کشمیریوں کو تا ہنوز انتظار سحر

0

خواجہ عبدالمنتقم

پریس اور مختلف ذرائع ابلاغ سے برابر یہ خبریں ملتی رہی ہیں کہ کشمیر میں حالات مسلسل بہتر ہورہے ہیں اور سیاحوں کی تعداد، جس میں ہندوستانی سیاحوں کی تعداد بھی کافی ہے، مسلسل بڑھ رہی ہے مگر اسی دوران ایک ہندو سرکاری ملازم کے قتل،ایک دن بعد ایک مسلم پولیس والے کا قتل اور اس سے قبل کئی مسلم و غیر مسلم پولیس والوں و دیگر ان کی شہادت جیسی خبروں اور مقبول عام ٹی وی چینل ’آج تک‘کے ہلابول پروگرام میں ’کشمیر میں رات کی صبح کب تک‘ موضوع پر بحث سے ہمیں قومی آواز ’مرحوم‘ میں کئی دہائی قبل شائع اپنے اس مضمون کی یاد آگئی جس کا عنوان تھا ’ کشمیریوں کو انتظار سحر‘ اور پھر یہ تحریک ملی کہ ہم 1984 تا1987، کے کشمیر کے حالات کا جس کے ہم خود چشم دید گواہ ہیں یعنی اس عرصے کے جب ہم نے بحیثیت سرکاری عہدیدار کشمیر کا کتنی ہی بار دورہ کیا، اس دعا اور امیدکے ساتھ قلمبند کریںکہ خدا کرے کہ وہی بیتے دن پھر لوٹ آئیں اور کشمیری پنڈت و دیگر لوگ وادیٔ کشمیر میں وجموں و کشمیر کے ہر حصے میں ایک ہی دستر خوان پر بیٹھ کر کشمیری کھانوں مثلاً وازوان، طبق ماز، دم آلو، کشمیری ساگ،یخنی وغیرہ کا مزہ لیںاور شاید انسانی تنافر کے اس انبوہ میں ہماری یہ ادبی کاوش اور محنت ثمر آور ثابت ہو۔
ہمیں 1984 میں پہلی بار سرکاری دورے پر کشمیر جانے کا موقع ملا۔ جب ہم فلائٹ سے ایک گھنٹہ قبل ایئر پورٹ پہنچے اور ہمیں یہ معلوم ہوا کہ سری نگر کی فلائٹ کے لیے سیکورٹی کے نقطۂ نظر سے کم از کم دو گھنٹے قبل پہنچنا ہوتا ہے توہمیں اس وقت کشمیر کی نوعیت کچھ مختلف ہونے کا احساس ہوا۔ لیکن ابھی ہم یہ سوچ ہی رہے تھے کہ سامنے جگموہن صاحب جو اس وقت کشمیر کے گورنر تھے، اچانک نظر آئے۔ ان سے شرف ملاقات حاصل کیا۔ یہاںہم نے جگموہن صاحب کا ذکر صرف اس لیے کیا ہے کہ اس وقت جگموہن صاحب کو اقلیتی فرقے کے لوگ محض ترکمان گیٹ پر ہونے والی انہدامی کارروائی کے تناظر میں دیکھتے تھے جبکہ ہمیں کشمیر میں مختلف شعبوں اور مختلف میدانوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے ملنے کے بعد یہ اندازہ ہوا کہ وہ کشمیر میں مسلم دانشوروں اور کشمیری عوام میں بے انتہا مقبول تھے۔ تقریباً دو گھنٹے کی فلائٹ کے بعد جب ہم سری نگر ایئر پورٹ پہنچے تو وہاں ہر چیز کو معمول کے مطابق پایا۔ ایئر پورٹ سے لال چوک تک کئی کلو میٹر کے راستہ پر مکمل سکون تھا اور بچے سڑکوں پر کھیلتے ہوئے اور خواتین و مرد معمول کے مطابق آتے جاتے نظر آرہے تھے۔
گیسٹ ہائوس میں سامان رکھنے کے بعد جب ہم سکریٹریٹ پہنچے تو وہاں ایڈیشنل سکریٹری و ڈائریکٹر محمد طارق قاضی و دیگرافسران بشمول علی محمد وانی، تیج بہادر ہنڈو وغیرہ سے ملنے کا موقع ملا۔ان سب نے ہماری بھر پور خاطر تواضع کی۔ایک دن ہنڈو بھی اپنے گھر لے گئے جو پرانے شہر میں تھا۔ راستے میں کتنے ہی مسلمان مردوں اور عورتوں نے ہنڈو کو آداب کیا۔ اس علاقے میں زیادہ تر لوگ مسلمان تھے اور کشمیری پنڈت اقلیت میں تھے مگر ان کے مابین اتنی محبت تھی کہ یہ بات بعید از قیاس تھی کہ ایک ایسا وقت بھی آئے گاکہ وہ ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں گے۔ ہنڈو کے یہاں دہلی کے کسی مہذب خاندان کی طرح چاندنی پر ایک بڑا سا دستر خوان لگا ہوا تھا جس پرکئی طرح کے کھانے پروسے گئے تھے جن میں سبزی اور گوشت دونوں شامل تھے۔ ہمارے کشمیری میزبانوں کی تو اتنی لمبی فہرست ہے کہ جسے یہاں پیش کرنا تقریباً ناممکن ہے۔یہ و ہ دن تھے جب ہماری اہلیہ بچوں کے ساتھ رات میں نو دس بجے تک لال چوک میں جا کر بلا خوف شوپنگ کر سکتی تھیں۔
اپنے مختلف سرکاری دوروں کے دوران ہماری قریشی صاحب جو گورنر صاحب کے ایڈوائزر تھے، جی ایم ٹھاکر سکریٹری شعبہ محکمہ قانون، پرے صاحب،خورشید بھٹ و دیگر افسران سے ملاقات ہوئی۔ بھارت کے آئین کے اردو ترجمہ کی رسم اجرا کے موقع پر آنجہانی محترمہ اندار گاندھی کی رہائش گاہ پر فاروق عبد اللہ سے بھی شرف ملاقات حاصل ہوا۔
نہ صرف کشمیر کے لوگوں کی مہمان نوازی بلکہ اس خطۂ ارض سے ہماری اتنی یادیں وابستہ ہیں کہ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ کس بات کا ذکر کیا جائے اور کس کو چھوڑا جائے۔ ڈل جھیل میں مچھلیوں کی طرح تیرتے ہوئے شکارے، سیاحوں کے قیام کے لیے ہائوس بوٹ،جھیل میں تیرتا ہوا ڈاکخانہ اور ریستوراں، نہروپارک سے چار چنار تک کا سفر، شکاروں میں نئے شادی شدہ جوڑوں کی بلا خوف اٹکھیلیاں، زعفران و دیگر کشمیری اشیا فروخت کرنے والوں کا اپنے مخصوص انداز میںسیاحوں کو لبھانا، نشاط کے کھلتے ہوئے خوشنما پھول، سیبوں کے درخت، اس کے صدر دروازے کے بالائی جھرنا نما حصے سے پانی کا ایک مخصوص آواز کے ساتھ بہنا، باغ کے ایک خاص درخت کی بابت وہاں بیٹھے ایک پھل فروش کا یہ دعویٰ کرنا کہ مغل شہنشاہوں نے بھی اس درخت پر آنے والے سیبوں کا ذائقہ لیا تھا، پکنک منانے والے کشمیری حضرات کا بڑے بڑے ناشتہ دان اپنے ساتھ لانا، وہاں اسٹوو جلانا( جسے ماحولیاتی تحفظ سے متعلق قانون کی خلاف ورزی میں شمار کیا جاسکتا تھا)، شالیمار باغ میں عجب سی خاموشی، ہاروان اور اس کے پس منظر میں ایک خوبصورت ڈیم، چشمہ شاہی کا ٹھنڈا اور میٹھا پانی(یہاں پر ہم نے اپنے کشمیری دوستوں کی مدد سے اپنی دو بیٹیوں کی روزہ کشائی کا انتظام کیا تھا)، وہاں سے مہاراجہ کے محل کا نظارہ، شنکرآچاریہ مندر تک کئی کلو میٹر کی چڑھائی، حضرت بل میں حضور اکرمؐ کے موئے مبارک کی زیارت، شیخ عبد اللہ کے مزار پر فاتحہ خوانی، پہلگام کے خوبصورت مناظر، گل مرگ کا وسیع میدان اور ٹرالی کا سفر، سون مرگ کی برف پوش پہاڑی پر پہنچنے کے لیے خچر کا سفر، پتھر کا ٹکڑایا کوئی بھی شے حائل راہ ہونے کی صورت میں خچر کا اپنی ٹانگوں کو اچانک جنبش دے کر صاف راستہ اختیار کرلینا(کاش کشمیری سماج کے لوگ اپنے روابط میں بھی ایسا محتاط رویہ اختیار کرتے!)، براستہ شوپیاں تیز بہائو والے اہر بل جھرنے تک پہنچنا،سیبوں کے شہر سوپور، پلوامہ، بارہمولہ، اننت ناگ( جس کا نام مقامی لوگوں نے اس وقت اسلام آباد رکھ لیا تھا) کی سیر،براستہ ٹن مرگ پہنچ کر بابا رشی کے مزار پر حاضری، مابعد درگاہ چرار شریف پر حاضری، چرار شریف کے سفر کے دوران ایک ہندوخاتون استانی کا ایک بالکل خالی بس اسٹینڈ سے تن تنہا بس میں سوار ہونا اور مسلم مسافروں کو انھیںسیٹ دینا، کوکرناگ کے قریب سڑک کے کنارے ایک مسلم ہوٹل والے کا ہم سے اپنی شناخت ظاہر کرنے پر بار بار اصرار کے باوجود کھانے کے پیسے نہ لینا اور اس کی سادہ لوحی(جس کا کبھی کبھی بہکاکر ناجائز فائدہ بھی اٹھایا جاسکتا ہے) سے ہمارا غیر منطقی طور پر متاثر ہونا، ہمارے لیے ایسی یاد پارینہ بن چکی ہیں کہ جس کی تجدید کے لیے ہم بارگاہ خداوندی میں باربار سجدہ ریز ہوتے ہیںاور یہ دعا کرتے ہیں کہ بیتے ہوئے دن کسی طرح لوٹ کر آجائیں اور نہ صرف ہنڈو بلکہ دیگر لوگ بھی کشمیر میں دوبارہ اپنے اپنے گھروں میں جاکر، خواہ ان کا گھر سری نگرمیں ہو یا دیگر کسی مقام میں،اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ پھر شیر و شکر ہو کررہیں۔جو مزہ کثرت الوجود میںہے وہ اپنی ایک اینٹ کی عمارت بنانے میں نہیں۔
ان کا جو فرض ہے وہ اہل سیاست جانیں
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے
(مضمون نگار آزاد صحافی، مصنف، سابق بیورکریٹ اور عالمی ادارہ برائے انسانی حقوق سوسائٹی کے تاحیات رکن ہیں)
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS