کیا بشار الاسد کے تئیں ترکی کے موقف میں تبدیلی پیدا ہو رہی ہے؟

0

ڈاکٹر محمد ضیاء اللّٰہ

کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسیوں میں اچانک سے کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوتی ہے۔ عام طور پر اس کی سمت اور جہت طے شدہ مقاصد کے مطابق برقرار رکھی جاتی ہے اور حکومتوں کے بدلنے سے بھی کوئی بڑی تبدیلی اس میں پیدا نہیں کی جاتی ہے۔ لیکن اگر کسی بڑے بدلاؤ کا اشارہ کسی ملک کی خارجہ پالیسی میں مل جاتا ہے تو ماہرین اس کے تمام تر محرکات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ مستقبل میں اس خاص ملک کی پالیسیوں کی سمت اور اس کے مثبت و منفی نتائج کو سمجھنے میں مدد مل سکے۔ 11 اگست کو ترکی کے وزیر خارجہ چاویش اوگلو نے ایک صحافی کے سوال کا جو جواب دیا تھا اس پر ایک طوفان کھڑا ہوگیا اور ہر طرف اس پر الگ الگ ناحیہ سے گفتگو ہونے لگی۔ یہ بیان اس اعتبار سے بہت اہم تھا کہ اس سے دو باتیں طے ہونے کا اشارہ مل رہا تھا: ایک تو بشار الاسد کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا اور ان کے ساتھ ترکی کے تعلقات کی نوعیت کیا ہوگی۔ دوسرے شام کے مسئلہ کے حل پر ترکی کے موقف کی جہت کیا ہوگی؟ در اصل صحافیوں نے چاویش اوگلو سے پوچھا تھا کہ کیا اس بات کا امکان ہے کہ ترکی کے صدر طیب اردگان شام کے صدر بشار الاسد کے ساتھ فون پر بات چیت کریں گے؟ اوگلو نے گرچہ اس بات سے صاف انکار کیا کہ طیب اردگان شام کے صدر بشار الاسد کے ساتھ فون پر کوئی گفتگو کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ لیکن انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ طیب اردگان نے گزشتہ سال اکتوبر میں عدم موالات تحریک کی چوٹی کانفرنس کے دوران سرسری طور پر شام کے وزیر خارجہ فیصل مقداد سے بات کی تھی۔ اس بیان نے اٹکلوں کا ایسا دروازہ کھول دیا کہ اب بند ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے۔ اس بیان کی وجہ سے یہ قیاس آرائیاں بھی ہونے لگیں کہ اس کا مطلب ترکی اور بشار الاسد کے درمیان ڈپلومیٹک چینل کھلا ہوا ہے اور آئندہ ترکی کے صدر طیب اردگان اور شام کے صدر بشار الاسد کے درمیان بھی ملاقات اور گفتگو کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔ حالانکہ چاویش اوگلو نے بڑی کوشش کی اور اس بات پر زور دے کر کہا کہ فیصل مقداد کے ساتھ ہوئی معمولی بات چیت پالیسی کی سطح پر کوئی اہمیت نہیں رکھتی ہے کیونکہ وہ بہت مختصر اور سرسری تھی اور اردگان کے ایجنڈہ میں پہلے سے شامل بھی نہیں تھی بلکہ کھانے کی میز پر جب دوسرے لیڈران سے گفتگو ہورہی تھی تو مقداد بھی وہیں تھے اور ترکی و شام کے درمیان کوئی سفارتی چینل کھلا ہوا نہیں ہے اور نہ ہی آئندہ طیب اردگان اور اسد کے درمیان بات چیت کا کوئی امکان ہے۔ اتنی صفائی کے باوجود اوگلو کے بیان پر اٹھا طوفان نہیں رْکا اور خاص طور سے اہل شام کے درمیان بڑی بحث کا مدعا بن گیا۔ چونکہ بشار الاسد نے شامیوں کے حق میں جس بربریت اور وحشیانہ پن کا مظاہرہ کیا ہے اور جس بے رحمی سے شام کے معصوم عوام جن میں بچے، عورتیں اور مرد سبھی شامل ہیں کا قتل کیا ہے اس کی وجہ سے شامیوں کا غصہ بالکل حق بجانب ہے اور مستقبل میں انہیں کوئی رول دیا جائے اس پر شدید ناراضگی کا اظہار قابل فہم معاملہ ہے۔ اوگلو کے بیان پر طویل بحث کی ایک وجہ یہ بھی رہی کہ انہوں نے مزید اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ اسد نظام اور وہاں کی اپوزیشن کی جماعت کے درمیان ’مصالحت‘ کروانے کے لئے ترکی کو کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اسی صورت میں شام متحد ملک باقی رہ سکتا ہے اور عدم استحکام کی صورت کا خاتمہ ممکن ہو پائے گا۔ ظاہر ہے کہ اس بیان سے بادی النظر میں اسی بات کا اشارہ مل رہا ہے کہ ترکی اور بشار کے درمیان تعلقات کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔ اس بیان سے اہل شام نے یہ مفہوم اس لئے بھی نکالا تھا کیونکہ اس سے چند دن قبل ہی سوچی میں روس کے صدر ولادیمیر پوتین سے صدر طیب اردگان کی ملاقات ہوئی تھی اور اردگان نے کہا بھی کہا تھا کہ پوتین نے دوبارہ ان پر زور دیا تھا کہ دمشق کے ساتھ سیاسی تعلقات قائم کریں اور چونکہ بشار الاسد کو پوتین کی زبردست حمایت حاصل ہے اس لئے اس پس منظر میں اوگلو کے بیان کا وہی مطلب نکل سکتا تھا جو شامیوں نے نکالا اور شام کے شمالی حصہ میں اس پر بڑا احتجاج درج کیا گیا جس کے بعد ترکی کو ایک وضاحتی بیان دینے کی ضرورت پڑی کہ شام کے تعلق سے اس کے موقف میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوئی ہے اور ترکی قیادت آج بھی شامی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتی ہے اور وہاں سیاسی حل کی خواہاں ہے اور شامی عوام کے مطالبوں کا احترام کرتی ہے۔ ساتھ ہی اب تک سیاسی حل کی ناکامی کے لئے بشار الاسد کو ذمہ دار قرار دیا۔ ترکی نے اس بیان کے ذریعہ گرچہ شامی عوام کے غصہ کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ایک کڑوا سچ یہ بھی ہے کہ اس امکان کو خارج نہیں کیا جا سکتا کہ مستقبل میں ایسا ہو بھی سکتا ہے کہ بشار کے ساتھ ترکی اپنے سیاسی تعلقات کو بحال کرلے۔ کیونکہ جس عرب بہاریہ کی کوکھ سے شام میں بشار کی پالیسیوں کے عوامی غصہ کا سیلاب امڈا تھا اب وہ عرب بہاریہ خود دم توڑ چکا ہے بلکہ صحیح الفاظ میں یہ کہا جائے کہ اس کو ناکام بنانے میں مشرق وسطی کے تمام ممالک نے اپنا رول ادا کیا ہے اور اب یہ کوشش ہو رہی ہے کہ عرب بہاریہ سے قبل والے عہد کی طرف واپسی ہو جائے۔ ایسے میں ترکی کے موقف میں بھی اگر تبدیلی پیدا ہوتی ہے تو کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ شام کے اندر ترکی کے وہ کیا مفادات ہیں جن کی حفاظت اسے مطلوب ہے؟ اس اعتبار سے ترکی کیلئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ کرد جماعت پی کے کے کو کوئی سیاسی وجود وہاں حاصل نہ ہو کیونکہ ترکی کے نزدیک وہ ایک دہشت گرد جماعت ہے اور ترکی کی سیکورٹی کیلئے خطرہ ہے۔
دوسرا بڑا مسئلہ ترکی کے لئے یہ ہے کہ ان دس لاکھ شامی باشندوں کو واپس شام میں کیسے واپس بسائیں جو کئی برسوں سے ترکی میں پناہ گزیں ہیں۔ اگلے برس ترکی میں جو انتخابات عمل میں آنے والے ہیں اس میں یہ معاملہ بڑی اہمیت رکھتا ہے اور صدر اردگان ہر قیمت پر اس کو حل کرنا چاہتے ہیں اور اسی لئے مصالحت کی بات بھی سامنے آئی ہے۔ چونکہ ترکی اور دمشق کے درمیان انٹلیجنس کا چینل پہلے سے ہی کھلا ہوا ہے جس کا اعتراف خود اردگان کر چکے ہیں تو پھر سفارتی اور سیاسی چینل کھولنے میں کیا قباحت ہے؟ اسی بات کا مشورہ پوتین بار بار اردگان کو دے رہے ہیں اور ان سے کہہ رہے ہیں کہ ترکی کے حق میں یہی ہوگا کہ وہ بشار کے ساتھ سیاسی تعلقات بحال کرلیں تاکہ ترکی کے قومی سلامتی کے مفادات کا تحفظ ہوسکے جیسا کہ سوچی سے لوٹ کر اردگان نے پوتین سے ہوئی بات چیت کے حوالہ سے اس بار بھی اس پہلو کا ذکر کیا تھا۔ ویسے بھی یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے جب اردگان اپنے ملک کی داخلی سیاست، بدلتے زمینی حقائق اور بین الاقوامی منظرنامہ میں بدلاؤ کے تحت شام کے مسئلہ پر اپنے موقف میں تبدیلی کا اشارہ دے رہے ہوں۔ سب سے پہلے ان کا موقف تھا کہ انقلابی جماعتوں کے مطالبہ کے مطابق اصلاح پیدا کی جائے۔ پھر یہ اعلان کیا کہ بشار الاسد کو جانا ہوگا تبھی کوئی سیاسی حل قابل قبول ہوسکتا ہے اور اب مصالحت کا اشارہ۔ مصالحت کا یہ اشارہ بے وجہ نہیں ہے۔ ترکی کی اپوزیشن پارٹیاں، دانشوران اور خود اردگان کی پارٹی سے وابستہ مفکرین و صحافی بھی یہ رائے رکھتے ہیں کہ ترکی کے مفاد کا تقاضہ یہ ہے کہ بشار الاسد کے ساتھ مصالحت کی جائے تاکہ کردوں کے چیلنج کو ختم کیا جا سکے اور شامی پناہ گزینوں کو ان کے ملک میں بھیجا جا سکے۔ ترکی کو بھی اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ امریکہ اس کے مفادات کا لحاظ شام میں نہیں کر رہا ہے اس لئے روس کے ساتھ مل کر ترکی اپنے اس مسئلہ کا حل نکالنے کی کوشش میں ہے۔ انہی دو مقاصد کا حل ڈھونڈنے کے لئے ترکی نے وائی پی جی کے خلاف شام کے شمالی حصہ میں فوجی کارروائی کا اعلان کیا تھا لیکن روس نے تعاون کرنے سے منع کر دیا اور وائی پی جی کو امریکہ کی حمایت مستقل حاصل ہے۔ ایسی صورت میں اردگان بھی یہ سمجھ رہے ہیں کہ اگر ترکی کے مفادات کا تحفظ ہو جاتا ہے اور آئندہ الیکشن میں فتح کا راستہ بھی ہموار ہونے کا امکان ہے تو شام کے مسئلہ کا سیاسی حل بشار الاسد کے ساتھ مصالحت سے ہی نکلتا ہے تو کیا حرج ہے؟ اب دیکھنا صرف یہ ہے کہ اردگان شامی عوام کے مفادات کے تحفظ کا راستہ کیسے نکال پاتے ہیں۔ ویسے اردگان کے دماغ میں اتنے سیاسی زاویے گردش کرتے رہتے ہیں کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ اس پیچیدہ مسئلہ کو بھی حل کر لے جائیں۔ یہ ان کی خارجہ پالیسی کا اب تک کا سب سے بڑا امتحان بھی ہوگا۔
مضمون نگار سینٹر فار انڈیا ویسٹ ایشیا ڈائیلاگ کے وزیٹنگ فیلو ہیں

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS