اور دوسرے مرحلے کی ووٹنگ 18 جولائی کو ہوگی۔
اربن باڈی الیکشن ای وی ایم کے ذریعہ کرائے جائیں گے۔ اس کے لیے 55 ہزار ای وی ایم رکھی گئی ہیں۔ اس میں سے 30,000 ای وی ایم کا استعمال کیا جائے گا۔ اگر NOTA سمیت 15 یا اس سے زیادہ امیدوار ہوں تو ایک کنٹرول یونٹ اور ایک اضافی بیلٹ یونٹ قائم کیا جائے گا۔ اندور، بھوپال جیسے بڑے کارپوریشنوں میں، ہر وارڈ میں پانچ ای وی ایم ریزرو ہوں گی۔ ای وی ایم کی تصدیق کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا ہے۔ ڈیٹا کو محفوظ رکھنے کے لیے ای وی ایم میں ایک الگ میموری نصب کی جائے گی۔
میئر کے عہدے کے لیے الیکشن لڑنے کے لیے 20 ہزار روپے فیس ادا کرنا ہوگی۔ ایس سی؍ ایس ٹی/خواتین امیدواروں سے نصف رقم یعنی 10 ہزار روپے وصول کیے جائیں گے۔ ہر شہری ادارے کے لیے ایک ریٹرننگ آفیسر اور اس کی مدد کے لیے 2 یا اس سے زیادہ اسسٹنٹ ریٹرننگ آفیسر ہوں گے۔