لیبیا کو اسرائیل کے ساتھ ملاقات بھی منظور نہیں

0

ڈاکٹر محمد ضیاء اللّٰہ

گزشتہ ہفتہ دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ میں یہ خبر سرخیوں میں رہی کہ لیبیا کی عبدالحمید الدبیبہ کی سرکار نے اپنی وزیر خارجہ نجلاء منقوش کو معزول کرکے ان کے خلاف تحقیق کا حکم جاری کر دیا ہے۔ نجلاء منقوش پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے اٹلی کے شہر روم میں اسرائیل کے وزیر خارجہ ایلی کوہین سے خفیہ طور پر ملاقات کی تھی۔ اس خبر کے منظر عام پر آتے ہی لیبیا میں ایک سیاسی طوفان کھڑا ہوگیا۔ بلا تفریق تمام سیاسی پارٹیوں نے اس اقدام کو نہایت غیر ذمہ دارانہ بلکہ مجرمانہ قرار دیا، کیونکہ لیبیا کے 1957 میں بنائے گئے قانون کی شق 62 کے مطابق ہر طبعی شخص اور معقول سوجھ بوجھ کے شہری کے لئے ممنوع ہے کہ وہ بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر اسرائیل کے اداروں یا اشخاص کے ساتھ کسی قسم کا اتفاق اور معاہدہ کرے خواہ وہ شخص یا ادارہ اسرائیل سے تعلق رکھے یا بطور مقیم وہاں رہ رہا ہو یا اسرائیل کی طرف سے نمائندگی کر رہا ہو یا اس کے مقصد کی تکمیل کے لئے کام کر رہا ہو۔ گویا لیبیا کے شہری کے لئے اسرائیل کے ساتھ کسی بھی نوع کا تعلق مجرمانہ عمل ہے جس کی سزا قانون میں طے کی گئی ہے۔ اس قانون کی خلاف ورزی کی پاداش میں 3 سے 10 سال تک کی قید اور مالی جرمانہ بھی ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔
لیبیا کی وزیر خارجہ نجلاء منقوش نے اسی جرم کا ارتکاب کر لیا، جس کے بارے میں خود اسرائیل کے وزیر خارجہ نے باضابطہ بیان دیا اور بتایا کہ اسرائیلی وزیر خارجہ ایلی کوہین نے لیبیا کی اپنے ہم منصب نجلاء منقوش کے ساتھ گزشتہ ہفتہ اٹلی میں خفیہ ملاقات کی تھی۔ وزارت نے مزید بتایا کہ دونوں وزراء کی یہ ملاقات اپنی نوعیت کی بالکل پہلی ملاقات ہے۔ اس ملاقات کے مقصد پر روشنی ڈالتے ہوئے اسرائیل کی وزارت خارجہ نے کہا کہ اس کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان تعاون اور تعلقات کے امکانات پر بحث کرنا اور لیبیا کے یہودیوں کی وراثت کے تحفظ کو یقینی بنانا تھا۔ وزارت نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ لیبیا کے ساتھ تعلقات بڑھانے کے لئے یہ اقدام اسرائیل کی طرف سے کیا گیا تھا۔ اس بات کی تائید اس بیان سے بھی ہوتی ہے جس کو لیبیا کی وزارت خارجہ نے جاری کیا ہے اور اس میں کہا گیا ہے کہ روم میں جو ملاقات ہوئی اس کی حیثیت بالکل عارضی اور غیر رسمی ہے۔ اس ملاقات کے لئے پہلے سے کوئی تیاری بھی نہیں کی گئی تھی۔ بلکہ جب اٹلی کے وزیر خارجہ سے ملاقات ہو رہی تھی اسی دوران یہ عارضی ملاقات ہوئی۔ اس بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسرائیلی وزیر خارجہ نے بن بلائے مہمان کی طرح اپنی حاضری درج کرائی اور نجلاء منقوش نے اپنے میزبان کی رعایت میں ایلی کوہین سے ملاقات کر لی تاکہ اٹلی کو سبکی نہ ہو۔ لیبیا کی وزارت خارجہ نے مزید وضاحت دیتے ہوئے بتایا ہے کہ اس ملاقات میں نہ تو کوئی بات چیت ہوئی ہے اور نہ ہی کوئی معاہدہ بلکہ نجلاء منقوش نے واضح طور پر مسئلہ فلسطین کے تئیں لیبیا کے موقف کو بیان کیا ہے۔ اس موقع پر لیبیا نے اپنے اس موقف کا بھی اعادہ کیا کہ فلسطین کا مسئلہ عرب اور مسلمہ کا اولین مسئلہ ہے اور اسی لئے فلسطین میں صہیونی وجود کے ساتھ کبھی بھی تعلقات کو بحال نہیں کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی عبدالحمید الدبیبہ کی سرکار نے نجلاء منقوش کو فوری طور پر برطرف کر دیا اور ان کے خلاف تحقیق کا حکم دے دیا۔ ابتداء میں یہ محض احتیاطی قدم تھا، لیکن اب باضابطہ ڈپٹی جنرل کی نگرانی میں ایک تحقیقی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس کا کام یہ ہوگا کہ اس ملاقات سے متعلق تمام تر تفصیلات جمع کر اور آگے کا لائحہ عمل طے کرے۔ اسرائیلی وزیر خارجہ کے اس عمل کا بْرا اثر خود اسرائیل کے اندر ظاہر ہوا ہے اور وہاں کی اپوزیشن پارٹیوں نے ایلی کوہین پر سخت تنقید کی ہے۔ اپوزیشن لیڈر یائیر لبید نے اپنے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ ’دنیا کے ممالک آج کی صبح اسرائیل اور لیبیا کے وزراء خارجہ کے ملاقات کی فاش ہوجانے والی خبر کو دیکھ رہے ہیں اور پوچھ رہے ہیں کہ کیا اسرائیل ایسا ملک ہے جس کے ساتھ ہمیں اپنے خارجہ تعلقات طے کرنے چاہئے؟ کیا یہ لائق اعتبار ملک ہے۔‘ یائیر لبید نے ایلی کوہین کی قابلیت پر بھی سوال اٹھایا اور یہ بتایا کہ جب ایسے لوگ وزیر خارجہ بنا دیئے جاتے ہیں، جن کا کوئی بیک گراؤنڈ اس فیلڈ کے تعلق سے نہ ہو تو اسی قسم کی رسوائیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسرائیل کے اپوزیشن لیڈر نے اس معاملہ کو بنیاد بناکر نتن یاہو کی سرکار سے استعفیٰ دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ کیونکہ اس ملاقات کا راز فاش ہونا صرف غیر پیشہ ورانہ اور غیر ذمہ دارانہ عمل ہی نہیں بلکہ مذکورہ واقعہ سرکار چلانے میں سخت ناکامی کا بھی غماز ہے۔ اسی طرح اسرائیل کے سابق وزیر اعظم اور دوسرے اپوزیشن لیڈر بینی گانیٹس نے کہا ہے کہ اسرائیل کے خارجی تعلقات بہت حساس ہوتے ہیں اور جب عرب ممالک یا ان ملکوں کے ساتھ خارجی تعلقات کا معاملہ ہو جن کے ساتھ ہمارے سفارتی تعلقات نہیں ہیں تو اس کی حساسیت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب آپ کوئی کام پبلک ریلیشنز اور میڈیا میں جلی سرخیاں حاصل کرنے کے لئے کرتے ہیں تو یہی انجام ہوتا ہے۔
لیبیا میں یہ معاملہ صرف سیاسی گلیاروں تک محدود نہیں رہا ہے جہاں سرکار نے فوری طور پر اپنی وزیر خارجہ سے ساری ذمہ داریاں واپس لے کر ان کے خلاف تحقیق کا حکم جاری کردیا، کیونکہ لیبیا کی صدارتی کونسل نے دبیبہ کی سرکار سے اس مسئلہ پر وضاحت طلب کر لی تھی، جیسا کہ کونسل کی ترجمان نجوی اوھیبہ کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے۔ صدارتی کونسل نے اپنے سخت تعجب کا اظہار کیا ہے کہ آخر یہ ملاقات کیسے ہوگئی جبکہ فلسطین کا مسئلہ لیبیا کے لئے بنیادی مسئلہ ہے۔ دبیبہ کی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ میڈیا میں ملاقات کی جو خبریں آئی ہیں ان کی تحقیق کے بعد اگر یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ یہ ملاقات واقعتا ہوئی تھی تو ان پر کارروائی کی جائے۔ لیبیا کی سرکار اور سیاسی پارٹیوں کے علاوہ عوام میں بھی نجلاء منقوش کے اس قدم کے خلاف سخت غصہ ابھر آیا اور وہ لیبیا کے کئی شہروں میں سڑکوں پر اتر کر احتجاج کرنے لگے۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ نجلاء منقوش کو روپوش ہوجانا پڑا۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق اب وہ لیبیا میں نہیں ہیں بلکہ اپنی جان کے خوف سے ترکی میں پناہ لے چکی ہیں۔ نجلاء منقوش کا سیاسی کیرئر اب ہمیشہ کے لئے تقریباً ختم ہوچکا ہے، کیونکہ لیبیا کے عوام کو مسئلہ فلسطین اور بیت المقدس کی حرمت سے جو گہرا لگاؤ ہے اس کے پیشِ نظر منقوش کو کبھی معاف نہیں کیا جا سکے گا۔ دیگر عرب ممالک کے عوام کو بھی فلسطین اور قدس سے اتنی ہی گہری وابستگی ہے، جس کا اظہار فیفا ورلڈ کپ کے موقع پر بھی انہوں کیا تھا۔ صہیونی ریاست کے خلاف اس عوامی غصہ کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اسرائیل کے رویہ میں کسی بھی طرح سے انسانیت نوازی یا عدل کا پہلو نظر نہیں آتا۔ عرب جو کہ ایک غیور قوم ہے اس کو سخت تکلیف ہوتی ہے جب وہ دیکھتے ہیں کہ فلسطینی عورتیں اور بچے صہیونی ریاست اور آبادکاروں کا نشانہ بنتے ہیں اور ان کے جوان و بوڑھے مارے جاتے ہیں اور ان کی تذلیل کی جاتی ہے۔ ساتھ ہی بیت المقدس جو کہ تمام دنیا کے مسلمانوں کے نزدیک نہایت مقدس ہے اس کی بے حرمتی خود اسرائیلی وزیر کرتا ہے تو اسرائیل کے خلاف غصہ کی لہر تیز ہوجاتی ہے۔ لیبیا کے عوام نے بھی اسی جذبہ کا اظہار کیا ہے۔ اگر عرب ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کے بعد اسرائیل اپنا رویہ درست کرتا اور فلسطینیوں کے مسائل حل ہوتے تو شاید اس غصہ میں کمی واقع ہوتی، لیکن صہیونی پالیسیوں کی شناعت نے پورے عرب اور اسلامی ممالک کے عوام میں ان کے خلاف سخت نفرت اور غصہ بھر دیا ہے اور وہ کسی بھی قیمت پر اسرائیل کے ساتھ ادنی مراعات اور تعلقات کو پسند نہیں کرتے۔ اسرائیلی قیادت اگر عرب ملکوں کے ساتھ تعلقات کی بحالی پر سنجیدہ ہے تو اسے اپنے رویہ میں خاطر خواہ تبدیلی پیدا کرنی ہوگی۔
مضمون نگار سینٹر فار انڈیا ویسٹ ایشیا ڈائیلاگ کے وزیٹنگ فیلو ہیں

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS