عالمی یوم حقوق اقلیت اور بھارت کے اقلیت: ڈاکٹر سیّد احمد قادری

0

ڈاکٹر سیّد احمد قادری

دنیا کے بیشتر ممالک میں اقلیتوں کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک عام بات ہے اور ان کے حقوق سلب کئے جانے کی بھی شکایت عام ہے ۔ اقلیتوں کے ایسے ہی عالمی مسئلہ کے تدارک کے لئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1992 سے ہر سال کے 18 ؍ دسمبر کو عالمی سطح پر یوم اقلیت کے انعقاد کا فیصلہ کیا تھا، جس کے تحت ہر ملک کی یہ ذمّہ داری طے کی گئی تھی کہ مختلف ممالک میں بسنے والے اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لئے کام کریںگے اور ان کے ساتھ مساوی سلوک کیا جائے گا، نیزان کے حقوق کے تحفظ کو فوقیت دیںگے ۔اقوام متحدہ نے ا س بات کی بھی وضاحت کی ہے کہ ہر ملک اپنے علاقوں کے اقلیتوں کے قومی ، نسلی ، ثقافتی ، مذہبی اور لسانی تشخص کا نہ صرف تحفظ کرے گی بلکہ ان کے تشخص کو برقرار رکھنے کے لئے تمام امکانات کوفروغ دے گی ۔ اقوام متحدہ کے اسی فیصلہ کے بعد بھارت میں اسی سال یعنی 1992 میں قومی اقلیتی کمیشن ایکٹ بنا ،جس کے شق 2 (ج ) کے تحت اور مرکزی حکومت نے اپنے گزٹ میں اس ایکٹ کو شامل کرتے ہوئے ملک کے 6 مذاہب کے ماننے والوںمسلم ، سکھ ، بدھسٹ ، کرشچن، جین اور پارسی کو ملک کا اقلیت تسلیم کرتے ہوئے ان کے اقلیتی حقوق کی محافظت اور مؤثر نفاذ کی سفارش حکومت ہند سے کئے جانے نیز اقلیتوں کی شکایتوں کے ازالہ کئے جانے کے ساتھ ہی ساتھ اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک کے خلاف اقدامات کئے جانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے ۔ میں یہ بات بھی واضح کر دوں کہ 1978 ء میں ہی ملک کی مرکزی حکومت نے ہندوستان میں اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لئے قومی اقلیتی کمیشن قائم کئے جانے کا تصور پیش کیا تھا، جسے اقوام متحدہ نے بہت بعد میں قبول کیا ۔ قومی اقلیتی کمیشن برائے اقلیت ایکٹ 1992 کے گزٹ میں جن6 مذاہب کے ماننے والوں کو اقلیت قرار دیا گیا تھا، ان کی آبادی کا تناسب 2011 ء کی مردم شماری کے مطابق بھارت کی کُل آبادی 121 کروڑ مانا گیا ہے ۔ان میں ہندوؤں کی 79.8 فیصد ،مسلمانوں کی 14.2 فیصد،عیسائی کی 2.3 فیصد ، سکھ 1.7 فیصد، بودھ 0.7 فیصد اور جین 0.4 فیصد آبادی تسلیم کی گئی ہے ۔ ان اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کی ہے ۔ ان کے ساتھ آزادی کے بعد سے جو سلوک روا رکھا گیا ہے، اس کے نتائج یا یوں کہیں کہ مسلمانوں کو ہر لحاظ سے حاشیہ پر ڈالے جانے کی پول سچر کمیٹی نے کئی سال قبل ہی کھول دی ہے ، رہی سہی کسر گزشتہ تقریباََ دس برسوں میں مرکزکی حکمراں پارٹی بی جے پی اور کئی ریاستوں کی بی جے پی کی حکومت نے پوری کر دی ہے ۔یہاں کے مسلمانوں کے ساتھ جو سلوک کیا جارہا ہے اور انھیں جس طرح سے دو سرے درجے کا شہری بنانے کی عملی کوششیں ہو رہی ہیں ، ان کی تفصیل سے دنیا واقف ہے،جس کے باعث مسلسل حکومت ہند کے حکمرانو ںکو بیرون ممالک میں شرمندہ بھی ہونا پڑ رہا ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں کے بعد عیسائی اقلیت میںہیں ۔ ان کے ساتھ بھی گزشتہ برسوں میں کوئی اچھا سلوک دیکھنے کو نہیں ملا ۔ بلکہ ہر جگہ انھیں بھی شک وشبہ کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے ۔ حالانکہ ملک کے دور دراز علاقوں میں مشنری کے اسپتالوں اور اسکولوں کا نظام قائم ہے وہ ملک کے غریبوں اور حاشیہ پر پڑے لوگوں کے ساتھ ساتھ دولت مندوں کے لئے بھی اہمیت کے حامل ہیں ۔ عیسائیوں کے کاموں کی تعریف کرنے کی بجائے ہمیشہ انھیں شک و شبہ کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ آئے دن یہ افواہ پھیلائی جاتی ہے کہ مشن کے نام پر ہندوؤں کو لالچ دے کر ان کے مذہب کو تبدیل کیا جا رہا ہے ۔ اس افواہ کو اس قدر ہوا دی جاتی ہے کہ خدمت خلق میں منہمک عیسائیوں کی پٹائی اکثر ہوتی رہتی ہے اور انھیں زندہ جلا کر مارنے میں بھی کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوتی ۔ عیسائیوں کے ساتھ منی پور میں جس طرح کی درندگی اور وحشیانہ حرکتیں ہوئی ہیں، انھیں دیکھ کر تو انسانیت چیخ اٹھتی ہے ۔ عیسائیوں کے مقابے ملک میں سکھوں کی تعداد کم ہے، لیکن یہ قوم جنگجو قوم ہے او ران کے اندر لڑنے بھڑنے کی بھرپور صلاحیتیں ہیں اور بلا تفریق ہر مذاہب کے لوگوںکے دکھ سکھ میں کام آنا ان کا ایمان ہے ۔ اس لئے ان لوگوں سے لوگ پیار کرتے ہیں اور ان سے فرقہ پرست بھی خوف زدہ رہتے ہیں ۔ یا دکیجئے کہ ابھی ابھی راجستھان اسمبلی کا جو انتخاب ہو ا۔ ا س کے ایک انتخابی جلسہ میں بی جے پی کے ایک لیڈر نے اپنی تقریر کے دوران یہ کہہ دیا تھا کہ اس ریاست میں بہت سارے مساجد اور گرودوارے ہیں ، جنھیں ہماری حکومت آتے ہی ختم کردے گی ۔ اس ایک جملے نے بی جے پی کو بیک فٹ پر لا دیا اور اس نیتا کو معافی مانگتے ہوئے یہ کہنا پڑا تھاکہ میں دراصل صرف مسجدوں کو ختم کرنے کا بات کہہ رہا تھا ، غلطی سے گرودوارہ زبان سے نکل گیا ۔ اس لیڈر نے نہ صرف سکھوں سے معافی مانگی بلکہ گرودوارہ جا کر سیوا بھی کی تھی ۔سکھوں کے بعد ملک میں جو اقلیت ہے وہ بودھسٹ ہیںجو اتنی کم تعداد میں ہیں کہ وہ ایسے ہی دبے دبے سہمے سہمے اور خوف زدہ رہتے ہیں کہ ان کی سیکڑوں عبادت گاہوں کو منہدم کر کے مندر بنا لیا گیا ہے ، جو بچ گئی ہیں ان ہی پر اکتفا کئے ہوئے ہیں ۔
آیئے اب ہم بات کرتے ہیں ملک کی بڑی اقلیت یعنی مسلمانوں کی ۔ آزادی کے بعد ملک کے مسلمانوں پر جس طرح سیاسی، سماجی ، اقتصادی ،معاشرتی ، تہذیبی ، تعلیمی ، دینی اور لسانی سطح پر حاشیہ پر ڈالنے کی عملی کوشش کی گئی ہے نیز ظلم ، ناانصافی ،حق تلفی ، عدم رواداری اور ملک کے آئین میں انھیں دئے گئے حقوق کی پامالی جس شدت کے ساتھ کی گئی ہے۔ ان کی تفصیل سچر کمیٹی کی رپورٹ میں اجاگر ہو چکی ہے ۔ جو رہی سہی کسر باقی بچی تھی انھیں منصوبہ بند اور منظم طور پر تقریباََ گزشتہ دس برسوں سے بھارتیہ جنتا پارٹی کی مرکز میں قائم حکومت اور اس کے ساتھ ساتھ کئی ریاستوں کی بی جے پی کی حکومت پوری کر رہی ہے ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ملک کے آئین نے ملک کے اقلیتوں کے لئے بلا امتیاز جنس ، مذہب ، نسل ، ذات اور زبان کے یکساں حقوق ومواقع دئے ہیں ، جو بنیادی حقوق کے تحت ہر شہری کو حاصل ہونے چاہئے ۔ یہی وجہ ہے موجودہ حکومت بار بار آئین میں ترمیم کی بات کرتی ہے ۔ اگر ایساہوتا ہے تو آئین کی کئی دفعہ کے تحت جو حقوق اقلیتوں کو دئے گئے ہیں ، انھیں ہر حال میں ختم کر دیا جائے گا۔ کانگریس کی حکومت نے ملک کے اقلیتوں کی فلاح وبہبود کے لئے 2006 ء میں وزارت برائے اقلیتی امور کی تشکیل کی تھی ۔جس کے تحت بلا شبہ اقلیتوں کے لئے کئی فلاحی اسکیمیں بھی نافذ کی گئی تھیں ۔ اسی کے ساتھ ساتھ ایک زمانے میں وزیر اعظم پندرہ نکاتی پروگرام کی بھی بڑی دھوم تھی کہ ان تمام نکات کے تحت ملک کے اقلیتوں کو بڑی راحت دئے جانے کا منصوبہ تھا ۔ منموہن سنگھ کے زمانے میںوزیر اعظم پندرہ نکاتی پروگرام کی تشکیل کئے جانے کا یہ بھی مقصد تھا کہ ملک میں فرقہ وارانہ فسادات روکنا اور قومی سطح پر اقلیت قرار دی جانے والی قوم کے لئے مختلف منصوبوں میں پندرہ فیصد فنڈز مختص کرنا تھا ۔ مگرکچھ نام نہا دمسلمانوں نے ہی پندرہ نکاتی پروگرام کی مخالفت کی تھی اور ا س وقت کے حزب مخالف کے ’رہنما‘مختار عباس نقوی نے اقلیتوں کے لئے نافذ العمل منصوبوں کو شعبدہ بازی کا نام دیا تھا اور جب وہ خود وزیر اقلیتی فلاح بنے تو وزیر اعظم پندرہ نکاتی پروگرام کو ہی ختم کر دیا ۔ حالانکہ کانگریس کے وقت میں مرکز کی کوشش تھی کہ یہ پروگرام ہر ریاست کے ہر اضلاع تک پہنچے اور اقلیتوں کی فلاح وبہبود کا م ہو ۔ اس وقت گجرات کے وزیر اعلیٰ کے طور پر نریندر مودی نے بھی اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ سیاسی مفادات کے لئے کیا جا رہا ہے ۔ایسے میں ان کے دور حکومت میں وزیر اعظم پندرہ نکاتی پروگرام سے کیا توقع کی جا سکتی ہے ۔ انتہا تو یہ ہے کہ مسلمانوں کے فریضہ حج کے لئے جو کمیٹی ا س وزارت کے تحت بنائی جاتی ہے ، وہ بھی سپریم کورٹ کی بار بار یا ددہانی کے باوجود تشکیل نہیں دی گئی ہے۔ حج پر جانے والوںکے لئے جو سبسیڈی ملا کرتی تھی ، وہ بھی بند کردی گئی اور تو اور حاجیوں سے ٹیکس بھی وصول کیا جانے لگا ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ ملک کے اقلیتوں کے لئے آئین میں دی جانے والی مراعات یا سہولیات سے پوری طرح نظریں موڑ لی گئیں ہیں جس کے باعث مسلمان ہرسطح پر پچھڑتے جا رہے ہیں ۔ملک کی سب سے بڑی اقلیت مسلمان جنھوں نے ملک کی آزادی میں بہت ہی نمایاں کردار ادا کیا تھا ۔ ان سے اب حب الوطنی کا ثبوت مانگا جا رہا ہے ۔ جب کہ یہ تاریخ ہے کہ ہندوستان کی آزادی کی پوری داستان مسلمانوں کے خون سے لکھی گئی ہے ۔ دہلی کے انڈیا گیٹ پر 300,95 مجاہدین آزادی کے نام کنندہ ہیں ، ان میں 945,62 نام ایسے مسلمانوں کے ہیں ۔ جو ہنستے ہنستے اپنے وطن کے لئے پھانسی کے پھندے پر جھول گئے یا انگریزوں کی گولیوں سے شہید ہوئے تھے ۔ مسلمانوں کے کارناموں پر مبنی تاریخ کو نصابوں سے خارج کیا رہا ہے۔ آئین میں اقلیتوں کو جو حقوق دئے گئے ہیں ،ان پر اچٹتی نگاہ ہم ڈالیں تو دیکھتے ہیں کہ آرٹیکل 16 کے تحت سرکاری ملازمت میں نسل ، مذہب ، ذات پات کی بنیا دپر کو ئی تفریق نہیں کیا جا ئے گا ، لیکن افسوس کہ سرکاری محکمہ تو اب دور کی بات ہے پرائیویٹ کمپنیوں میں بھی حکومت کے خوف سے مسلمانوں کو ملازمت نہیں دی جارہی ہے ۔اسی طرح آرٹیکل 25 میں ہر شخص کو مذہبی آزادی کا حق دیا گیا ہے، لیکن نظر اٹھا کر دیکھئے کہ ہماری مساجد، درگاہوں اور مزارات کے ساتھ کیا سلوک کیا جا رہا ہے۔ بابری مسجد کے بعد متھرا اور کاشی کی شاہی عید گاہ مسجد کے ساتھ ساتھ قطب مینار ،تاج محل پر بھی غاصبانہ قبضہ کی کوششیں جاری ہیں ۔ حیدر آباد کے چار کے چار مینار پر بھی مورتی بٹھا کر وہاں پوجا پاٹھ کا سلسلہ کئی برسوں سے جاری ہے ۔آرٹیکل 29 میں مذہبی اور لسانی اقلیتوں کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ اپنا تعلیمی ادارہ قائم کر سکتے ہیں نیز اقلیتوں کو اپنی ثقافت کے مطابق اسے فروغ دئے جانے کی بھی ضمانت دی گئی ہے ۔ ا س تناظر میں اتر پردیش کے مدارس کے ساتھ ساتھ اعظم خاں کی قائم کردہ جوہر یونیورسٹی کا جو حشر کیا گیا ، وہ سب سامنے ہے ۔ آسام کے 1281 مدارس کا اقلیتی کردار ختم کرکے انھیں اسکول میں تبدیل کر دیا گیا۔ جہاں تک اقلیتوں کی زبان کا تعلق ہے تو رسم الخط کی وجہ سے اردو زبان کو مسلمانوں کی زبان کہہ کراس کے خلاف مہم چھیڑی جارہی ہے۔ اردو زبان سے حکومت کی سرپرستی دن بہ دن ختم ہونے کے نتیجہ میں پورے ملک میں اردو زبان روبہ زوال ہے ۔ افسوسناک پہلو تو یہ ہے کہ بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں کے ساتھ غیر بی جے پی یعنی سیکولرپارٹیوں کی حکومت میں بھی اردو زبان کو ختم کیا جا رہا ہے ۔ شایدیہ اس قول پر عمل کر رہے ہیں کہ کسی قوم کو ختم کرنا ہے تو پہلے ا س کی زبان کو ختم کردو۔ اب دیکھئے کہ بہار میں سیکولر پارٹیوں کی حکمرانی ہے لیکن یہاں سب سے زیادہ اردو زبان کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ گزشتہ چھ برسوں سے بہار اردو اکاڈمی ، اردو مشاورتی کمیٹی اور ایسے کئی ادارے معطل ہیں ، جیسے این سی پی یو ایل ان دنوں ہے ۔بہار میں عرصہ تک اسکولوں کے نصاب میں اردو زبان لازمی تھی جسے چند سال قبل اختیاری کر دیا گیا ۔ اس فیصلہ سے دھیرے دھیرے اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں سے اردو پڑھنے والے بچے ختم ہو جائیں گے اور حکومت کی یہی منشا ہے ۔ حقیقت یہ ہے اقلیتوں کے حقوق کی پامالی اتنی زیادہ ہے کہ اگر تفصیل کے بجائے مختصراََ بھی ذکر کیا جائے تو ایک ضخیم کتاب تیار ہو جائے گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اقوام متحدہ کے ذریعہ آج کے عالمی یوم حقوق اقلیت کی اہمیت کو جانیں سمجھیں اور آئین میں دئے گئے حقوق کے تحفظ کے لئے متحد اورمتحرک رہیں ۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS