ریاست گووا میں یکساں سول کوڈ نافذہونے کی بات قطعاً صحیح نہیں: پروفیسر طاہر محمود

0
esamskriti

گووا (پریس ریلیز) : اخباری خبروں کے مطابق اتراکھنڈ میں سرکاری طور پر کہا گیا ہے کہ یہ ریاست ملک میں ’گووا کے بعد یکساں سول کوڈ نافذ کرنے والی دوسری ریاست ہوگی‘ ۔ آئین ہند کی دفعہ 44 میں مذکور یکساں سول کوڈ کے ضمن میں گووا میں یکساں سول کوڈ نافذہونے کی بات بہت عرصے سے کی جارہی ہے جوکہ خلاف حقیقت اور ملک کے قانونی نظام سے عدم واقفیت پر مبنی ہے۔ ملک کے مغربی ساحل پر واقع گووا، دمن اور دیو کے علاقوں پر کئی صدیوں سے پرتگالیوں کا قبضہ تھا اور انھوں نے انیسویں صدی کی شروعات میں وہاں مروجّہ ہندو رسم و رواج کی تدوین کروا کے اسے باقاعدہ قانون کی شکل دی تھی۔ جب پرتگال کی حکومت نے 1867 میں پرتگالی سول کوڈ وضع کیا تو اسے ان علاقوں میں بھی نافذ کیا مگر اس وضاحت کے ساتھ کہ عائلی معاملات میں ہندو حضرات پر اس کا اطلاق ان کے مذکورہ بالا مذہبی قانون کے تابع ہوگا۔ آزادی کے کئی سال بعد جب 1961 میں حکومت ہندنے فوجی کارروائی کے ذریعے ان علاقوں کو پرتگال کے قبضے سے آزاد کروایاتو ایک پارلیمانی ایکٹ پاس کیا گیا جس کے تحت وہاں کے پرانے قانونی نظام کو مکمل طور پرجوں کا توںبرقرار رکھا گیا تھا۔ چنانچہ پرتگالی سول کوڈ اور مقامی ہندوں کے مذہبی رسم و رواج کا قانون دونوں وہاں آج بھی نافذ ہیں۔ جسے آج ’گووا کا یونیفارم سول کوڈ‘ کہا جارہا ہے وہ وہاں کی حکومت کا آزادی کے بعدنافذ کردہ کوئی نیاقانون نہیں بلکہ ڈیڑھ سو سال سے بھی زیادہ پرانا ایک غیر ملکی فرسودہ قانون ہے اور وہ بھی وہاں کے سبھی باشندوں پر یکساں طور پر نافذ نہیں ہے۔ آزادی کے بعد وضع کئے گئے جدید ہندو قوانین جو ملک کے دیگر سبھی حصوں میں نافذ ہیں ان کا اطلاق گووا، دمن اور دیو میں آج تک نہیں ہوتا ہے اور یہ صورت حال آئین ہند کی یکساں سول کوڈ والی دفعہ کی روح اور الفاظ دونوں سے متصادم ہے اور پھر ان علاقوں کی ہندو آبادی کو ملک کے جدید ہندو قوانین سے الگ تھلگ رکھنے کا کوئی آئینی اور قانونی جواز بھی نہیں ہے۔ آئین کے تحت پورے ملک کیلئے ایک یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی بات کرنے والوں کو پہلے اس طرف توجہ کرنی چاہئیے۔