’غیر ملکی میڈیکل کالج کے طلبا کو عارضی رجسٹریشن نہیں دینے کا فیصلہ درست‘

0

نئی دہلی (یو این آئی) :سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز کہا کہ کووڈ کے بہانے غیر ملکی میڈیکل کالجوں کے طلبا کو عارضی رجسٹریشن نہ دینے کا نیشنل میڈیکل کمیشن ( این ایم سی) کا فیصلہ درست ہے ۔عدالت عظمیٰ نے این ایم سی کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہندوستان کے بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے میڈیکل کے طلبا کو ملک کے میڈیکل کالجوں میں طبی تربیت دینے کے لیے دو ماہ کے اندر ایک منصوبہ تیار کرے ۔بنچ نے یہ بھی واضح کیا کہ کووڈ19- کے بہانے ، پڑھائی اور تربیت کی مکمل مدت پوری کیے بغیر عارضی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ نہیں دیا جا سکتا ہے ۔جسٹس ہیمنت گپتا اور جسٹس وی رام سبرامنیم کی بنچ نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ عالمی وباءکی وجہ سے طلبہ کی پڑھائی متاثر ہوئی ہے ۔ اس لیے ان کے لیے یہاں تربیت کا انتظام کیا جائے لیکن مناسب تربیت کے بغیر رجسٹریشن سرٹیفکیٹ دینا شہریوں کی زندگیوں سے
کھیلنے کے مترادف ہوگا۔
بنچ نے کہا کہ غیر ملکی اداروں میں داخلہ لینے والے نوجوان طلبا کی خدمات کو ملک میں صحت کی خدمات کو فروغ دینے کے لئے استعمال کیا جانا چاہئے ۔سپریم کورٹ
نے این ایم سی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے مدراس ہائی کورٹ کے اس فیصلے سے اختلاف کیا، جس میں کہا گیا تھا کہ چین میں 3 ماہ کی کلینیکل ٹریننگ کے
بجائے عارضی رجسٹریشن کے لیے 12 ماہ کی انٹرن شپ کے علاوہ 2 ماہ کی ٹریننگ کافی ہوگی۔ بنچ نے کہا کہ پوجا تھانڈو نریش اور دیگر کو عارضی رجسٹریشن
سرٹیفکیٹ نہ دینے کے این ایم سی کے فیصلے کو غیر معقول نہیں کہا جا سکتا کیونکہ طبی تربیت کے بغیر ملک کے شہریوں کی نگہداشت کے لیے کوئی ڈاکٹر نہیں بن
سکتا ہے ۔بنچ نے کہا کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ این ایم سی کسی ایسے طالب علم کو عارضی رجسٹریشن دینے کا پابند نہیں ہے جس نے کلینیکل ٹریننگ سمیت کسی غیر ملکی
ادارے سے کورس کی مقررہ مدت مکمل نہیں کی ہے ۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS