آئی کیو، ای کیو

0

آئی کیو، ای کیو
ابن ِ وصی
کئی قارئین عنوان پڑھ کر یہ سوچ رہے ہوں گے کہ آئی کیو تو ہوتا ہے یہ ای کیو کیا ہے ؟کہیں غلط تو نہیں چھپ گیا تو اس کا جواب ہے کہ جی نہیں۔ یہ ای کیو ہی ہے۔ درحقیقت یہ ایک اصطلاح ہے جو جذباتی ذہانت Emotion Quotient یا Emotional Intelligence کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ یہ ایک مکمل علم بھی ہے۔ اپنے اور دوسروں کے جذبات کو بھانپنے اور اُنہیں کنٹرول کرنے کی صلاحیت کا نام ہے۔
ذہانت کے بارے میں ہم میں سے بہت سے لوگ آئن اسٹائن کو سوچنے والی مشین کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اکثر مفکرین ذہن کے ہارڈویئر (کھوپڑی) اور فہم و ادراک کے سوفٹ ویئر (دماغ) کو ذہانت کا منبع سمجھتے آئے ہیں۔ ذہانت کی پیمائش کے لئےآئی کیو کا تصور 1905ء میں الفرڈ بینٹ Alfred Binet نے دیا اور پہلی بار ذہنی عمر کا نظریہ پیش کیا۔ اس نظریے میں کہا گیا ہے کہ، انسان کی طبعی عمر کے علاوہ اس کا ذہن بھی عمر کی منازل طے کرتا ہے۔
انسان کی جسمانی ساخت سے قطع نظر ذہنی عمر کی رفتار ہر انسان میں دوسرے سے مختلف پائی جاتی ہے۔ الفرڈ نے مختلف عمروں کے لحاظ سے ایسے سوالات کی فہرستیں ترتیب دیں جن کے ذریعے کسی بھی فرد کی ذہانت کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا اور یہ عمل آئی کیوٹیسٹ کہلایا۔ اس نظرئیے کی بنا پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جو شخص جتنا زیادہ تعلیم یافتہ ہو، چیزوں پر زیادہ سے زیادہ توجہ کرنے والا ہو، اتنا ہی وہ کامیاب ہوگا۔ صرف انہی خوبیوں سے متصف انسان کو ذہین Intelligent کہا جاتا تھا۔
تجربات و مشاہدات نے ثابت کیا کہ آئی کیو کی بنیاد پر ذہانت کا نظریہ حقیقی دنیا میں درست ثابت نہیں ہوپارہا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوا کہ اگر واقعی ایسا ہے تو کیوں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے، نمایاں گریڈ اسکور کرنے والے اور اپنی توجہ کو چیزوں پر مرکوز کرنے والے عموماً ذہنی، جسمانی اور جذباتی مسائل کا شکار رہتے ہیں؟ کیوں کلاس کا سب سے ذہین بچہ بڑا ہوکرکامیاب آدمی نہیں بنتا.؟ اس کے برخلاف جن لوگوں کو عرفِ عام میں نالائق، کند ذہن کہا جاتا ہے، جن میں آئن اسٹائن سے لے کر مارک زکربرگ جیسے لوگ شامل ہیں، انہوں نے کیسے بڑے بڑے کارنامے انجام دے دیئے۔
عام طور پر کیوں موجد، مصور، اور تخلیق کار وہ لوگ ہوتے ہیں جو آئی کیو لیول پر پورے نہیں اترتے، اس میں کم اسکور کرنے والے افراد کیوں سماجی اور معاشی برتری حاصل کرلیتے ہیں، کیوں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کچھ لوگوں میں نیوٹرل ٹیلنٹ اچانک بیدار ہوجاتا ہے اور کچھ لوگوں میں اچانک بجھ جاتاہے؟ مختصراً یہ کہ ذہن و دماغ یا فہم و فراست کی وہ کون سی خوبیاں ہیں جو کامیابی کو ہمارا مقدر بناتی ہیں؟ماہرین نے ذہانت کی کچھ اور اقسام بھی دریافت کیں۔
مثلاً تجزیاتی Analytic، لسانیاتی linguistic، یا پھرجذباتی ذہانت۔ لیکن نفسیات دانوں اور علم الاعصاب کے ماہرین کا اس بات پر اختلاف رہا کہ آیا یہ ساری ذہانتیں آپس میں جڑی ہوئی ہیں یا پھر یہ ایک دوسرے سے مختلف وجود رکھتی ہیں۔ 1985میں رابرٹ سٹرن برگ Robert Sternberg نے ایک نظریہ پیش کیا جس میں یہ بحث کی گئی کہ ذہانت کی پرانی تعریفیں بہت تنگ نظر تھیں، کیونکہ وہ صرف انہی ذہانتوں پر انحصار کرکے ترتیب دی گئی تھیں جو کہ آئی کیوٹیسٹ سے ناپی جاسکیں۔ اس کے برعکس سٹرن برگ کا کہنا تھا کہ ذہانت کو بنیادی طور پر تین ذیلی اقسام میں بانٹا جاسکتا ہے تجزیاتی ذہانت، تخلیقی ذہانت اور عملی ذہانت۔
ڈاکٹر گارڈنر اپنے نظریے ملٹپل انٹیلی جنسز کے حوالے سے کہتے ہیں کہ جیسے جیسے تاریخ آگے بڑھتی ہے، جیسے جیسے ثقافتیں ترقی کرتی ہیں، ذہانتیں بھی اسی حساب سے تبدیل ہوتی ہیں۔ سو سال پہلے تک اگر آپ کو اعلی تعلیم کی ضرورت ہوتی تو آپ میں لسانیاتی ذہانت اہم کردار کی حامل تھی۔ ڈیڑھ سو سال پہلے داخلے کے امتحانات یونانی، لاطینی اور عبرانی زبانوں میں ہوا کرتے تھے آج کے دور میں ریاضیاتی اور جذباتی ذہانتیں معاشرے میں زیادہ اہم ہیں۔ ان کے نزدیک اگر آپ کو لوگوں کے ساتھ بہتر برتاؤ کرنا نہیں آتا تو آپ معاشرے میں کسی کام کے نہیں ہیں۔جذباتی ذہانت یا اموشنل کوشنٹ ای کیوکی اصطلاح یوں تو 1960 کی دہائی میں استعمال ہونا شروع ہوگئی تھی لیکن سب سے پہلے ماہرِ نفسیات پیٹر سیلووے Peter Salovey اور یونیورسٹی آف نیو ہمپشائر کے جون میر John Mayer نے 1989ء میں اپنے مضامین میں اس پر تفصیلی بحث کی۔ لیکنای کیو( (E.Q کا تصور دنیا بھر میں رائج کرنے کا کریڈٹ 1990ء کے وسط میں امریکی ماہر نفسیات اور نیویارک ٹائمز کے سابق رپورٹر، ڈینئل گولمین Daniel Goleman کو جاتا ہے۔
Emotional Intelligence نامی تصنیف کے ذریعے جذباتی ذہانت ای کیوکو متعارف کرایا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ کسی بھی ملازمت میں آپ کی اعلیٰ کارکردگی کے لئے آپ کی تکنیکی ہنر مندی یا ذہنی قابلیت کے مقابلے میں آپ کا ای کیودگنی اہمیت رکھتا ہے۔ ماہرین نفسیات اسے عام ذہانت کے بجائے جذبات و احساسات سے وابستہ قرار دیتے ہیں۔ ای کیو (EQ) کا تعلق انسان کی جذباتی صلاحیتوں سے ہوتا ہے۔ یعنی یہ درحقیقت آئی کیوکی ضد نہیں ہے۔ بہت سے لوگ ان دونوں سے مالامال ہوتے ہیں۔ بہت سے کسی ایک سے۔ آئی کیو میں ذہنی جبکہ ای کیومیں جذباتی صلاحیتوں کا دخل ہوتا ہے۔ ضروری نہیں کہ اپنے شعبے میں ماہر اور ذہین شخص جذباتی معاملات میں بھی ہمیشہ ذہین واقع ہوں۔ ڈینئیل گولڈمین نے انسانی محسوسات کو جذبات کے معنوں میں استعمال کرتے ہوئے اسے جذباتی ذہانت کا نام دیا ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ محسوسات انسانی فکر کی بنیاد بنتے ہیں۔ انسانی نفسیات کے ماہرین کے مطابق بہتر’ ای کیو‘موجودہ صدی میں کامیابی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اگر آپ اس مقام تک پہنچ گئے تو آپ عام انسان کے مقابلے میں معاشرے میں کہیں زیادہ کامیاب اور مقبول سمجھیں جائیں گے۔ آپ کے تعلقات کا دائرہ بھی وسیع ہوگا۔ll

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS