بے رونق رمضان:تالہ بندی کی وجہ سے کھجوروں کے ساتھ ساتھ مسواک بھی غائب

    0

    سرینگر: صریرخالد،ایس این بی
    کووِڈ 19-سے بچاؤ کیلئے جاری تالہ بندی کی وجہ سے تو ماہِ رمضان کی رونقیں لُٹ ہی چکیں ساتھ ہی اس مہینے کیلئے خاص کئی کاروبار پوری طرح ٹھپ ہوگئے ہیں۔کھجوروں کے کاروباریوں کی ہی طرح رمضان میں بڑھے پیمانے پر مسواک بیچنے والوں کا مال بھی رہ گیا ہے۔ حالانکہ کھجوروں کے بمقابل مسواک کے بازار کی مندی کیلئے کووِڈ 19-کا خوف نہیں بلکہ اس سے بچاؤ کیلئے جاری تالہ بندی ذمہ دار ہے۔
    سرینگر اور یہاں سے باہر کے علاقوں کے مقامی دکانداروں کے پاس مسواک دستیاب نہیں ہیں جبکہ سرینگر میں اسکا کاروبار کرنے والے تھوک فروشوں کا کہنا ہے کہ انکی دکانیں بھری پڑی ہیں لیکن تالہ بندی کی وجہ سے وہ اپنا مال کہیں بھیج نہیں پا رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ حالانکہ انہیں بیرون جموں کشمیر سے بھی کوئی نیا مال تو نہیں پہنچا ہے تاہم رمضان سے کہیں قبل جو مال انہوں نے ذخیرہ کیا ہوا تھا وہ ویسے کا ویسا ہے۔
    سرینگر کے پائین علاقہ میں ایک معروف مسجد کے بغل میں ٹوپی،تسبیح،رومال،عطر اور اس طرح کی دیگر چیزوں کی تھوک دکان چلانے والے ایک تاجر کا کہنا ہے کہ انکے یہاں پندرہ ہزار سے زیادہ مسواک موجود ہیں جو عام حالات میں رمضان کے دوران صرف چند ایک پرچون دکانداروں کیلئے بھی کافی نہیں ہے لیکن ابھی یہ سارا مال پڑا ہوا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ  انکی طرح کئی دیگر کاروباری بھی ہیں کہ جنکے پاس یہ مال موجود ہے لیکن جب اسکا سیزن جوبن پر ہے تالہ بندی کی وجہ سے وہ کاروبار نہیں کر پاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یوں تو پورا سال مسواک کی کچھ نہ کچھ مانگ ہوتی ہی ہے لیکن رمضان میں اسکی مانگ میں سینکڑوں گنا اضافہ ہوتا ہے انکا کہنا ہے کہ عام حالات میں رمضان کے دوران وہ ایک لاکھ کے قریب مسواک بیچتے رہے ہیں لیکن اب کے سب کچھ ٹھپ ہے۔
    کچھ خاص پیڑوں کی ٹہنیوں کی قلمیں بناکر انکے ایک سرے کو دانتوں تلے چبا کر نرم کیا جاتا ہے اور اسکی رگڑ سے دانت صاف کئے جاتے ہیں ،اسے مسواک کہا جاتا ہے۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکے استعمال کی بڑی ترغیب دی ہے اور یہی وجہ ہے کہ کئی لوگ مروجہ ٹوتھ پیسٹ پر مسواک کو ترجیح دیتے ہیں۔رمضان کے مہینے میں ثواب کی نیت سے زیادہ سے زیادہ لوگ مسواک کا استعمال کرتے ہیں۔حالانکہ کشمیر میں روایتی طور مقامی بھید کی قلموں سے مسواک کیا جاتا رہا ہے تاہم کئی سال سے یہاں زیتون،نیم، پیلو اور دیگر پیڑوں کے مسواک مشہور ہوئے ہیں۔جہاں نیم اور پیلو کے مسواک راجستھان وغیرہ سے درآمد کئے جاتے ہیں وہیں زیتون کی قلمیں ’’کراس بارڈر ٹریڈ‘‘ کے تحت پاکستان سے آتی تھیں تاہم بھارت اور پاکستان کے بیچ گذشتہ سال کشیدگی بڑھ جانے کے بعد یہ تجارت بند ہوچکی ہے۔
    کشمیر میں کووِڈ19-کی مچائی ہوئی دہشت کی وجہ سے مساجد بھی بند ہیں اور یہاں ماہِ رمضان جاری ہونے کے باوجود بھی لوگوں کو جماعت پڑھنے کی اجازت نہیں ہے۔یہاں وزیرِ اعظم مودی کی جانب سے تالہ بندی کا اعلان کئے جانے سے ایک دن قبل سے ہی مکمل تالہ بندی ہے اور لوگ گھروں میں محصور ہیں۔روزنامہ راشٹریہ سہارا نے گذشتہ دنوں ایک مفصل رپورٹ میں بتایا تھا کہ لوگوں کے کھجور کھانے سے ڈرنے کی وجہ سے کس طرح رمضان کے دوران محبوب ترین شئے کے بطور جانی جاتی رہی اس چیز کا کاروبار پوری طرح ٹھپ ہوچکا ہے۔

    آپ کے تاثرات
    +1
    0
    +1
    0
    +1
    0
    +1
    0
    +1
    0
    +1
    0
    +1
    0

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here