کانگریس اور سماجوادی پارٹی میں برف پگھل رہی ہے؟

0
Image: newindianexpress

اترپردیش میں ہم خیال سیکولر پارٹیوں کے قریب آنے کے آثار دکھائی دینے لگے ہیں اگرچہ سماجوادی پارٹی کا آر ایل ڈی ودیگر پارٹیوں کے ساتھ اتحاد ہے لیکن کانگریس اکیلے ہی تمام سیٹوں پر امیدواروں کا اعلان کرچکی ہے۔ آج کانگریس نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو اور چچا شیوپال یادو کے خلاف امیدوار کھڑا نہیں کرے گی۔ اس سے قبل کانگریس کے جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی اترپردیش میں انتخابی چلائے ہوئے ہیں نے اعلان کیا تھا کہ ان کی پارٹی الیکشن کے بعد سماجوادی پارٹی کے ساتھ مفاہمت کا خارج از امکان قرار نہیں دیتی۔ یہ بیان پرینکا گاندھی اور کانگریس پارٹی کے موقف میں بڑی تبدیلی کی طرف اشارہ کررہا ہے۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ چند ماہ قبل پرینکا گاندھی اور اکھلیش یادو کے درمیان ایک فلائٹ میں اس بات کو لے کر تکرار ہوگئی تھی کہ کچھ لوگ کانگریس کو چھوڑ کر سماجوادی پارٹی میں چلے گئے تھے اس کے بعد سے دونوں لیڈروں کے درمیان بدگمانیاں پیدا ہوگئی تھی اور کانگریس نے اکیلے ہی ہندوستان کے سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ پچھلے انتخابات میں کانگریس اور سماجوادی پارٹی نے ایک ساتھ الیکشن لڑا تھا اور اس اتحاد کو نوجوانوں کا اتحاد قرار دیا گیا تھا۔ اکھلیش یادو کرہل سے الیکشن لڑرہے ہیں جو کہ یادو خاندان کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ اکھلیش یادو اور سونیا گاندھی کے خلاف رائے بریلی اور امیٹھی سے امیدوارکھڑا نہیں کرتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بی جے پی نے مرکزی وزیر مملکت ستپال سنگھ بگھیل کو اکھلیش یادو کے خلاف کھڑا کیا ہے وہ فی الحال آگرہ کے ایم پی ہیں۔ بگھیل نے گزشتہ روز اپنا پرچہ داخل کیا تھا۔ بگھیل اور ملائم سنگھ کے خاندان میں پرانی سیاسی رقابت ہے اور وہ فیروز آباد سے بھی الیکشن لڑچکے ہیں جہاں پر انہوں نے ڈمپل یادو کو ہرایا تھا۔ بگھیل پولیس افسر ہیں اور وہ ملائم سنگھ یادو کی سیکورٹی گھیرے کا حصہ تھے۔ 1992میں ملائم سنگھ یادو نے بگھیل کو ملائم سنگھ یوتھ بریگیڈ کا صدر بنایا تھا اور ملائم سنگھ ہی ان کو سیاست میں لے کر آئے تھے۔