ایم اے کنول جعفری: پانی کا بحران اور واٹر وژن @2047

0

ایم اے کنول جعفری

صاف شیریں اور صحت مندپانی کی کمی پورے عالم کے لیے ایک بڑامسئلہ ہے۔بھارت میں بھی عام زندگی پر اس کا اثر صاف دیکھا جا رہا ہے۔پلاننگ کمیشن کے ذریعہ 2018 میں کیے گئے تجزیہ کے مطابق پانی کے بحران کے شکار122ممالک کی ترتیب میں ہندوستان کا شمار 120واں تھا۔ دنیا کے 400 شہروں میں سے پہلے 20 شہروں میں چنئی پہلے،کولکاتہ دوسرے، ممبئی 11ویں اور دہلی15ویں مقام پر ہے۔جوائنٹ واٹرمینجمنٹ انڈیکس کے مطابق ملک کے 21شہر زیرو گراؤنڈ واٹر لیول پر پہنچ گئے ہیں۔عالمی صحت تنظیم کے مطابق ہر شخص کو 25لیٹر یومیہ پانی کی ضرورت ہے۔نگر نگم کے ذریعہ دہلی اور ممبئی جیسے شہروں میں یہ مقدار150لیٹر مہیا کرائی جا رہی ہے،جبکہ دہلی میں یومیہ خرچ272لیٹر فی شخص ہے۔ملک میں 85فیصد پانی زراعت،پانچ فیصد گھریلو اور10فیصد صنعت میں خرچ ہوتا ہے۔ شہروں میں50فیصد اور گاؤوں میں 85 فیصد ضرورتیںزیر زمین پانی سے پوری ہوتی ہیں۔بڑھتی آبادی کے مدنظر2030تک پانی کی مانگ دوگنی ہو نے سے لاکھوں لوگوں کو پانی کے لیے طاقت کا استعمال کرنا پڑے گا۔پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے 2019میں ’جل شکتی منترالیہ‘ بنایا گیا۔ عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 20برسوں میں خشکی کی بنا پر بھارت میں تین لاکھ سے زائد لوگوں نے خودکشی کی،جبکہ صاف پانی کی کمی سے ہر سال دو لاکھ لوگوں کی موت ہو رہی ہے۔ شہروں میں غریب علاقوں کے9.70کروڑ لوگوں کو صاف پانی میسر نہیں،تو گاؤوں میں70فیصد افراد گندہ پانی پینے کو مجبور ہیں۔
گزشتہ صدی میں عالمی سمندر کی سطح میں 14فیصد اضافہ ہوا ہے،جو وارمنگ گلوبلائزیشن سے آئی تبدیلی کے سبب گزشتہ27صدیوں سے زیادہ ہے۔ اگر گلوبل وارمنگ کا اثر نہیں ہوتا تو20ویں صدی میں پانی کی سطح میں یہ اضافہ صرف آدھا ہوتا۔وارمنگ گلوبلائزیشن کے سبب پانی جس تیزی سے کم ہورہا ہے،اس کا اثر پوری دُنیا پر پڑ رہا ہے۔ عالمی سطح پر 4 اَرَب سے زیادہ افراد اپنی روز مرہ کی زندگی میں پانی کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔ صورتِ حال یہ ہے کہ ہر تین افراد میں سے دو لوگوں کو بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے درکار تازہ پانی میسر نہیں ہے۔ سب کچھ تیزی سے بدلتے دور میں لوگوں کے رہن سہن، پہناوے، تعلیم کے طریقے اور طرزِ زندگی میں مثالی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔اس سے ندی،نالے،کچے و پکے کنویں،تالاب اور جھیلوں کا وجود متاثر ہوا۔ باؤلی اور کنویں غائب ہونے سے ہینڈپمپ کا دَورآیا۔شہروں میں ٹنکیاں اور ہینڈپمپوں کے اُو پر گیئر بکس و موٹر لگے۔ ٹنکی کا پانی جلدی اور وافر مقدار میں پانے کے لیے ٹلّو پمپ لگے۔ پھر سَب مرسیبل کا کریز بڑھا۔ٹیوب ویلوں کے ذ ریعہ پانی کھنچنے سے زیرِزمین پانی کی سطح مسلسل گر رہی ہے۔کئی دیگر ممالک کی طرح بھارت بھی پانی کی قلت کا حل تلاش کرنے میں سنجیدگی سے کام کر رہا ہے۔
بھارت کو 2047تک ترقی یافتہ ملک بنانے کے لیے کوشاں وزیراعظم نریندر مودی نے 6 جنوری 2023 کو پانی کے تحفظ سے متعلق مہمات میں عوامی اور سماجی تنظیموں کو ساتھ لانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے عوام کی شمولیت کو مہم کی کامیابی کی کلید ہی نہیںبتایا،بلکہ اس بابت ’سوچھتا ابھیان‘ کی مثال دیتے ہوئے ’سینس آف اونرشپ‘ آنے کی حمایت بھی کی۔ بھوپال میں منعقد پہلی آل انڈیا اسٹیٹ منسٹرس کانفرنس ’واٹروژن@2047‘ سے ورچوئلی خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ اس کانفرنس کا تھیم ’واٹر وژن@2047‘ اور فورم کا مقصد پائیدار انسانی ترقی کی غرض سے آبی وسائل استعمال کرنے کے طریقوں پر مثبت بات چیت کے لیے کلیدی پالیسی سازوں کویکجا کرنا ہے۔ ہمارے آئینی نظام میں پانی کا موضوع ریاستوں کے دائرۂ کار میں آتا ہے۔ پانی کے تحفظ کے لیے ریاستوں کی کوششیں ملک کے اجتماعی اہداف کو حاصل کرنے میں مدد گار ثابت ہوں گی۔ وژن کو آگامی 25برس کے لیے ’ امرت کال‘ کے سفر کی اہم جہت سے تعبیر کرتے ہوئے تمام حکومتوں کو ایسے نظام کی طرح کام کرنے کی صلاح دی گئی جس میں پانی کی وزارت، آب پاشی کی وزارت، زراعت کی وزارت،دیہی اور شہری ترقی کی وزارت اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی وزارت وغیرہ کے تعلق سے ریاستی حکومتوں کے درمیان بات چیت اور تبادلہ خیال کا سلسلہ جاری رہے۔اگر ان محکموں کے پاس ایک دوسرے سے متعلق معلومات اور ڈیٹا موجود ہو تو اس سے منصوبہ بندی میں مدد مل سکے گی۔ عوامی شرکت کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اس سے مہم کے لیے کوششوں اور خرچ کی جانے والی رقم کے بارے میں آگاہی پیداہوتی ہے۔صنعت اور زراعت دونوں شعبوں کے لیے پانی کی ضرورت ہے۔ان سے وابستہ لوگوں میں خصوصی مہم چلا کر پانی کے تحفظ کے لیے بیدار کرنا ہوگا۔ مہم کی کامیابی کے لیے پانی سے متعلق فیسٹیول کے انعقاد کے علاوہ میلوں میںپانی کی آگاہی کے لیے کوششیں کی جا سکتی ہیں۔اس کام کے لیے نئی نسل کو جوڑا جا سکتا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ پردھان منتری کرشی سینچائی یوجنا کے تحت تمام ریاستوں میں کام ہو رہا ہے۔پانی کے تحفظ کے لیے مرکز نے ’اٹل بھوجل سنرکشن اسکیم‘ شروع کی ہے۔اسے آگے لے جانے کی ضرورت ہے۔دریا اور دیگر آبی ذخائر آبی ماحولیاتی نظام کا سب سے اہم حصہ ہیں۔ریاستوں کو انہیںبیرونی عوامل سے آلودہ ہونے سے بچانے کے لیے کام کرنا ہوگا۔اس کے علاوہ ریاستوںمیں جنگلاتی علاقوں میں اضافہ کرنا بھی ضروری ہے۔اس کے لیے وزارت ماحولیات اور وزارت پانی کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
پانی کے افراط والے مغربی اُتر پردیش میں بھی پانی کے لیے ہائے توبہ مچنے لگی۔گنگا اور جمنا کی آبی سطح کم ہونے سے ان سے نکلنے والی نہروں میں پانی کی موجودگی متاثر ہوئی۔ زیادہ ترحصوں میںکھیتی باڑی کا دارومدار بارش یا نہروں سے ملنے والے پانی پر ہے۔نہروں میں آخری حصے(Tail) کے کسانوں کو پانی میسر نہیں ہوپاتا۔اس سے کسانوں کی ریڑھ کہی جانے والی گنے کی کھیتی تو متاثر ہوتی ہی ہے، اجناس،دالیں اور پھل وغیرہ بھی کم پانی کا شکار ہوتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ کھانے پینے کے طریقے اور طرزِزندگی میں تبدیلی لاکر خاصا تعاون دیا جا سکتا ہے۔ ڈی زمّیر اور ڈی رینولٹ کے مطابق ایک کلوگرام گیہوں کی پیداوار کے لیے1000لیٹر پانی کی ضرورت ہے۔اتنی مقدار چاول کے لیے 1400لیٹر پانی درکار ہے،جبکہ ایک کلوگرام گوشت کی حصولیابی کے لیے13000لیٹر پانی کی ضرورت ہے۔شمالی امریکہ اور جاپان میں فی شخص پانی کا روزانہ استعمال350 لیٹر ہے۔یوروپ کے ممالک میں یہ مقدار 200لیٹر ہے،جبکہ افریقہ کے علاقوں میں یہ مقدار 10-20لیٹر روزانہ ہی ہے۔کچھ علاقوں میں پانی حاصل کرنے کے لیے مارپیٹ اور خون خرابے کی وارداتیں صاف اشارہ ہیں کہ اگر عالمی سطح پر اس مسئلہ کو حل کرنے کی سنجیدہ کوششیں نہیں کی گئیں تومستقبل قریب میں حالات زیادہ خراب ہوکر جنگ کی صورت بھی اختیار کر سکتے ہیں۔ دُنیا بھر میں260 ندیاں دو یادو سے زیادہ ملکوں سے ہوکر گزرتی ہیں۔ انسانی روابط اورآپسی رواداری کی کمی سے ایک ملک کے ذریعہ ذخیرہ کیا گیا پانی دوسرے ملک کے ساتھ تعلقات میں تلخی پیدا کر سکتا ہے۔
زیرزمین پانی کی سطح گرنے کی بڑی وجہ پیڑوں کی اندھا دھند کٹان اور نئے پودے لگانے میں دلچسپی نہیں لینا ہے۔ حالانکہ ہر سال ملک گیر پیمانہ پرپیڑ لگاؤ مہم چلائی جاتی ہے۔ سرکاری سطح پر محکمۂ جنگلات کے افسروں کے ذریعہ بڑی تعداد میں پیڑ لگانے کے دعوے کیے جاتے ہیں۔ دوسری جانب نئے پودوں کا موقع پر نظر نہیں آنا جہاں افسران کی نیت پر سوال کھڑے کرتا ہے، وہیںکاغذی کارروائی اور جھوٹے دعوؤں کا بین ثبوت بھی ہے۔کسی بھی شعبہ میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے ایماندارانہ کوششیں لازمی ہیں۔یہ تبھی ممکن ہے،جب انسان اپنی سوچ میں تبدیلی لائے اورنجی مفاد کو پس پشت ڈال کر ملک و قوم کی فلاح و بہبود کے لیے عمل پیراہو جائے۔
(مضمون نگار سینئر صحافی اور ادیب ہیں)
[email protected]