کرناٹک: کب تک بٹے گی جوتیوں میں دال

0

جن ریاستوں میں جلد اسمبلی انتخابات ہونے ہیں ان میں ایک اہم ریاست کرناٹک ہے۔ گزشتہ پانچ سال میں وہاں پر سیاسی عدم استحکام اقتدار میں تبدیلی اور فرقہ وارانہ نوعیت کے صورت اور حادثات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یہ واقعات کرناٹک اور جنوبی ہندوستان میں نئی ہے اور عام طور پر جنوب میں اس نوعیت کے مذہبی واقعات نہیں پیش آتے ہیں۔ پچھلے دنوں لو جہاد، مختلف مذبی مقامات کے ارد گرد تہواروں اور میلوں کے موقع پر دکانداروں کی مذہبی شناخت اور حلال کارو بار یا گوشت اور گوشت سے بننے کھانوں کے خرید وفروخت کو لے کر ماحول کرناٹک میںبری طرح پراگندہ کیا گیا ہے اور اب جیسے جیسے انتخابات قریب آرہے ہیں ایک اور تنازع سامنے آیا ہے جو کہ کچھ زیادہ نیا نہیں ہے مگر اس مسئلہ کو اچھال کر گڑھے مردوں کو اکھاڑ نے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ظاہر ہے کہ گڑھے مردے اکھاڑنے سے کرناٹک کی حکمراں جماعت کو فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔
چند روز قبل کرناٹک کے ایک سینئر لیڈر اور وزیر نے 18ویں صدی کے میسور کے حکمراں ٹیپو سلطان کے مسئلہ کو اچھال کر نہ صرف یہ کہ اقلیتوں کے خلاف بلکہ اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس کے خلاف ماحول پیدا کیا ہے۔ کرناٹک کے وزیر سی این اشوتھ نارائن نے سابق وزیر اعلیٰ سدھا رمیا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ وہ لوگ جو ٹیپو سلطان کی بات کرتے ہیں اس کو ادب واحترام سے نوازتے ہیں ایسے لوگوں کو ختم کر دینا چاہیے۔ کانگریس کے لیڈر اور سابق وزیراعلیٰ سدھا رمیا نے الزام لگایا ہے کہ وہ عوام کو ورغلا کر انہیں موت کے گھاٹ اتارنے کے لیے اشتعال انگیزی رہے ہیں۔ انہوںنے ریاست کے وزیراعلیٰ بساوا راج بومیئی سے کہا ہے کہ وہ اسوتھ نارائن کو کابینہ سے باہر نکالیں۔
ٹیپو سلطان کی شخصیت جنوبی ہندوستان اور ہندوستان کے ہر دلعزیز اور ملک سب سے پہلے مجاہد آزادی کی رہی ہے۔ انہوںنے ہندوستان میں انگریزوں کو جمنے نہیں دیا۔ انہوںنے مختلف مقامات پر ان کے خلاف جنگیں لڑیں اور ہر جگہ انگریزوں کو منھ کی کھانی پڑیں۔ بعد میں ایک معرکہ میں وہ بحق ہوئے۔ ان کی شہادت کے بعد انگریزوں نے راحت کی سانس لی اور ہندوستان کا اس شیر کے خاتمے کے بعد انگریزوں کو حوصلہ ملا کہ وہ ہندوستان میں اپنا سکہ جما سکیں۔ ٹیپو سلطان کی شخصیت کے بارے میں کئی دانشوروں اور تاریخ دانوں کی رائے ہے کہ وہ ایک ہر دلعزیز مقبول عام حکمراں تھے ان کی بہادری اور نیک دلی کے چرچے ہر خاص وعام کے زبان پر تھے۔ ان کے آس پاس کے مختلف راجائوں سے اختلافات اور تنازعات تھے۔
بہر کیف کرناٹک کے بی جے پی کے صدر نلن کمار کٹیل نے پچھلے دنوں تو یہاں تک کہہ دیا کہ اس مرتبہ کے اسمبلی انتخابات میں ٹیپو سلطان بنام ’ویر ساور‘کر ہوگا۔ انہوںنے کانگریس پر الزام لگایا کہ اس نے ٹیپو سلطان کی جینتی منانے کی شروعات کی اور ساور کر کی بے عزتی کی ہے۔ انہوںنے سابق وزیر اعلیٰ سدھا رمیا پر کو چیلنج کیا کہ وہ یہ بتائیں کہ آج ملک کو کس کی ضرورت ہے۔ ساور کر کی یا ٹیپو سلطان کی۔
اگرچہ نارائن کے تبصرہ کے علاوہ اس سے قبل بھی بی جے پی ٹیپو سلطان کو کئی ایشوز پر گھیرتی رہی ہے۔ ٹیپو سلطان او راس کے افسران اور فوجیوں کے ذریعہ کرناٹک میں کڈواآبادی کو مارنے کے الزامات لگائے جاتے ہیں، اس کے علاوہ کیرل میں نائر طبقہ کے خلاف بھی قتل عام کی سازش کرنے کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔ ان دونوں طبقات کے خلاف ٹیپو سلطان کی مبینہ سازش کو ایشوبنا کر ۔ ہندو خطرے، کا نعرہ کو اچھالنے کی کوشش کی گئی ہے۔
بی جے پی ٹیپو سلطان کو جہادی اور ہندو مخالف قرار دینے کی کوشش کرتی ہے اور اس طرح ٹیپو سلطان کرناٹک میں اور مغل ہندوستان میں بی جے پی کے نشانے پر ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت کانگریس کو مسلمانوں کی پارٹی اور ہندو دشمن قرار دینے کا وطیرہ اختیار کیا جارہا ہے۔ جبکہ کانگریس او ردیگر پارٹیاں ٹیپو سلطان کو مجاہد آزادی قرار دے رہی ہے۔
کرناٹک میں سیاسی اتھل پتھل وہاں کی شناخت بن گئی ہے۔ کرناٹک میں ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ ، پروجیکٹوں میں کرپشن، تعمیراتی کاموں میں خراب معیار کا سامان کا استعمال ایسے ایشوز ہیں جو مسلسل نظرانداز ہورہے ہیں اور موجودہ حکمراں اشتعال انگیز کو ایشوز کو اچھا کر عام آدمی کی زندگی سے وابستہ امور کو نظرانداز کررہے ہیں۔ کرناٹک میں حجاب کے مسئلہ پر ایسی غیر معمولی سماجی رسہ کشی دیکھی گئی جس کی مثال نہیں ملتی۔ کئی اسکولوں اور کالجوں میں حجاب پہننے والی طالبات کو ڈرایا دھمکا یا گیا اور جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں اقلیتی فرقہ سے تعلق رکھنے والی خواتین جو کہ حجاب کی وجہ سے باہر نکل کر تعلیم حاصل کررہی تھیں اور زندگی کے مختلف شعبوں میں اہم رول ادا کررہی تھیں، ان کے اندر احساس عدم تحفظ پیدا ہوا۔ کئی جرأت مند طالبات نے شرپسند اور ناپسندیدہ عناصر کی حرکتوں کا مقابلہ کیا مگر کچھ طبقات نے حجاب کے اتارنے کے بجائے اپنی بچیوں اور بیٹیوں کو تعلیمی اداروں کو بھیجنے کی بجائے گھر میں رکھنے میں عافیت سمجھی۔ یہ حالات کرناٹک جیسی ریاست میں پیدا ہوئے جو کہ ہمیشہ سے فرقہ وارانہ خیر سگالی ترقی پسندانہ نظریات اور باہمی میل ومیلاپ کے لیے مشہور تھیں۔ ریاست کی روز مرہ کی زندگی میں تمام طبقات بشمول برقعہ پوش خواتین ہر شعبہ حیات میں مصروف اور سرگرم تھیں اور اپنا تعاون دی رہی تھیں مگر اس شرپسندانہ اور بدنیتی پر مبنی سازشوں کے سبب نہ صرف یہ کہ ریاست کا ماحول پراگندہ ہوا بلکہ تعلیمی ادارو ںمیں بھی مختلف طبقات کی طالبات اورطلباء میں تفریق اور اختلافات ظاہر ہونے لگے۔ شرپسندوں نے اسکول ، کالجوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں گھس کر تعلیمی ماحول خراب کیا۔ ظاہر ہے کہ کلاس روم جس کا ماحول پر امن اور پرسکون ہونا چاہیے۔یہ درس وتدریس کے لیے ضروری ہے۔
طالبات کے وضع قطع ایشوز کے سامنے آنے کے بعد ماحول پراگندہ ہوا۔ ان تمام حرکتوں سے اگرچہ ریاست کا ماحول خراب ہوا مگر سیاسی فائدہ بی جے پی اٹھانا چاہ رہی ہے۔ بہر کیف اسمبلی انتخابات زیادہ دور نہیں ہے اور بی جے پی نے ایک اور ایشو اچھال کر الیکشن میں سیاسی فائدہ اٹھانے کی منصوبہ بندی کرلی ہے۔ٹیپو سلطان کی حمایت کی کرنے پر سدھا رمیا کو بی جے پی فرقہ واریت کو فروغ دینے والا لیڈر بتا کر بدنام کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیپو سلطان کے نام کو اچھال کر بی جے پی ایک بار پھر برسراقتدار آنا چاہتی ہے۔ بی جے پی کو یہ لگتاہے کہ 18ویں صدی کے حکمراں جس نے ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے پیر نہیں جمنے دیے۔
آج اس کو فرقہ وارانہ سیاست کا شکار بنا یا جا رہا ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کرناٹک میں یا جنوبی ہندوستان میں اس قسم کے ہتھکنڈے استعمال ہورہے ہوں۔ دو دہائی قبل جب ٹیپو سلطان پر بالی ووڈ کے اداکار سنجے خان نے ایک سیریل ’ دی سورڈ آف ٹیپو سلطان‘ بنا یا تھا تب بھی اس کو ٹیلی ویژن پر ٹیلی کاسٹ کرنے سے قبل شرپسندوں ہزار ایشوز اٹھا کر اس کے ٹیلی کاسٹ کو روکنے کی کوشش کی تھی اور پروڈیسور ڈائریکٹر سنجے خان کو اس بات کے لیے مجبور کیا گیا ۔
سیریل کو ٹیلی کاسٹ کرنے سے پہلے ایک ایسا بیان جاری کیا جائے جس میں کہا جائے کہ یہ سیریل ٹیپو سلطان کی زندگی پر مبنی ایک ناول پر مبنی ہے۔ ظاہر ہے کہ شرپسند عناصر چاہتے تھے کہ سلطان کی زندگی کے حقائق عوام کے سامنے نہ آئے اور شرپسند عناصر جس قسم کا منفی اور گمراہ کن پروپگنڈہ کرتے ہیں وہ بلا روٹوک ماحول کو پراگندہ کرتے رہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کرناٹک کے انتخابا ت میں اپوزیشن بطور خاص کانگریس پارٹی شرپسند عناصر کی اس سازش کو کس طرح ناکام کرتی ہے۔ ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا بی جے پی کے مخالف اپوزیشن پارٹیاں بطور خاص کانگریس اور جنتا دل یو کس حد تک اپنے اختلافات کو صرف نظر کرکے حکمراں جماعت کو اقتدار سے بے دخل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیںیا ان سیکولر پارٹیوں میں یونہی جوتیوں میں دال بنٹتی رہے گی۔

بی جے پی کا گھٹتا بڑھتا گراف

کرناٹک میں جنوبی ہندوستان کی واحد ریاست ہے جہاں اس کا زوبردست اثرورسوخ اور آج بی جے پی اہم سیاسی طاقت بنی ہوئی ہے۔ 1983میں اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے 7.9فیصد ووٹ حاصل کرکے اپنی موجودگی درج کرائی تھی۔ اس وقت بی جے پی کے 110امیدواروں کے الیکشن لڑا تھا اور 18سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ کل ملا کر بی جے پی 71ممبران اسمبلی کی ضمانت ضبط ہوگئی تھی۔ بی جے پی ساحلی کرناٹک میں اپنی موجودگی درج کر اسکی تھی۔ مگر دیہی علاقوں میں رام کرشن ہیگڑے کے دور اقتدار میں ان کے ایک وزیر پر عبدالنظیر کے شاندار کام کی وجہ سے بی جے پی دیہی علاقوں میں اپنی پوزیشن نہیں بنا سکی۔ جنتا دل لیڈر رام کرشن ہیگڑے کی دور اندیش قیادت کی وجہ سے کوئی دوسری پارٹی دیہی علاقوں میں مضبوط نہیں ہوپائی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 1985کے اسمبلی الیکشن میں بی جے پی کے 115امیدواروں میں سے صرف دو امیدوار کامیاب ہوپائے۔ اس وقت بی جے پی کا ووٹ شیئر بھی گرا اور صرف 3.7فیصد رہ گیا۔ آج بی جے پی کرناٹک میں بڑی طاقت بن گئی ہے۔ 2018کے الیکشن میں بی جے پی کو 2024میں سے 104،2013میں 40، 2008میں 110، 2004میں 79، 1999میں 44، 1994میں 40، 1989میں صرف چار سیٹیں حاصل کرپائی تھی۔ اس سے قبل 1989میں ،1985میں 12اور 1983میں 18سیٹوں پر کامیابی ملی تھی۔