خواجہ عبدالمنتقم: اقلیتی طبقات سے متعلق اسکیموں میں افاقہ نہیں اضافہ درکار ہے

0

خواجہ عبدالمنتقم

حکومت ہند کی وزارت اقلیتی امور،اقلیتوں کو دیگر طبقات کی برابر لانے کے لیے وقتاً فوقتاً مختلف اسکیمیں بناتی رہی ہے اورجب تک اقلیتی طبقات ہر شعبۂ حیات میں دیگر طبقات کی برابر نہیں آجا تے اور انھیں یکساں میدان شراکت یعنی level playing field نہیں مل پاتا تب تک حکومت کے لیے ان اسکیموں کو سیاسی و اقتصادی نقطۂ نظر سے جاری رکھنا نہ صرف قرین مصلحت ہے بلکہ آئینی ذمہ داری بھی۔آئین میں درج مملکت کی حکمت عملی کے ہدایتی اصولوں میں دیگر باتوں کے ساتھ ساتھ یہ بات کہی گئی ہے کہ مملکت ایسے سماجی نظام کو، جس میں قومی زندگی کے سب ادارے سماجی، معاشی اور سیاسی انصاف سے بہرہ ور ہوں ،جہاں تک اس سے ہو سکے، مکمل طور پر قائم اور محفوظ کرکے لوگوں کی بہبودی کو فروغ دینے میں کوشاں رہے گی۔یہ تبھی ممکن ہے جب ایسی اسکیمیں مرتب کی جائیں اور پرانی اسکیموں کو جاری رکھا جائے جن سے اس امر کا تیقن ہو کہ معاشی یا د یگر نا اہلیتوں کی بنا پر کسی شہری کو انصاف حاصل کرنے کے حق سے محروم نہیں رکھا گیا ہے۔
اقلیتی طبقات کو بااختیار بنانا بنفسہ نہ صرف اصول نصفت کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ضروری ہے بلکہ اس سے غریبی دور کرنا، اقتصادی ترقی کے عمل کو آگے بڑھانا اور معاشرہ کو مزید استحکام فراہم کرنے کا ایک اہم عنصر بھی فروغ پاتا ہے۔جہاں تک مسلمانان ہند کی بات ہے وہ صرف ایک اقلیت ہی نہیں بلکہ وہ تو حاشیہ پر پہنچائی گئی بے اختیار اکثریت ہیں۔ایسے حالات میں اگر کچھ مراعات دے کر کمزور طبقات کو بااختیار بنانے کی کوشش کی جاتی ہے تو یہ بات کسی کو ناگوار نہیں گزرنی چاہئے۔خود ہماری سپریم کورٹ نے ٹی۔ ایم۔ اے۔ پائی فاؤنڈیشن بنام ریاست کرناٹک ودیگر والے معاملے (اے آئی آر 2003ایس سی 455)میں یہ بات کہی ہے کہ اگر سماج کے کسی مخصوص طبقہ کے ساتھ ترجیحی سلوک کیا جاتا ہے تو اس پر تیوری نہیں چڑھائی جاسکتی۔ عدالت عظمی نے اس معاملے میں مساوات اور سیکولرازم کے بارے میں مندرجہ ذیل خیالات کا اظہار کیا ہے:
’’ہمارے ملک کو اکثر بھارت ماتا۔ مدر انڈیا۔ یعنی مادر ہند کی شکل میں ایک فرد کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ بھارت کے عوام کو اس کی اولاد سمجھا جاتا ہے، جس کے لیے اس کے دل میں ہمیشہ جذبۂ فلاح نہاں رہتا ہے۔ کسی مشفق ماں کی طرح، اس کو بھی خاندان کی بہبود مقدم ہوتی ہے۔
کسی بھی صحت مند خاندان کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس کا ہر فرد مضبوط اور تندرست ہو۔ لیکن سبھی افراد کی ہیئت، خواہ وہ جسمانی ہو یا ذہنی، یکساں نہیں ہوتی۔ مناسب اور صحت مند نشوونما کے لیے، یہ بات والدین اور خصو صاً ماں کے لیے قدرتی ہے کہ وہ کمزور بچے کا زیادہ سے زیادہ دھیان رکھے اور اسے بہتر غذا دے تاکہ وہ مزید صحت مند ہوسکے۔ اسے زیادہ کھانا دینا اور اس کا زیادہ دھیان رکھنا اور تعلیم کے معاملے میں اس کی مدد کے لیے پرائیوٹ ٹیوشن کو یقینی بنانا ایک معنی میں کمزور بچے کے ساتھ ترجیحی سلوک کرنے کے مترادف ہے۔ جس طرح کسی بوڑھے اور معذور شخص کو کوئی جسمانی یا مادی امداد دینا نامناسب یا غیر منصفانہ نہیں سمجھا جاسکتا اسی طرح معقول وجوہات کی بنا پر کسی خاص زمرے کے لوگوں کو کچھ حقوق عطا کرنا غیر منصفانہ نہیں سمجھا جاسکتا۔ بھارت میں سبھی لوگ ایک جیسے نہیں ہیں اور اسی لیے اگر سماج کے کسی مخصوص طبقہ کے ساتھ ترجیحی سلوک کیا جاتا ہے تو اس پر تیوری نہیں چڑھائی جاسکتی۔ دفعہ 30 ایک ایسا مخصوص حق ہے جو مذہبی اور لسانی اقلیتوں کو ان کی تعداد کم ہونے کے باعث اور ان میں تحفظ اور اعتماد کا احساس پیدا کرنے کے لیے عطا کیا گیا ہے جبکہ بنفسہٖ انہیں سماج کا کمزور اور غیر مراعاتی طبقہ نہیں سمجھا جاسکتا۔
ہندوستان کی 100 کروڑ کی آبادی (جو اب تقریباً 130کروڑ ہو چکی ہے)میں 6 خاص نسلی گروپ ہیں اور 52 بڑے قبیلے ہیں، 6 بڑے مذاہب ہیں اور 6400 ذاتیں اور ذیلی ذاتیں ہیں، 18 بڑی زبانیں ہیں اور 1600 چھوٹی زبانیں اور بولیاں ہیں۔ بھارت میں سیکولرازم کی روح کو رنگ برنگے Mosiac میں تراشے ہوئے پتھر کے ٹکڑوں سے بنائے گئے نقشے کے ذریعہ بھی دکھایا جاسکتا ہے۔ جس میں بھارت کے مذکورہ 100 کروڑ(اب تقریباً 130کروڑ ) لوگ سنگ مرمر کے ایسے ٹکڑے ہوں گے جن سے وہ نقشہ تیار کیا جائے گا۔ ان میں ہر شخص، خواہ اس کی کوئی بھی زبان، ذات یا مذہب ہو، کی شناخت کا تحفظ کیا جائے گا تاکہ جب ان ٹکڑوں کو جوڑا جائے تو اس سے ایک ایسی تصویر ابھر کر سامنے آئے جس میں بھارت کی مختلف جغرافیائی خصوصیات اجاگر ہوں انسانوں کی شکل میں سنگ مرمرکے یہ چھوٹے چھوٹے ٹکڑے جو شکل وصورت میں ایک دوسرے سے مختلف ہوسکتے ہیں لیکن جب انہیں صحیح طریقے سے یکجا کیا جائے گا تو ان سے بھارت کا ایک خوبصورت نقشہ ابھر کر سامنے آئے گا۔ بھارت کے ہر شہری کی طرح ہر ٹکڑا بھارت کی مکمل تصویر بنانے کے عمل میں اہمیت رکھتا ہے۔ نقشے میں الگ الگ رنگ اور ایک ہی رنگ کے مختلف شیڈ ان سنگ مرمر کے گونا گوں رنگ کے شیڈ اور رنگوں کا ہی نتیجہ ہیں لیکن اگر سنگ مرمر کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے کو بھی اس میں سے نکال دیا جائے تو بھارت کے نقشے کی شکل ہی بگڑ جائے گی۔ اور اس کی خوبصورتی بھی باقی نہیں رہے گی۔
قوم کی تشکیل میں ملک کے ہر باشندے کا اپنا ایک مقام ہوتا ہے۔ ہر ٹکڑا اپنے رنگ کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ کوئی بھی ٹکڑا خود ایک معمولی پتھر ہوسکتا ہے لیکن جب اسے صحیح ڈھنگ سے لگایا جائے گا تو اس سے بھارت کے الگ الگ رنگ اور روپ کی مکمل تصویر ابھر کر سامنے آئے گی۔
بھارت کے ہر شہری کی حیثیت بھی کچھ اسی طرح ہے۔ آئین بھارت کے عوام کے الگ الگ رنگ اور روپ کو تسلیم کرتا ہے۔ لیکن وہ ان کی جداگانہ حیثیت کے باوجود ان میں سے ہر ایک کو مساوی اہمیت دیتا ہے، کیونکہ اسی طرح ہی ایک متحدہ سیکولر قوم وجود میں آتی ہے۔ کسی مکمل قوم کی تشکیل میں کام آنے والے مختلف ٹکڑوں کے تحفظ اور انہیں قائم رکھنے کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے آئین میں دیگر باتوں کے ساتھ ساتھ مساوات کے بنیادی اصول کو قائم رکھتے ہوئے ایسی بہت سی توضیعات شامل کی گئی ہیں جو ان گوناگوں ٹکڑوں کے تحفظ کو یقینی بناتی ہیں، مختلف قسم کے لوگوں، جن کی زبان اور عقائد الگ الگ ہوں، کو تسلیم کرنا اور انہیں تحفظ فراہم کرنا اور ایک مکمل اور متحد بھارت کی تشکیل کے لیے یکجا کرنا ہی بھارت کے سیکولرازم کی روح ہے۔ ‘‘
دریں صورت اقلیتوں کے لیے وظائف میں کمی اور مولانا آ زاد فیلوشپ کو ختم کرنے سے متعلق فیصلہ پر حکومت نظر ثانی کرے۔اس ضمن میں مثبت فیصلہ لے کر متعلقین کا دل جیتنے کا اچھا موقع ہے ۔
(مضمون نگار آزاد صحافی، مصنف، سابق بیورکریٹ اور عالمی ادارہ برائے انسانی حقوق سوسائٹی کے تاحیات رکن ہیں)
[email protected]