اسمبلی انتخابات کی آمد: اترپردیش کو اب عالمی شناخت ملے گی

0

جیور ایئرپورٹ دنیا کاچوتھا سب سے بڑا ایئر پورٹ ہوگ
جیور (ایجنسیاں): اترپردیش میں اسمبلی انتخابات سے ٹھیک پہلے ریاستی اور مرکزی سرکار کی جانب سے لگاتار کئی پروجیکٹوں کے افتتاح اور سنگ بنیاد کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی کڑی میں وزیراعظم مودی نے آج جیور کے نوئیڈا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا سنگ بنیاد رکھا۔ پوروانچل ایکسپریس وے کے بعدیہ دوسرا بڑا پروجیکٹ ہے۔ اس کی تعمیر میں 29650کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ یہاں ایک ساتھ 178 طیارے کھڑے ہوسکیں گے۔اس موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی نے نوئیڈا انٹرنیشنل ایئر پورٹ کو شمالی ہندوستان کا لاجسٹک گیٹ وے قرار دیتے ہوئے آج کہا کہ اس سے اترپردیش کو7 دہائیوں بعد وہ ملنا شروع ہوا ہے، جس کا وہ حقدار تھا۔مسٹر مودی نے دہلی سے وابستہ ریاست کے ضلع گوتم بدھ نگر کے جیور میں نوئیڈا انٹرنیشنل ایئر پورٹ کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد ایک بڑی عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 21ویں صدی کا نیا ہندوستان آج ایک سے بڑھ کر ایک بہترین جدید ڈھانچے تیار کررہا ہے ۔ بہتر سڑکیں، بہتر ریل نیٹ ورک، بہتر ایئر پورٹ یہ صرف ڈھانچے کھڑا کرنے کا پروجیکٹ نہیں ہوتے ہیں، بلکہ یہ پورے خطے کو نیا سمت فراہم کرتے ہیں اور لوگوں کی زندگی پوری طرح سے بدل دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نوئیڈا انٹرنیشنل ایئر پورٹ ہندوستان کا لاجسٹک گیٹ وے بنے گا۔ یہ اس پورے خطے کو قومی سرگرمی ماسٹر پلان کا ایک طاقت وار عکس تیارے گے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایئرپورٹ کی تعمیر کے دوران روزگار کے ہزاروں مواقع ملتے ہیں۔ ایئر پورٹ کو بہتر ڈھنگ سے چلانے کیلئے بھی مغربی اترپردیش کے ہزاروں لوگوں کو نیا روزگار ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایکسپریس وے ، میٹرو،ریل، ڈی ایف سی وغیرہ سے جڑا ہوا یہ ایئر پورٹ کنکٹی ویٹی کے معاملے میں ملک کا مثالی ایئر پورٹ ہوگا۔
مسٹر مودی نے کہاکہ پہلے کی حکومتوں نے جس اترپردیش کو کمی اور تاریکی میں بنائے رکھا، پہلے کی حکومتوں نے جس اترپردیش کو ہمیشہ جھوٹے خواب دکھائے، وہی اترپردیش آج ملک ہی نہیں عالمی شناخت قائم کررہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اترپردیش اور مرکز میں پہلے جو حکومتیں رہی ہیں، انہوں نے کیسے مغربی اترپردیش کے ترقی کا نظر انداز کیا، اس کی ایک مثال یہ جیور ایئر پورٹ بھی ہے۔ 2دہائیوں پہلے ریاست کی بی جے پی حکومت نے اس پروجیکٹ کا خواب دیکھا تھا، لیکن بعد میں یہ ایئر پورٹ متعدد سالوں تک مرکز اور لکھنؤ میں پہلی جو حکومتیں رہیں، ان کے درمیان میں الجھ کر رہ گیا۔ اترپردیش میں پہلے جو حکومت تھی، اس نے تو باضابطہ خط لکھ کر اس وقت کی مرکزی حکومت کو کہا تھا کہ اس ایئر پورٹ کے پروجیکٹ کو بند کردیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ڈھانچہ کھڑا کرنا ہمارے لئے سیاست نہیں، بلکہ قومی پالیسی کا حصہ ہے۔ ہم یہ یقینی کررہے ہیں کہ پروجیکٹوں کا التوا میں نہ رکھا جائے۔ ہم یہ یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں کہ وقت مقررہ کے اندر ہی کام پورا کرلیا جائے۔ اب ڈبل انجن کی حکومت کی کوششوں سے آج ہم اسی ایئر پورٹ کا سنگ بنیاد اپنے ہاتھوں سے رکھ رہے ہیں۔
مودی نے کہا کہ آزادی کے ساتھ دہائیوں بعد پہلی بار اترپردیش کو وہ مل رہا ہے، جس کا وہ ہمیشہ سے حق دار رہا ہے۔ ڈبل انجن کی حکومت کی کوششوں سے آج اترپردیش ملک کے سب سے کنیکٹیڈ علاقے میں تبدیل ہورہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس ایئر پورٹ سے علی گڑھ، متھرا،میرٹھ، آگرہ، بجنور، مرادآباد اور بریلی میں کاروبار کو فروغ حاصل ہوگا اور یہاں کے پروڈیکٹس کو بین الاقوامی بازار میں شناخت ملے گی۔مسٹر مودی نے کہا کہ ہمارے ملک میں کچھ سیاسی پارٹیوں نے ہمیشہ اپنے مفاد کو سب سے اوپر رکھا ہے۔ ان لوگوں کی سوچ رہی ہے اپنا مفاد، خود کا ، کنبے کا فروغ، جبکہ ہم ملک پہلے کے جذبے سے کام کرتے ہیں۔ ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس، سب کا پریاس‘ ہمارا منتر ہے۔ اس موقع پر اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ، مرکزی وزیر برائے شہری اڑان جیوتی رادتیہ سندھیا، مرکزی وزیر جنرل وی کے سنگھ، سنجیو بالیان،ریاستی وزیر جئے پرتاپ شاہی، شری کانت شرما، مقامی رکن پارلیمان اور وزیر ڈاکٹر مہیش شرما،ڈاکٹر بھولا سنگھ وغیرہ خاص طور سے موجود تھے ۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
1
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here