کیا واقعی جانوروں کی قربانی خلاف رحم ہے۔

0

 

عید الاضحی کی آمد ہے، جسکے آتے ہی لاکھوں کروڑوں مسلمان اللہ کے حکم سے جانوروں کو اللہ کے راستے میں قربان کرتے ہیں۔

جس پر کچھ کم عقل لوگ اعتراض کے بوچھار کرتے ہیں، طرح طرح کے الزامات کے منہ دکھاتے ہیں، اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی ایک الگ اسکیم بناتے ہیں۔

انہیں ظالم و جابر قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ملا مسلم اتنے ظالم ہوتے ہیں کہ ایک بے زبان جانور کو لٹاکر، اسکی گردن پر چھری چلاکر اسکی زندگی برباد کردیتے ہیں، بعض کج فہمی کے متوالے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ ملا مسلم بڑے ہی ظالم ہوتے ہیں، رحم و کرم کے دشمن ہوتے ہیں، رحم کا عنصر دور دور تک انکے اندر نہیں پایا جاتا ہے، وہ اس لئے کہ عید الاضحی کے آتے ہی لاکھوں کروڑوں مسلمان رحم کی چادر اتار کر نہ جانے کتنے بے زبان جانوروں کی ہتھیا کر بیٹھتے ہیں۔

 

قارئین! آئین ذرا غور کریں اور دیکھیں کہ کیا واقعی جانوروں کی قربانی رحم کے خلاف ہے، کیا واقعی جانوروں کی قربانی ظالم شخص کے مترادف ہے، کیا واقعی جانوروں کی قربانی رحم کے چادر کو تار تار کرتی ہے؟

 

معزز قارئین ! اللہ نے اس کائنات میں بے شمار لوگوں کو پیدا کیا، بے شمار نسلوں کو پیدا کیا ، اس کائنات میں نہ جانے کتنی قومیں آئیں اور چلی گئیں، اور فی الحال نہ جانے کتنی قومیں آباد ہیں، اسکے علاوہ ٩٩ فیصد قومیں اللہ اور اشور ہی پر بھروسہ کرتی ہیں، انکا خیال ہے کہ اس کائنات کو کسی ایک شخص نے پیدا کیا ہے جو واحد ہے، جو رحمن و رحیم ہے، جو عفوا و غفور ہے۔

اور خدا تعالیٰ کو ماننے والی ہر قوم، خواہ وہ کوئی بھی ہو، اس بات کی ہرگز قائل نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ ظالم ہے بلکہ خدا تعالیٰ کو رحمٰن و رحیم مانتی ہے۔

تو جو خدا رحمن و رحیم ہے وہی خدا اشرف المخلوقات کو جانور ذبح کرنے کا حکم دے رہا ہے، تو اسکا یہ حکم کیونکر رحم کے خلاف ہو سکتا ہے؟

یہ جواب تو ان قوموں کو اچھے سے سمجھ میں آسکتا ہے جو واحد اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور اسی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔

مگر وہ قومیں جو شرک کے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں، شرک جنکا اوڑھنا بچھونا ہے انکو کیسے مطمئن کیا جائے؟ تو آئیے ذرا اس پر بحث کرتے ہیں۔

 

اشرف(اعلیٰ) کے لیے اخس (ادنیٰ)کا قتل جائز ہے،

 

کیا تم نہیں دیکھتے کہ ہوا میں باز، شکرے، گدھ، طرح طرح کے جانور موجود ہیں جنکی خوراک اللہ نے غریب پرندوں ہی کو بنایا ہے , وہ صرف غریب جانوروں کا گوشت ہی کھاتے ہیں، گھاس اور عمدہ سے عمدہ میوے اور اس قسم کی کوئی چیز نہیں کھاتے، پھر پانی کی طرف خیال کرو کہ اس میں کس قدر خوں خوار جانور موجود ہیں؛ گڑیال اور بڑی بڑی مچھلیاں ہیں، ان سب کا لقمہ اللہ نے چھوٹے چھوٹے آبی جانوروں کو بنایا ہے، یہ بڑی مچھلیاں چھوٹی مچھلیوں کو ہی کھاتی ہیں بلکہ بعض مچھلیاں قطبِ شمالی سے قطبِ جنوبی تک شکار کے لیے جاتی ہیں۔

 

پھر ایک اور قدرتی نظارہ سطحِ زمین پر دیکھو کہ چیونٹی کھانے والا جانور کیسے زبان نکالے پڑا رہتا ہے، جب بہت سی چیونٹیاں اس کی زبان کی شیرینی کی وجہ سے اس کی زبان پر چڑھ جاتی ہیں تو جھٹ زبان کھینچ کر سب کو نگل جاتا ہے۔ مکڑی مکھیوں کا شکار کرتی ہے، بندروں کو چیتا مار کر کھاتا ہے، بھیڑیے تیندوے کی غذا جو مقرّر ہے، وہ سب کو معلوم ہے، بلّی کس طرح چوہوں کو پکڑ کر ہلاک کرتی ہے سب کو معلوم ہے ۔ جنگل میں شیر جو باقی جانوروں سے اعلی اور اشرف ہے اسکا خوراک اللہ نے اخنس اور ادنیٰ جانوروں ہی کو بنایا ہے، جنگل کا شیر اپنے سے ادنیٰ اور اخنس جانوروں کا ہی شکار کرتا ہے۔

 

اب بتلاؤ کہ اس نظارۂ عالم کو دیکھ کر کوئی کہہ سکتا ہے یہ قانونِ ذبح جو عام طور پر جاری ہے یہ کسی ظلم کی بنا پر ہے۔

ہر گز نہیں، پھر انسان پر (جوکہ اشرف اور اعلیٰ ہے) حیوان (جوکہ ادنیٰ ہے) کے ذبح کرنے کے ظلم کا الزام کیا مطلب رکھتا ہے؟

انسان کے جوئیں پڑ جاتی ہیں یا کیڑے پڑ جاتے ہیں، کیسے بے باکی سے ان کی ہلاکت کی کوشش کی جاتی ہے، کیا اس کا نام بھی ظلم رکھا جاتا ہے؟جب اسے ظلم نہیں کہتے تو ذبح پر اعتراض کیوں کر ہوسکتا ہے؟

 

معلوم ہوا کہ ہر أشرف چیز کے لئے اخنس کا قتل درست ہے۔

پھر کوئی معترض اعتراض کرسکتا ہے کہ ذبح انسان بھی جائز ہو سکتا ہے؟

کیونکہ انسانوں میں اعلیٰ اور ادنیٰ کا فرق ہے، کوئی مالدار ہے تو کوئی غریب ہے، کوئی بڑی ذات کا ہے تو کوئی چھوٹی ذات کا، کوئی اقلیت میں ہے تو کوئی اکثریت میں، کوئی کالا ہے تو کوئی گورا ہے، کوئی عربی ہے تو کوئی عجمی ہے۔

 

تو بتاتا چلوں کہ جو قاعدہ اوپر بیان کیا گیا کہ ادنیٰ کو اعلیٰ پر قربان کیا جاسکتا ہے ، اس قاعدے کے مطابق انسان کا انسان کو ذبح کرنا جائز نہیں ہے۔ بلکہ صرف انسان کو اللہ کے لیے قربان کیا جا سکتا ہے کیوں باقی تمام تو مخلوق ہی ہیں اگرچہ کوئی غریب و امیر ہو ، اگرچہ کوئی عربی و عجمی ہو،‌کسی انسان کا دوسرے انسان کا ذبح کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ انسان کو خدا نے تمام مخلوقات میں افضل و اشرف بنایا ہے، اسی لیے اگر انسان کی قربانی ہوگی تو صرف اللہ کے لیے ہوگی ، اور وہ عام حالت میں نہیں بلکہ مخصوص حالات میں ہوگی جیسے اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے. دین و اسلام کے لئے، تحفظ دین کے لیے، وغیرہ۔

 

نیز انسان کے ساتھ اوروں کے بھی حقوق ہیں، کسی کی پرورش ہے، کسی کا کچھ کسی کا کچھ۔

اگر انسان کو انسان کے لیے ذبح کرنے کا حکم دیں تو مشکلات کا ایک بڑا سلسلہ پیدا ہو جاے گا ۔

الغرض! انسان کا قتل اس لیے تجویز نہیں ہوا کہ انسان کے ساتھ بہت سے حقوق ہوتے ہیں، ان کا ضائع ہونا زیادہ دُکھوں کا موجب ہے۔

 

بہر کیف معلوم ہوا کہ اشرف یعنی اعلیٰ کے لئے اخنس یعنی ادنی کو قربان کیا جاسکتا ہے۔

 

رہی بات جانوروں کی تو ہم پوچھتے ہیں کہ تمھارے نزدیک حق تعالیٰ بھی رحیم ہیں یا نہیں؟ یقیناً ہیں، پھر بتلائیے کہ حق تعالیٰ بھی جانوروں کو مارتے ہیں، تو مسلمان ہی کیوں بے رحم ہیں؟ وہ تو وہی کام کرتے ہیں، جو حق تعالیٰ کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ مالک ہیں، چاہے وہ خود بلا واسطہ مار دیں یا اپنے نوکر، غلام کے ہاتھ مار دیں۔

پھر یہ اعتراض ہوگا کہ اس کی کیا دلیل ہے کہ مسلمان خدا کے حکم سے ہی مارتے ہیں، تو اس کا ثبوت ہم ہر وقت دینے کے لیے تیار ہیں۔ ہم د لائل سے قرآن کا کلام اللہ ہونا اور رسول اللہ کا برحق ہونا ہر وقت ثابت کر سکتے ہیں اور قرآن و حدیث میں حکمِ ذبح موجود ہے تو مسلمان یقیناً حکم الٰہی سے ذبح کرتے ہیں۔

 

دوسری بات یہ ہے کہ ذبح کرنے والے کو بے رحم کہنا فلسفے کے قاعدے سے بھی بالکل غلط ہے بلکہ قاعدۂ فلسفے کا مقتضا یہ ہے کہ جو لوگ ذبح نہیں کرتے وہ زیادہ بے رحم ہوتے ہیں کیوں کہ اطبّا و فلاسفہ کا اس پر اتفاق ہے کہ جس قوّت سے کام نہ لیا جائے وہ رفتہ رفتہ زائل ہو جاتی ہے، جیسے ترکِ جماع عِنّت کا سبب ہو جاتا ہے، اسی طرح انسان میں ایک صفت کڑھنے کی ہے، اگر اس کا کوئی سبب واقع نہ ہو تو یہ صفت زائل ہو جائے گی۔ جو لوگ ذبح نہیں کرتے، ان کی یہ صفت معطل رہتی ہے اور مسلمانوں کی یہ صفت ذبح کے وقت حرکت میں آتی ہے تو یہ باقی رہتی ہے اور بڑھتی رہتی ہے۔

اسی لیے حق تعالیٰ انسان پر مصائب نازل کرتے ہیں تاکہ اہلِ مصیبت پر رحم و شفقت بڑھے اور جس میں یہ صفت نہ ہو اس میں پیدا ہو جائے کیوں کہ جس شخص پر نزولِ مصائب نہ ہو، وہ سنگ دل ہو جاتا ہے۔ (اغلاط العوام)

 

✒️:امام علی مقصود فلاحی۔

متعلم: جرنلزم اینڈ ماس کمیونیکیشن۔

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
1
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here