نفرت کے ماحول میں عوام تک پہنچناضروری

0
timesofindia.indiatimes.com

عمیر کوٹی ندوی
انسانیت کو شرمسار کرنے والے واقعات ،وہ بھی تہوار کے موقع پر تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔حالیہ واقعہ ہریانہ کے گڑگاؤں میں پیش آیا جہاں ایک مسجد میں داخل ہوکر شرپسندوں نے نمازیوں کو مارا پیٹا اور علاقہ چھوڑ کرکہیں اور چلے جانے کو کہا۔اس سے قبل ملک کی چار ریاستوں کرناٹک، تلنگانہ، جھارکھنڈ اور گجرات کے باہم ایک دوسرے سے بہت دور متعدد علاقوں میں اس طرح کے واقعات پیش آئے۔ یہ اس حقیقت کا اظہار ہے کہ اس کے لئے ذمہ دار عناصر نہیں چاہتے کہ ملک کے تمام شہری امن، شانتی، محبت اور بھائی چارے کے ساتھ رہیں۔ ایک دوسرے سے گھلیں ملیں، بھائی بھائی بن کر اور آپس میں مل کر ملک کی ترقی کے لئے کوشش کریں۔ حالانکہ ملک سے محبت کرنے والا ہر سنجیدہ شہری پیار ومحبت، آپسی بھائی چارے کی اہمیت اور ملک کی ترقی میں اس کی ضرورت کو سمجھتا ہے۔ لیکن فرقہ پرست طاقتیں ایسا ہونے دینا نہیں چاہتی ہیں۔ فرقہ پرستوں نے دسہرہ کے موقع پر کرناٹک کے بیدر شہر میں محمودگاواں مدرسہ میں واقع مسجد کے مینار کے حصے میں پوجا کی، نعرے بازی کی اوراس کا ویڈیو بنا کر وائرل بھی کردیا۔ دسہرا ہی کی تقریبات کے دوران تلنگانہ کے سنگاریڈی ضلع کے کننڈی منڈل کے بیتھول گاؤں میں واقع قطب شاہی دور کی ایک مسجد میں مقامی سرپنچ سمیت شرپسندوں نے بھگوا جھنڈا لہرایا اور’اوم‘ کا نشان لکھا۔ درگا پوجا مورتی وسرجن جلوس کے موقع پرجھارکھنڈ کے رام گڑھ ضلع کے دھویا گاؤں میں عمران انصاری نامی 45سالہ شخص کی گاؤں کے ہی لوگوں نے زبردست پٹائی کی جس سے اس کی موت واقع ہوگئی۔
4؍اکتوبر کو گجرات کے کھیڑا میں کئی مسلمان مردوں کو کھمبے سے باندھ کر سادہ لباس پہنے پولیس اہلکاروں کے ذریعہ لاٹھی سے پیٹنے کا معاملہ بھی سامنے آیا۔ جس کے اطراف میں خواتین اور بچے سمیت لوگوں کا ہجوم تھا۔ ان لوگوں کو گرفتار کرنے سے پہلے پولیس اہلکاروں نے ان کو پیٹتے ہوئے ہجوم سے معافی مانگنے کے لئے بھی کہا۔ ایک طرف یہ اور ان جیسے دیگر واقعات رونما ہورہے ہیں، دوسری طرف اہل اختیار کی ہمیشہ کی طرح گہری خاموشی ہے۔ یہی وہ خاموشی ہے جو فرقہ پرستوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور لوگوں کے ذہنوں میں سوال پیدا کرتی ہے۔ اسی درمیان وجئے دشمی کے موقع پر بدھ 5؍اکتوبر کو ناگپور میں آرایس ایس کے ہیڈکورٹر میں منعقدہ ایک پروگرام میں آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے خطاب کیا۔ اس میں انہوں نے کہا ہے کہ ’’ ترقی اس وقت تک آسان نہیں جب تک پورا معاشرہ رضاکارانہ طور پر ہاتھ نہیں ملاتا۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب ہم ذات پات، مسلک، مذہب، فرقے سے اوپر اٹھ کر سب سے پہلے قوم کے لئے سوچیں……ہمیں اپنی ذہنیت کو بدلنا ہوگا۔ اندرونی اور بیرونی طاقتیں مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر تفرقہ پھیلا کر ہمیں مسلسل کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ہمیں تفرقہ انگیز قوتوں کے ہتھکنڈوں کو سمجھنا اور مسترد کرنا چاہئے‘‘۔
مذکورہ واقعات اور اہل اختیار کی سرد مہری کے ضمن میں یہ سوالات اس بار بھی ابھر کر سامنے آتے ہیں کہ اس طرح کے واقعات کو انجام دینے والوں، ایک خاص فکر ونظریہ کے حامل لوگوں تک آر ایس ایس سربراہ کی بات کیوں نہیں پہنچ رہی ہے۔ حالانکہ عام طور پر اس نظریہ کے حامل لوگ خود کو آرایس ایس کی فکر سے وابستہ گردانتے ہیں اور ایک عرصہ سے خاص طور پر چند برس سے کچھ زیادہ ہی مشتعل نظر آرہے ہیں۔ اگر موہن جی کی بات ان تک نہیں پہنچ رہی ہے یا ان کی سمجھ میں نہیں آرہی ہے تو اہل اختیار کیا کر رہے ہیں جو نہ اپنی نظریہ ساز تنظیم کے سربراہ کی بات اور ان کے اتحاد باہمی کے پیغام کولوگوں تک پہنچاپا رہے ہٰیں اور نہ انہیں سمجھا پا رہے ہیں۔ اس کے برخلاف ان کی گہری خاموشی تسلسل کے ساتھ قائم ہے اور وہ کسی بھی طرح ٹوٹنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ حالانکہ موہن جی یہ پیغام بار بار دے رہے ہیں، اپنی بات رکھ رہے ہیں اور اس کو لے کر وہ گزشتہ دنوں مسلم اداروں میں بھی گئے اور اہم شخصیات سے بھی ملے۔
انہوں نے 22؍ستمبر کو وسطی دہلی میں کستوربا گاندھی مارگ پر واقع مسجد اور پھر شمالی دہلی کے آزاد مارکیٹ میں واقع مدرسہ تجوید القرآن کے دورہ کے موقع پر بھی مل جل کر ملک کو ترقی کی طرف لے جانے پر زور دیا تھا۔ انہوں نے طلبا سے کہا تھا کہ ’’سب لوگ مل جل کر رہیں، ملک کو ترقی کی راہ پر لے جانے کی کوشش کریں……ہمارا مقصد یہ ہونا چاہئے کہ ملک و قوم کی ترقی میں حصہ دار بنیں‘‘۔ موہن جی کی مذکورہ باتیں ابھی فضا میں گردش ہی کر رہی تھیں اور ان پر لوگوں کے درمیان ابھی باتیں ہی ہو رہی تھیں کہ ایک اور ویڈیو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پروائرل ہو گیا۔ اس نے یہ بتا دیا کہ موہن جی یہ باتیں بھی ان سے اپنا تعلق ظاہر کرنے والوں اور ان کی تنظیم کے نظریہ سے اپنا رشتہ جوڑنے والوں تک نہیں پہنچی ہیں یا انہوں نے ان پر ذرہ برابر بھی اثر نہیں کیا ہے۔ یہ شرانگیز ویڈیو جس کی بات ہو رہی ہے، اس میں مغربی دہلی سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ پرویش صاحب سنگھ ورما9؍اکتوبراتوارکووی ایچ پی کی طرف سے دلشاد گارڈن میں منعقدہ ’جن اکروش‘ میٹنگ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بات کرتے ہوئے دکھ رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’ہم ہندو بھی کارروائی کرنے کے اہل ہیں۔ آج ہم چاہیں تو چوبیس گھنٹے میں ان کو سبق سکھا سکتے ہیں‘‘۔ وہ مسلمانوں کا ’مکمل بائیکاٹ‘ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’ان کے اسٹالوں سے سبزی خریدنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کے پاس گوشت کی دکانیں ہیں۔ گوشت کی تمام دکانیں بند کرنے کی ضرورت ہے جو بغیر لائسنس کے چل رہی ہیں۔ اگر آپ انہیں سیدھا کرنا چاہتے ہیں تو اس کا واحد حل مکمل بائیکاٹ ہے۔ آپ اتفاق کرتے ہیں؟ اگر آپ متفق ہیں تو ہاتھ اٹھائیں۔ میرے ساتھ کہو کہ ’’ہم ان کا بائیکاٹ کریں گے‘‘، ’’ہم ان کی دکانوں سے کچھ نہیں خریدیں گے، ہم انہیں ملازمت نہیں دیں گے‘‘۔فرقہ پرست اور اشتعال انگیزی کرنے والے چیف جسٹس آف انڈیا یویوللت کی اس بات سے بھی کوئی سبق نہیں لے رہے ہیں کہ ’’اشتعال انگیز تقاریر ملک کے ماحول کو پراگندہ کر رہی ہیں۔ ان پر روک تھام کی ضرورت ہے‘‘۔
صورت حال یہ ہے کہ فرقہ پرست طاقتوں تک آر ایس ایس سربراہ تک کا امن وآشتی کا پیغام نہ پہنچ پا رہاہے اور ان لوگوں کی بھی خاموشی نہیں ٹوٹ رہی ہے جن کے پاس اختیار ہے۔ ایسی صورت میں اللہ کے رسول ؐکی اس بات کو سامنے رکھ کر کہ ’’لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ ان میں اپنے دین پر صبر کرنے والا آدمی ایسا ہو گا جیسے ہاتھ میں چنگاری پکڑنے والا‘‘(ترمذی:2260)، مسلمانوں کی ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے۔
موجودہ صورت حال میں مسلم شخصیات اور دانشوروں کی اولین ذمہ داری بن جاتی ہے کہ وہ پورے تحمل اور برداشت کے ساتھ اور صبر کے اعلیٰ ترین مقام کا دامن تھام کر لوگوں کے درمیان نکلیں۔ خاص طور پر ان لوگوں تک پہنچیں جن تک موہن جی کی بات نہیں پہنچ پا رہی ہے یا وہ کسی وجہ سے ان کی بات کو نہیں سمجھ پارہے ہیں اور اہل اختیار بھی انہیں سمجھانے کی اپنی ذمہ داری کو ادا کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ وہ لوگوں کو بتائیں کہ سچ میں’ذات پات، مسلک، مذہب، فرقے سے اوپر اٹھنا‘ کتنا ضروری ہے اور یہ بھی بے انتہا ضروری ہے کہ اپنے اپنے مفادات، خواہشات کو پورا کرنے سے بھی پہلے بلکہ ’سب سے پہلے قوم کے لئے سوچا‘جائے۔
لوگوں کو بتائیں کہ یہ بھی ضروری ہے کہ حقیقی معنوں میں ’اپنی ذہنیت کو بدلا‘جائے، اور ان طاقتوں کو خواہ وہ کوئی بھی ہوں ’جو مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر تفرقہ پھیلا کر ہمیں مسلسل کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہیں‘ ان کے ہتھکنڈوں کو سمجھاجائے اور تفرقہ انگیز قوتوں کو بلا امتیاز مسترد کیا جائے۔ انہیں بتائیں کہ یہ وہ حقیقت ہے جسے سماج کے ہر طبقے، فرقے، مذہب اور ہر خطے کے لوگوں کو ہر حال میں تسلیم کرنا پڑے گا۔
چاہے ابھی تسلیم کر لیا جائے اور اب تک جو بھی نقصان ہوچکا ہے اس کی تلافی کی کوشش کرلی جائے یا پھر مزید نقصان اور نقصان پر نقصان برداشت کرکے اس کی طرف پلٹا جائے۔ انسانی زندگی کی حقیقت یہی ہے کہ چاہے کوئی کتنی ہی اشتعال انگیزی کرلے، نفرت کی فصلیں اگالے، کتنا ہی خون خرابہ کرلے اور اختیار کا بے جا استعمال کرتے ہوئے ظلم وفساد برپا کرلے تھک ہار کر سب کو آنا امن وشانتی کی ہی طرف پڑتا ہے۔ اس لئے کہ انسانوں کو پیدا کرنے والے نے انسان کی فطرت ہی ایسی بنائی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ فرقہ پرستی کی طرف مائل سمیت تمام لوگ امن وشانتی کی طرف پلٹ آئیں اور دیس کو ترقی کی طرف لے جانے میں اپنا اپنا کردار بھرپور طریقہ سے ادا کریں۔ کسی نے کہا ہے کہ:
مسکراؤ کہ زندگی لوٹے، ریت کی تہہ پہ نمی لوٹے
لبوں پہ جم گئے ہیں سناٹے، کچھ کیا جائے کہ ہنسی لوٹے