ایم اے کنول جعفری: اذان دینے پر جرمانہ تو ڈی جے بجانے پر چھوٹ کیوں؟

0

ایم اے کنول جعفری

نماز کے لیے بلاوے یا اعلان کا نام اذان ہے۔ اذان میں مشکل سے دو ڈھائی منٹ لگتے ہیں۔اذان سنتے ہی مسلمان مساجدکا رُخ کرتے ہیں۔ کئی غیر مسلموں کو جہاں اذان کے کلمات بہت پسند اور دل کو اچھے لگتے ہیں تو زعفرانی تنظیموں سے متعلق کچھ لوگوں کو اذان کے الفاظ سے زبردست پریشانی ہے۔ ہندوستان کا آئین تمام لوگوں کو اپنے مذہب اور عقیدے کے مطابق آزادانہ زندگی گزارنے کا حق دیتا ہے۔اس کے باوجود کچھ لوگوں کوگزشتہ کئی برسوں سے لاؤڈاسپیکر کے ذریعہ اذان دینے پر سخت اعتراض ہے۔ اس سلسلے میں شمالی ریاست اتراکھنڈ میں لاؤڈاسپیکر سے اذان دے کرصوتی آلودگی پھیلانے کے الزام میں سات مساجد کے اُو پر پانچ پانچ ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔
اتراکھنڈ ریاست میں ہائی کورٹ کی جانب سے اذان کے لیے لاؤڈاسپیکر کی آواز کی کم سے کم سطح کی حد مقرر کی گئی ہے۔اس کے باوجود ضلع ہری دوار میں پاتھری پولیس اسٹیشن علاقے کی مساجد کی بابت بی جے پی کے اراکین کی طرف سے ایس ڈی ایم پورن سنگھ رانا کی طرف کورٹ میں شکایت درج کرائی گئی تھی۔ شکایت میںجامع مسجد، عباداﷲ بتلہ(کنکر والی) مسجد،بلال مسجد، صابری جامع مسجد سمیت سات مساجد کے لاؤڈاسپیکر پر آواز کی مقرر کردہ حد کی خلاف ورزی اور اُونچی آواز میں اذان دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس سے بزرگوں اور بیمار شہریوں کو پریشانی ہوئی اور ان کے آرام میں خلل پڑا۔ ایس ڈی ایم عدالت کی جانب سے مساجد کی انتظامیہ کو اپنا موقف رکھنے کے لیے نوٹس جاری کیے گئے تھے، لیکن انہوں نے اپنا موقف رکھنے کے بجائے اس کا بائیکاٹ کیا۔ اس کے بعد کورٹ نے تیز آواز میں اذان دینے کے الزام میں سات مساجدپر پانچ پانچ ہزار روپے کا جرمانہ لگادیا۔ایس ڈی ایم پورن سنگھ رانا نے واضح کیا کہ پھر سے تیز آواز میں اذان دینے پر جرمانے کی رقم میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔اس بابت مساجد سے متعلق علماء نے جرمانہ عائد کرنے کی شدید مخالفت کی۔ صوتی آلودگی کے نام پرمساجد پر جرمانہ لگانے سے ناراض جمعیۃ علماء اتراکھنڈ کے صدر مولانا محمد عارف نے اسے پولرائزیشن کو فروغ دینے والا عمل بتایا۔انہوں نے تسلیم کیا کہ میٹنگ میںآواز کم رکھنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ اس میں کوئی ہرج نہیں،لیکن شورشرابہ اذان سے نہیں بلکہ شادی بیاہ میں رات بھر موسیقی، ڈی جے، گانے بجانے کے عمل اور گاڑیوں کے ہارن بجانے سے ہوتا ہے۔ حال ہی میں ہوئی کانوڑ یاترا میں ڈی جے اور لاؤڈاسپیکر کی منظوری دی گئی تھی۔اس کی آواز آدھا کلومیٹر کے فاصلے سے صاف سنائی دے رہی تھی۔اس پر انتظامیہ کو اعتراض نہیں ہوا، لیکن دو منٹ کی اذان کے لیے جرمانہ لگایا جارہا ہے۔ ایسے کئی مقامات ہیں،جہاں تیز آواز میں لاؤڈاسپیکر بج رہے ہیں۔ انہوں نے ایک طبقہ کو نشانہ بناکر مسجدوں پر جرمانہ عائد کرنے کو سیاست سے متاثر بتایا،کہا کہ پولیس قانون کا اطلاق صرف مساجد پر کرتی ہے اور دیگر کو چھوڑ دیتی ہے۔ وہ جرمانہ ادا کریں گے اور اذان کے لیے لاؤڈاسپیکر کو اَنا کا مسئلہ نہیں بنایا جائے گا۔
لاؤڈاسپیکر سے اذان پر اعتراضات ہوتے رہے ہیں، لیکن2017میں مشہور گلوکار سونو نگم کے ذریعہ صبح صبح نیند خراب ہونے کے ٹوئٹ کے بعد یہ مدعا زور پکڑ گیا۔ سونو نگم کی وضاحت کے بعد کہ وہ اذان کے مخالف نہیں، لاؤڈاسپیکر کے خلاف ہیں، جہاں کچھ لوگ ان کے ساتھ کھڑے نظر آئے،وہیں کچھ لوگوں نے شدید مخالفت کی۔ 2018میں اس مدعے نے پھر طول پکڑا تو مشہور اَدیب اور فلم کہانی کار جاوید اختر سونو نگم کی حمایت میں آگئے۔ 2021 میں الٰہ آباد یونیورسٹی کی وائس چانسلر سنگیتا شری واستو نے صبح صبح لاؤڈاسپیکر سے اذان میں اپنی نیند خراب ہونے کی بات کہی تو آئی جی نے رات کے 10بجے سے صبح چھ بجے تک لاؤڈاسپیکر کے ذریعہ اذان دینے پرپابندی لگا دی تھی۔ نومبر2021 میں سادھوی پرگیہ نے اذان پر اعتراض کرتے ہوئے اس سے سادھو سنتوں کو ’برہما مہورت‘ میں پوجا و آرتی کرنے میں پریشانی کی دلیل دی۔ 2022 میں اتر پردیش میں الٰہ آباد ہائی کورٹ نے لاؤڈاسپیکر سے اذان کا مطالبہ کرنے والی عرضی خارج کر دی۔بدایوں کے عرفان نے الٰہ آباد ہائی کورٹ میں درخواست داخل کرکے نوری مسجد میں لاؤڈاسپیکر سے اذان دینے کی اجازت کا مطالبہ کیا تھا۔عدالت اعلیٰ کے جسٹس بی کے وڈلا اور جسٹس وکاس کی بنچ نے لاؤڈاسپیکر کے ذریعہ اذان کو بنیادی حق نہیں بتاتے ہوئے درخواست کو مسترد کردیا۔عدالت کا کہنا تھا کہ اذان اسلام کا لازمی حصہ ہے،لیکن لاؤڈاسپیکر کے ذریعہ اذان دینا اسلام کا حصہ نہیں ہے۔ اتراکھنڈ، اترپردیش اور مہاراشٹر سمیت کئی ریاستوں میں لاؤڈاسپیکر کے ذریعہ اذان دینے، پارک و دیگرعام مقامات پر جمعہ کی نماز ادا کرنے کو لے کر تنازع رہتا ہے۔ یوپی میں تو یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت نے تمام مساجد اور منادر سے ایک سے زیادہ لاؤدڈاسپیکروں کو اُتروا دیا اور ایک لاؤڈاسپیکر کی آواز کی سطح بھی کم کرا دی۔ اذان کے تنازع کا اندازہ اسی سے ہوجاتا ہے کہ مہاراشٹر میں 4 مئی2022کو مہاراشٹر نونرمان سینا کے سپریمو راج ٹھاکرے نے اعلان کیا تھا کہ اگر لاؤڈاسپیکر سے اذان دینا بند نہیں ہوئی اور مساجد سے لاؤڈاسپیکروں کو نہیں اُتارا گیاتو وہاں ہنومان چالیسہ کرایا جائے گا۔ ٹھاکرے کا کہنا تھا کہ انہیں گن پتی کے موقع پر صرف10روز لاؤڈاسپیکر کے استعمال کی اجازت ملتی ہے،جبکہ مسجدوں کو 365 دن لاؤڈاسپیکر پر اذان کی چھوٹ رہتی ہے۔ ٹھاکرے کے اعلان کے بعد سینا کے کارکنان نے نہ صرف مہا آرتی کی، بلکہ ممبا دیوی علاقے میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعہ ہنومان چالیسہ کا پاٹھ بھی کیا۔ ادھر ممبئی پولیس کے مطابق 1144 مساجد میں سے 803 نے لاؤڈاسپیکر کے ذریعہ اذان دینے کی اجازت لے رکھی ہے۔حالانکہ اس بابت تقریباً 15000 کارکنان کو نوٹس جاری کرنے کے علاوہ کئی کو گرفتار بھی کیا گیا۔ مہاراشٹر میں تو مسلم مذہبی رہنماؤں نے جنوبی ممبئی کی 26مساجد میں فجر کی اذان لاؤڈاسپیکر کے بغیر پڑھنے کا فیصلہ لیا۔اس کی شروعات ممبئی کی سنی بڑی مسجد مدن پورہ اور مینارہ مسجد سے کی گئی۔ مدھیہ پردیش کے اندور سمیت کئی اضلاع میں بغیر کسی اجازت کے مسجدوں میں لاؤڈاسپیکروں کے استعمال سے ہونے والی صوتی آلودگی کے خلاف وکلا نے احتجاج کرتے ہوئے مارچ نکالا اور ڈویژنل کمشنر کو 300 وکیلوں کا دستخط شدہ ایک میمورنڈم پیش کیا۔ ان کی دلیل تھی کہ لاؤڈاسپیکر کے ذریعہ دی جانے والی اذان سے بیماروں، بزرگوں اورامتحانات کی تیاری کرنے والے طلبا کو پریشانی کے علاوہ عدالتی کارروائی میں بھی رخنہ پڑتا ہے۔
اس کے برعکس زعفرانی تنظیم بی جے پی سے تعلق رکھنے والے اہم رہنما اورمرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کشمیر کے دورے پر اعلیٰ ظرفی کی شاندار مثال پیش کی۔انہوں نے 5اکتوبر 2022کو بارہمولہ میں ریلی کے دوران اپنی تقریر روک دی۔تقریر روکنے کی وجہ کچھ اور نہیں،بلکہ اذان تھی۔ اتنا ہی نہیں شاہ نے اذان ختم ہونے کے بعدسامعین سے دریافت کیا،’کیا وہ اپنی تقریر پھر سے شروع کریں؟‘ اس طرح اذان کے بعد انہوں نے اپنی بات مکمل کی۔ یہ مثال ہم سب کے لیے ایک سبق ہے۔ یہ بات درست ہے کہ لاؤداسپیکر نہ تو اسلام کا حصہ ہے اور نہ ہی اذان کے لیے ضروری ہے۔ کتنے ہی مسلمان اذان سننے کے بعد بھی نماز کے لیے مسجد میں نہیں آتے۔لاؤڈاسپیکر کے بغیر اذان دینے میں کوئی ہرج نہیں اور آواز کی سطح کم کرکے بھی کام چلایا جا سکتا ہے۔تلخ سچائی یہ بھی ہے کہ اگر اذان کو اَنا سے نہ جوڑا جائے تو پھر دو ڈھائی منٹ کی اذان سے کسی کو تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔
(مضمون نگار سینئر صحافی اور ادیب ہیں)
[email protected]