مدارس اسلامیہ کی خدمت میں!

0

عمیر انس

سبھی مدارس میں ان کی فقہ کی کتابوں میں کتاب البیوع کے عنوان سے آداب اور احکام تجارت پڑھائے جاتے ہیں لیکن کوئی طالب علم فراغت کے بعد بمشکل ہی موجودہ تجارت کو سمجھنے اور سمجھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔سبھی مدارس میں اعلیٰ درجے کا عربی ادب پڑھایا جاتا ہے لیکن پورے ہندوستان میں عربی صحافت کرنے والوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔یہاں تک کہ بیشتر فارغین مدارس ڈھنگ سے عربی زبان بولنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے۔ اسلامی احکام، تفسیر، احادیث اور اسلامی علوم کی تاریخ کی اہم کتابیں مدارس کے نصاب میں شامل ہیں لیکن گزشتہ پچیس سالوں میں اسلامی علوم کی تحقیق پر جتنی مشہور اور معروف کتابیں شائع ہوئی ہیں بیشتر غیر مسلم یا جدید تعلیم یافتہ مسلمان اسکالرز کی تصنیف شدہ ہیں۔ آج کل درجہ پنجم کے دس سال کے بچے بہترین انگریزی بولتے ہیں لیکن پانچ سال تک محض قرآن پاک حفظ کرنے والے اسی قرآن پاک کے ایک لفظ کا ترجمہ نہیں کر سکتے اور اس بات پر مدارس کو کوئی غم ہے نہ ملال۔ مدارس سے جو اساتذہ یونیورسٹیوں میں اسلامی اسٹڈیز یا عربی اردو پڑھانے کے لیے منتخب ہوتے ہیں، وہ بھی اپنی تعیناتی کے بعد پڑھنا لکھنا بند کردیتے ہیں اور ان کے شعبے بالکل ویسے ہی نظر آتے ہیں جیسے ان کے مدرسے تھے، تملق خوشامد پسندی کا ماحول، سکھانے اور سیکھنے سے زیادہ مرید اور مرشد کا رشتہ بنانے پر توجہ ہوتی ہے۔ سوال اور تنقید سے وہ بالکل ویسے ہی بیزار ہوتے ہیں جیسے مدارس اسلامیہ میں ہوتے ہیں۔اور اگر آپ یہ پوچھیں کہ گزشتہ پچیس سالوں میں کون سے نئے محدثین اور مفسرین اور ماہرین فقہ پیدا ہوئے ہیں تو آپ کو بڑی مایوسی ہوگی۔ جن زمانوں میں مدارس فقر اور تنگ دستی میں تھے تو نیک درمیان علامہ انور شاہ کشمیری جیسے نابغہ روزگار پیدا ہوئے جن کی تحقیقات عالم عرب کی جماعت میں شامل درس ہوئیں اور جب مدارس کا روشن دور آیا تو بجائے بہتر ہونے کے محدثین اور مفسرین کی تعداد گھٹنے لگی۔
یہ گفتگو اس لیے تاکہ ہم یہ سمجھ سکیں کہ مدارس میں اصلاح کا اصل مقصد اور طریقہ کیا ہے۔ مدارس میں سائنس، ریاضیات اور کمپیوٹر کی تعلیم سے جدید کاری کا صرف ایک پہلو ہے۔ میرا تو بنیادی سوال ابھی یہ ہے کہ کیا مدارس خود ان موضوعات اور مضامین میں مہارت اور لیاقت دینے میں کامیاب ہیں جن مضامین کو حرز جاں رکھتے ہیں؟ میرا خیال ہے کہ مدارس اسلامیہ دین اسلام کی ابتدائی اور تعارفی سطح کی تعلیم کا ذریعہ محض رہ گئے ہیں، ان سے یہ امید کرنا کہ وہ عصر حاضر کے تقاضوں اور معیاروں والے اسکالرز اور محققین تیار کریں یہ توقع غیر حقیقی ہے۔
مدارس میں تعلیم کے علاوہ دوسرا کام تربیت کا ہے یعنی مدارس کے فارغین بلند اخلاقی اقدار کا عملی مظاہرہ کریں اور اسلامی اقدار کا نمونہ پیش کریں۔اس معاملے میں بھی مدارس اپنے آپ سے دعویٰ تو کرسکتے ہیں کہ وہ تربیت دینے میں کامیاب ہیں لیکن مدارس کے باہر جن جگہوں پر ان کے اخلاق اور اقدار کا امتحان ہوتا ہے، وہاں ان کے مظاہرے کا کوئی غیر جانب دارانہ تجزیہ موجود نہیں ہے۔ یہ بات تو بہر حال قابل ستائش ہے کہ اخلاقی زوال کے اس دور میں فارغین مدارس باقی تمام نوجوانوں میں زیادہ محفوظ بھی ہیں اور زیادہ محتاط بھی ہیں۔لیکن یہ دفاعی تربیت ہے۔ فارغین مدارس کو خود کو محفوظ رکھنے کے لیے نہیں بلکہ خود کو زیادہ بہتر انسان بنانے اور زیادہ سیکھنے کے لائق بھی بنانا ہوتا ہے۔ اس معاملے میں مثلاً فارغین مدارس کا نئی صلاحیتوں کو سیکھنے میں، نئی زبانیں سیکھنے میں، تکنیکی چیزیں سیکھنے میں، زندگی کی جد وجہد میں کام آنے والی نئی مہارتوں کو سیکھنے میں ان کا رجحان باقی طلبا کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ یہاں تک کہ تحریر اور تقریر کے میدان میں بھی فارغین مدارس کی بنیادی تربیت کم پڑھے لکھے عوام کے لیے خطبات سے آگے کی نہیں ہے، غالباً مدارس کو اس بات کا احساس ہی نہیں ہے کہ اب ہندوستان میں عمومی تعلیم بہت بہتر ہے اور عوامی میڈیا پہلے سے کہیں طاقتور ہے اور اس لیے عوامی ذہن زیادہ مشکل سوالات اور زیادہ پیچیدہ مسائل میں اُلجھا ہوا ہے اور ان مسائل میں تحریری اور تقریری صلاحیتوں کا معیار مناظرہ والی تقاریر سے زیادہ بہتر ہونا چاہیے۔ تربیت کا دوسرا پہلو جذبات اور مزاج کا ہے۔ فارغین مدارس میں ایک عام برائی یہ ہے کہ وہ اپنے مخاطب کے ساتھ احترام سے پیش آنے اور خاص طور پر جو لوگ مدارس کے پس منظر سے نہیں ہیں، ان کے ساتھ احترام سے پیش نہیں آتے۔غیر مدارس کے اسکالرز اور ماہرین سے سیکھنے اور سمجھنے میں اب کو غیر معمولی تکلف ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر علی گڑھ، جامعہ اور جے این یو میں مدارس کے بہت طلبا ہیں لیکن بیشتر آپس میں ہی اور اپنے عربی اردو کے شعبوں کے ساتھیوں اور اساتذہ کے درمیان ہی رہتے ہیں۔ ایک یونیورسٹی میں ہر شعبہ کے ماہرین ہوتے ہیں اور وہاں سیکھنے کا خوب موقع ہوتا ہے لیکن مدارس کے فارغین یونیورسٹی کے ماحول اور اس کے مواقع سے استفادہ کرنے میں بڑی حد تک پیچھے ہیں۔لیکن جن طلبا نے دلچسپی دکھائی، انہیں غیرمعمولی فائدہ ہوا ہے۔ وہاں رہنے کی وجہ سے جدید مسائل کا فہم زیادہ آسان ہوتا ہے لیکن ان میں ان مسائل پر ہونے والے مباحث میں شرکت کرنے کی دلچسپی نہیں دکھائی دیتی، کتنے اہم اہم سمینار اور ڈسکشن ہوتے ہیں لیکن مدارس سے آنے والے طلبا ان میں شریک نہیں ہوتے۔کتنے تحریری مواقع آتے ہیں، وہاں وہ حصہ نہیں لیتے۔فوٹوگرافی، ڈرامہ، میوزک وغیرہ کے بہت سے مواقع ہوتے ہیں لیکن ان مواقع میں ان کی دلچسپی نہیں ہوتی۔ مدارس کے طلبا کا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ ان کے پاس صلاحیت نہیں ہے، ان کا مسئلہ یہ ہے کہ ان میں صلاحیتوں کو سیکھنے کی شدید خواہش نہیں پائی جاتی اور یہ بات مدارس کے لیے سب سے بڑی تشویش کا سبب اور مدارس میں اصلاح کا بنیادی موضوع ہونا چاہیے۔ اس میں مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ ہماری تربیت ایسی ہے کہ ہم ایسے لوگوں کو تیار کر رہے ہیں جو خود پسندی کے مرض کا شکار ہوتے ہیں۔ اپنے علاوہ دوسروں کو کمتر دیکھنے کا شدید جذبہ ان کے اندر کیسی تربیت کا نتیجہ ہے، یہ سمجھنا بہت مشکل ہے۔ سیکھنے کے جذبے سے خالی ہونا یہ عجیب بات ہے۔ یہ ساری باتیں تربیتی نظام کا حصہ ہیں اور اسی لیے میرا خیال ہے کہ مدارس کا تربیتی نظام فوری اصلاح کا محتاج ہے۔ اسی لیے اس مضمون کا مقصد بحث کرنا نہیں ہے کہ کون سے نئے موضوعات شامل نصاب ہوں یا نہ ہوں بلکہ یہ ہے کہ جو نصاب ہے، اسی میں آپ کتنا کامیاب ہیں۔
اگر کوئی اصلاحی مشورہ غور میں لایا جا سکتا ہے تو وہ ترکی کا اسلامی تعلیم کا نیا ماڈل ہے۔ انہوں نے جس خوبصورتی کے ساتھ اسلامی نصاب کو یونیورسٹی اور اسکولوں کا حصہ بنا دیا ہے، وہ کسی انقلاب سے کم نہیں ہے۔ اس تبدیلی کے بعد روایتی مدارس کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔ مثلاً وہاں کے اسکولوں میں دینیات کی کتابیں دیکھیں، شاندار پیشکش ہے اور آسان ترین طریقوں سے پیش کیا گیا ہے۔ ہندوستان کے مسلمان اسکولوں میں دینیات کی جو کتابیں رائج ہیں، انہیں دیکھ کر لگتا ہے کہ ابھی ہندوستانی مسلمان اکیسویں صدی میں داخل ہی نہیں ہوئے ہیں۔ طلبا کے ساتھ یہ ناانصافی ختم ہونی چاہیے۔ تمام اسلامی کتابوں کو کیاازسرنو بہتر ڈیزائن نہیں کیا جا سکتا۔ جو پیسہ مدارس اپنے ناظمین کی بلا تحقیق کتابوں کو شائع کرنے میں لگاتے ہیں، وہ سرمایہ وہ اپنے نصاب کو آسان اور خوبصورت بنانے میں لگاتے تو زیادہ بہتر تھا۔ اس بات میں مدارس کو کیا پریشانی ہے کہ وہ اپنے موجودہ نصاب میں شامل تمام اصطلاحات کو انگریزی میں یا ہندی میں یا علاقائی زبانوں بھی شائع کریں تاکہ طلبا انہیں مدارس کے باہر جانے پر آسانی سے سمجھ سکیں۔ میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ جن علماء نے موجودہ کتابوں کو اپنے زمانے کے سب سے شاندار ڈیزائن میں پیش کرنے کی کوشش کی تھی، آج وہ اپنی کتابوں کو دیکھ کر ہماری بیوقوفی اور پسماندگی پر ہنس رہے ہوتے۔این سی ای آر ٹی کی کتابیں دیکھیں، کیا اسلامی کتابوں کو اس طرح کی پیش کش میں شائع کرنا مناسب نہیں ہوگا؟ کلاس رومز کو جدید تقاضوں کے مطابق بنانا کیا مناسب نہیں ہوگا؟ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ حفظ قرآن بغیر عربی زبان کی تعلیم سے سوائے استثنائی حالات کے کیسے جائز ہے؟ بغیر عربی زبان سکھائے حفظ قرآن کے مدارس صرف انہی شرطوں پر جائز ہیں جہاں عربی زبان کی تعلیم دینا ممکن نہیں ہے لیکن جن اداروں میں عربی زبان کے ماہرین موجود ہیں اور وہاں حفظ قرآن کی تکمیل بغیر عربی زبان کی کم از کم بنیادی تعلیم جس وہ تلاوت کا مفہوم سمجھ سکیں، شرط ہے۔ اسی طرح سے صرف مکمل حفظ قرآن کے انتظام کرنا بھی ضروریات کے خلاف ہے۔ ہونا یہ چاہیے معاشرے میں جو جتنا حفظ کرنا چاہتا ہو، اتنے قرآن کے حفظ کا انتظام ہونا چاہیے۔ پندرہ، دس اور پانچ پاروں کے حفظ کرنے کی خواہش رکھنے والے ہزاروں ہیں لیکن ان کے لیے کوئی انتظام نہیں۔ بالکل اسی طرح یہ بات بھی نا قابل فہم ہے کہ مدارس صرف عالمیت اور فضیلت کے کورسز فراہم کریں، انہیں موجودہ حالات کے مطابق چھ مہینے سے لے کر دو سال تک کے مختصر کورسز کا بھی آغاز کرنا چاہیے۔ آپ عالم اور فاضل کے لیے اپنا طویل کورس ضرور جاری رکھیں لیکن بیس کروڑ کی آبادی میں ہزاروں ایسے جدید تعلیم یافتہ نوجوان ہیں جو ایک مختصر مدت دین سیکھنے کے لیے وقف کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کے لیے کوئی انتظام نہیں۔ اسی طرح ان کے لیے انگلش میڈیم مدارس کھولنا وقت کی بڑی ضرورت ہے، سبھی مغربی ممالک میں انگلش میڈیم مدارس کھولے جا چکے ہیں کوئی وجہ نہیں کہ ہندوستان میں بھی انگلش میڈیم عالمیت اور فضیلت اور افتا کی تعلیم کا آغاز ہو۔جیسا کہ عرض کیا گیا اس مضمون میں مدارس کے موجودہ نصاب کے دائرے میں رہتے ہوئے اصلاح اور بہتری کی تجاویز پیش کی گئی ہیں جو ارباب مدارس کے پیش خدمت ہیں!
(مضمون نگار سینٹر فار اسٹڈیز آف پلورل سوسائٹیز، تھنک ٹینک کے ڈائریکٹر ہیں۔)
[email protected]