کرناٹک:حجاب تنازع معاملہ کی سماعت کیلئے سہ رکنی بنچ کی تشکیلqہائی کورٹ میں سماعت آج

0
Members from different organization and Muslim women wearing Hijab attend a protest at Delhi University in New Delhi India on February 08, 2022 ,The Karnataka High Court will hear the petitions filed by the five girls questioning hijab (headscarf) restriction after six students at the Government Women First Grade College in Udupi district, Karnataka, around 400km from Bangalore, have been barred from attending classes for wearing a hijab and Hindu students began wearing saffron shawls as a sign of protest. India has seen an increasing number of hate crimes and attacks against Muslims, Christians and Minorities in recent months. Photo/Snb.

بنگلورو (ایس این بی) :حجاب مقدمہ کی سماعت کیلئے ہائی کورٹ میںسہ رکنی بنچ کی تشکیل ہوگئی ہے،جس کی قیادت چیف جسٹس ریتو راج اوستھی کریں گے۔ان کے علاوہ جسٹس کرشنا ایس دکشت، جسٹس قاضی زیب النسا محی الدین بھی رہیں گی۔کل 10 فروری دوپہر2:30 بجے سماعت شروع ہوگی۔بدھ کو واحد جج والی بنچ کی قیادت کرنے والے کرشنا ایس دکشت نے یہ مقدمہ بڑی بنچ کے حوالے کرنے کی چیف جسٹس سے اپیل کی تھی۔اس کے تحت چیف جسٹس نے سہ رکنی بنچ تشکیل دی ہے۔حکومت اور عرضی گزاروں کے وکیلوں نے اس معاملے کی جلد تصفیہ کی اپیل کی ہے۔عرضی گزاروں کے وکیل نے فیصلہ آنے تک عبوری حکم جاری کرتے ہوئے مسلم طالبات کو حجاب کے ساتھ کلاس میں شرکت کرنے کی اجازت کیلئے اپیل کی تھی، لیکن عدالت نے نہیں مانا، اب 10 فروری کوسہ رکنی بنچ معاملہ کی سماعت کرے گی۔
اس سے قبل کلاسوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف کچھ عرضیوں پر منگل سے سماعت کرنے والے جسٹس کرشنا ایس دیکشت نے کہا کہ پرسنل لا کے کچھ پہلوئوں کے مدنظر یہ معاملے بنیادی اہمیت کے کچھ آئینی سوالوں کو اٹھاتے ہیں۔ جسٹس دکشت نے کہا کہ ’ایسے موضوعات جن پر بحث ہوئی اور اہم سوالوں کی وسعت کو دیکھتے ہوئے عدالت کا خیال ہے کہ چیف جسٹس کو یہ طے کرنا چاہیے کہ کیا اس موضوع کے سلسلے میں ایک بڑی بنچ کی تشکیل کی جا سکتی ہے۔‘ ریاست کے اڈوپی ضلع کے سرکار کالجوں میں پڑھنے والی کچھ مسلم لڑکیوں نے حجاب کے ساتھ کلاسوں میں داخلہ پر روک کے خلاف پٹیشن دائر کی ہے۔ دریں اثنا کرناٹک کی کابینہ نے بدھ کو حجاب تنازع پر کوئی بھی فیصلہ لینے سے پہلے ہائی کورٹ کے حکم کا انتظار کرنے کا فیصلہ کیا۔ کرناٹک ہائی کورٹ نے اڈوپی ضلع کے ایک سرکاری پری یونیورسٹی کالج کی 5 طالبات کے ذریعہ داخل عرضیوں پر سماعت پھر شروع کر دی۔ ان عرضیوں میں کالج میں حجاب پہننے پر عائد پابندی پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔ قانون و پارلیمانی امور کے وزیر جے سی مدھوسوامی نے کہا کہ ’ہم نے (کابینہ میں) حجاب تنازع پر غور و فکر کیا لیکن چونکہ ہائی کورٹ اس معاملے پر سماعت کر رہا ہے، لہٰذا ہمیں لگا کہ کابینہ کا آج اس معاملے پر فیصلہ لینا مناسب نہیں ہوگا۔ کوئی بھی فیصلہ لینے سے پہلے عدالت کے فیصلے کا انتظار کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔‘ اخباری نمائندوں کو کابینہ کے فیصلوں کے بارے میں بتاتے ہوئے مدھو سوامی نے کہا کہ معاملہ زیر غور ہے، اس پر بات چیت کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ کرناٹک کے الگ الگ حصوں میں حجاب کی حمایت اور مخالفت میں مظاہرے تیز ہونے اور کچھ مقامات پر اس کے پر تشدد رخ اختیار کرنے کے بعدریاستی سرکار نے سبھی ہائی اسکولوں اورکالجوں میں 3 دن کی چھٹی کا اعلان کر دیا تھا۔