خواتین کیلئے حالات بہتر بنانا ضروری

0

اس دنیا کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ تعلیم کو عام کیا جائے، دنیا کا ہر فرد تعلیم حاصل کرے تاکہ وہ اپنا اچھا برا سمجھ سکے اور یہ بھی سمجھ سکے کہ جینے کے لیے بقائے باہم کے اصول پرچلنا ضروری ہے اوراسی لیے اپنے مفاد کے بارے میں جاننے کے ساتھ ساتھ دوسروں کے مفاد کے بارے میں جاننا بھی ضروری ہے لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ ناانصافی کی ابتدا گھر سے ہی ہوجاتی ہے۔ برسوں تک لڑکیوں اور عورتوں کو حصول علم سے محروم رکھا گیا۔ وطن عزیز ہندوستان میں بہت کوششوں کے بعد تعلیم نسواں کے مخالفین اپنی بچیوں کو تعلیم دلانے کے لیے تیار ہوئے تو لڑکوں کے ساتھ لڑکیوں کا پڑھنا انہیں پریشان کرتا رہا۔ حجاب نے انہیں راحت دی مگر کرناٹک میں حجاب کو جس طرح متنازع بنایا گیا اور حجاب میں حصول تعلیم پر پابندی کی وجہ سے لڑکیوں کا پڑھنا دشوار ہوا، وہ افسوسناک ہے۔ صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی کا کہنا ہے کہ ’اقتصادی، سماجی، سیاسی اور تعلیمی ترقی کی راہیں بند کی جا رہی ہیں، اس خاموش سازش کو اگر ہمیں ناکام کرنا ہے اور سربلندی حاصل کرنی ہے توہمیں اپنے بچوں اور بچیوں کے لیے الگ الگ تعلیمی ادارے خود قائم کرنے ہوں گے۔‘ کیونکہ، بقول مولانا مدنی، ’قوموں کی تاریخ شاہد ہے کہ ہر دورمیں ترقی کی کنجی تعلیم رہی ہے، اس لیے ہمیں اپنے بچوں کو نہ صرف اعلیٰ تعلیم کی طرف راغب کرنا ہوگا بلکہ ان کے اندر سے احساس کمتری کو باہر نکال کر ہمیں انہیں مسابقتی امتحانات کے لیے حوصلہ دینا ہوگا اور ہم اسی صورت سے اپنے خلاف ہونے والی ہر سازش کا منہ توڑجواب دے سکتے ہیں۔‘ مطلب واضح ہے کہ لڑکوں کی تعلیم کے ساتھ لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ دی جائے اور اس کے لیے ادارے قائم کیے جائیں، کیونکہ تعلیم کے بغیرکسی قوم نے کبھی ترقی نہیں کی۔ اسلام میں مردوں کے ساتھ عورتوں کی تعلیم پر بھی زور دیا گیا ہے۔ان دونوں کے لیے حصول تعلیم کو فرض قرار دیا ہے، یہ تلقین بھی کی گئی ہے کہ ماں کی گود سے قبر تک تعلیم حاصل کریں، اس لیے کوئی وجہ نہیں ہے کہ لڑکیوں اور عورتوں کو تعلیم سے محروم رکھا جائے، ان کے لیے حالات ایسے نہ بنائے جائیں کہ انہیں حصول علم میں آسانی ہو مگر ایک طرف وطن عزیز میں باحجاب لڑکیوں کو ان حالات کا سامنا ہے تو دوسری طرف سرکاری طور پر ’امارت اسلامی افغانستان‘ کہنے والے ملک کے حالات فہم سے بالاتر ہیں۔ یہ بات آج تک سمجھ میں نہیں آ سکی ہے کہ یہ ملک کن اصول و ضوابط پر چل رہا ہے۔ لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے کبھی خبر کچھ آتی ہے اور کبھی کچھ اور آتی ہے۔ پہلے افغان حکومت نے لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم پر پابندی عائد کی۔ اس کے بعد افغانستان کے کئی صوبوں میں لڑکیوں کے پرائمری اسکول بند کر دیے گئے مگر طالبات خوفزدہ نہیں ہوئیں، احتجاج و مظاہرے سے یہ بتانے کی کوشش کی کہ حصول تعلیم کا حق انہیں اللہ پاک نے دیا ہے اور یہ حق ان سے کوئی نہیں چھین سکتا۔
طالبات کے زبردست احتجاج کا ہی نتیجہ تھا کہ افغان حکومت کو لڑکیوں کو پانچویں تک حصول تعلیم کی اجازت دینی پڑی۔ بعد میں طالبان کے نائب ترجمان بلال کریمی نے خواتین کے اعلیٰ تعلیم کے حصول پر پابندی کے فیصلے کو درست قرار دیا لیکن افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی طرف سے بیان بھی آیا کہ ’حکومت خواتین کی تعلیم پر عائد عارضی پابندی اٹھانے کے لیے کام کر رہی ہے۔‘مگر عالمی برادری کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ یہ ’عارضی پابندی‘ کتنے دنوں کی رہے گی اور کیا افغانستان میں خواتین کے لیے حالات یوں ہی دگرگوں رہیں گے، کیونکہ افغانستان میں سابق خاتون ممبر پارلیمنٹ مرسل نبی زادہ کو ان کے اپنے ہی گھر میں جس طرح گارڈ سمیت مارڈالا گیا، اس سے یہ بات ہرگز نہیں کہی جا سکتی کہ افغانستان میں خواتین کے لیے حالات بہتر ہیں۔ افغان خواتین کو اعلیٰ تعلیم کے حصول سے روکنے کے بجائے افغان حکومت کو ان کی جان کی حفاظت پر خصوصی توجہ دینی چاہیے مگر وہ نہ قتل روک پا رہے ہیں اور نہ ہی خواتین کو تعلیم حاصل کرنے دے رہے ہیں جبکہ اسلام نے حصول تعلیم کی اجازت خواتین کو بھی دی ہے اور ایک بے قصور انسان کے قتل کو ساری انسانیت کا قتل بتایا ہے۔ یہ سوال جواب طلب ہے اور اس کا جواب طالبان کو دینا چاہیے کہ کیا وہ واقعی شرعی قوانین کے تحت حکومت کر رہے ہیں؟ اگر واقعی ایسا ہے تو پھر ان کی حکومت میں خواتین محفوظ کیوں نہیں ہیں، پڑھنے لکھنے میں انہیں دشواریاں کیوں پیش آ رہی ہیں؟
[email protected]