بے گناہوں کے خون کا آسیب!

0

برٹش براڈ کاسٹنگ کارپوریشن(بی بی سی) کی ایک دستاویزی فلم پر ہندوستان میں ہنگامہ برپا ہے۔ اپنی تمام تر قوت نافذہ کے ساتھ مرکزی حکومت اس فلم کے خلاف میدان میں اتر آئی ہے۔جبکہ کانگریس، ترنمول کانگریس اور دیگر کئی سیاسی جماعتیں حکومتی اقدام پر سوال اٹھا رہی ہیں۔“India : The Modi Question” کے نام سے بنائی جانے والی بی بی سی کی 59منٹ کی اس دستاویزی فلم میں 2002 کے گجرات فسادات کو دکھایا گیا ہے۔ 17 جنوری کو برطانیہ میں نشر ہوئی اس کی پہلی قسط میں وزیراعظم نریندر مودی کی ابتدائی سیاسی زندگی کو دکھایا گیا تھا۔ اس دستاویزی فلم میں گجرات فسادات کی اصل کہانی دکھائے جانے کا دعویٰ کرتے ہوئے اس دوران مودی کے دور حکومت پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ گجرات کے گودھرا میں27 فروری 2002 کو سابرمتی ٹرین کو آگ لگانے کے بعد پوری ریاست میں تشدد پھوٹ پڑا تھا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان فسادات میں تقریباً دو ہزار افراد مارے گئے تھے۔ مسلم خواتین کی اجتماعی عصمت دری کے واقعات ہوئے، گھروں کو جلا دیا گیا۔ تمام این جی اوز اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی تحقیقات میں کہا گیا کہ اس فساد میں پانچ ہزار سے زیادہ اموات ہوئیں۔ اس فساد کا مقصد مسلمانوں کو ہندو علاقوں سے باہر نکالنا تھا۔
حکومت ہند پہلے ہی اس دستاویزی فلم کو یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر دکھانے پر پابندی عائد کر چکی ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان کا دعویٰ ہے کہ یہ ایک پروپیگنڈہ فلم ہے اور اسے ملک کو بدنام کرنے کیلئے بنایا گیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی کا کہنا ہے کہ یہ پروپیگنڈہ اور متعصب فلم ہے، اس میں معروضیت کا فقدان اور نوآبادیاتی ذہنیت صاف نظر آتی ہے۔ اس کے بعد ہی وزارت اطلاعات و نشریات نے 21جنوری کو یہ دستاویزی فلم دکھانے والے کئی یوٹیوب چینلز اور اس کے ساتھ ہی پچاس سے زیادہ ٹوئٹر اکاؤنٹس پر پابندی لگادی تھی۔
اب مختلف یونیورسیٹیوںمیں طلبا یونین کی جانب سے اس کی اسکریننگ پر تنازع اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کی انتظامیہ نے اس فلم کی اسکریننگ پریہ کہتے ہوئے پابندی لگادی ہے کہ اس سے نقض امن کا خطرہ ہوسکتا ہے۔جے این یو اسٹوڈنٹس یونین نے کل ایک پوسٹر جاری کیا تھا جس میں منگل کی رات 9 بجے بی بی سی کی دستاویزی فلم کی اسکریننگ کا اعلان تھا، اس کے فوراً بعد جے این یو حکام نے انتباہ جاری کرتے ہوئے اسکریننگ کو منسوخ کرنے پر زور دیا اور کہا کہ اگر فلم کیمپس میں دکھائی گئی تو سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ اس سے قبل حیدرآباد سینٹرل یونیورسٹی کے طلبا کے ایک گروپ نے پیر کی رات کیمپس کے اندر اس دستاویزی فلم کی اسکریننگ کا اہتمام کیا۔اس میں50سے زیادہ طلبا شامل ہوئے تھے۔ آج اے بی وی پی کی جانب سے شکایت کے بعد ان طلبا کے خلاف تادیبی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔ادھر اس فلم کو کیرالہ کے کئی کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھی دکھانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
آزادی کے بعد سے اب تک جتنی حکومتیں آئی ہیں، ان میں سب سے مضبوط اور طاقتور ہونے کا دعویٰ کرنے والی مودی حکومت کا ایک دستاویزی فلم سے خوفزدہ ہوکر ہنگامی قوانین کا استعمال اور پابندی لگانے کیلئے پوری طاقت کے ساتھ پل پڑنا سمجھ میں آنے والی بات نہیںہے۔بی بی سی کا کہنا ہے کہ فلم سازی کے دوران حکومت ہند سے بھی اس بابت اس کی رائے اور موقف مانگا گیا تھا لیکن حکومت نے پہلے تو کوئی بیان نہیں دیا اور فلم ریلیز ہونے کے بعد اس کی نمائش پرہی پابندی لگادی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایک بالغ جمہوری ملک کی طرح برتائوکرتے ہوئے حکومت اس موضوع کا سامنا کرتی اور اس پر اپنا نقطہ نظر بھی پیش کرتی لیکن ایسا نہ کرکے اس نے اس فلم کی اسکریننگ پر ہی روک لگادی ہے۔اس اقدام سے یہ تاثر پختہ ہوتا ہے کہ فلم میں ایسے حقائق بیان کیے گئے ہیں جو اب تک منظرعام پر نہیں آپائے تھے۔
حیرت تو اس بات پر بھی ہے کہ ایسے ہی یا اس سے ملتے جلتے حقائق کشمیر کے بارے میں ’دی کشمیر فائلس‘میں دکھائے جانے کا دعویٰ کیاگیا تھا اور حکومت نے نہ صرف اس فلم کو ٹیکس فری کردیا تھا بلکہ حکومت کی پوری مشنری ’دی کشمیر فائلس‘کو کامیاب بنانے میں لگ گئی۔ اب ایک ایسی فلم کو دیکھنے سے ہندوستانیوں کو محروم کیاجارہاہے جس میں فلمائے گئے واقعات دنیا بھر کی تحقیقاتی ایجنسیوں کی فائلوں میں موجود ہیں۔یہ بھی ریکارڈ پر ہے کہ اس وقت کے وزیراعلیٰ مودی پر تشدد نہ روکنے کا الزام تھااور اس کے پیش نظرہی اس وقت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی نے انہیں راج دھرم پر چلنے کا مشورہ دیا تھا۔
راہل گاندھی نے بجاطور پر کہا ہے کہ ’ سچائی کو باہر نکلنے کی بری عادت ہوتی ہے ‘ سچ کو بہت دنوں تک دبایا نہیں جاسکتا ہے۔ بی بی سی کی دستاویز ی فلم کی اسکریننگ اور نمائش پر پابندی لگانے میں حکومت بھلے ہی کامیاب ہوجائے لیکن گجرات فسادات کے بے گناہوں کے خون کا آسیب پیچھا چھوڑنے والانہیںہے۔
[email protected]