بین مذاہب ازدواجی رشتے- شرعی اور قانونی پہلو : سید خالد حسین (سنگاپور)

0

سید خالد حسین (سنگاپور)
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مومنوں کو حکم دیا ہے ’’اور مشرک عورتیں جب تک ایمان نہ لائیں ان سے نکاح نہ کرو، اور مشرک عورتوں سے ایمان دار لونڈی بہترہے گو وہ تمہیں بھلی معلوم ہوں، اور مشرک مردوں سے نکاح نہ کرو یہاں تک کہ وہ ایمان لائیںاور البتہ مومن غلام مشرک سے بہتر ہے اگرچہ وہ تمہیں اچھا ہی لگے، یہ لوگ دوزخ کی طرف بلاتے ہیںاور اللہ جنت اور بخشش کی طرف اپنے حکم سے بلاتا ہے اور لوگوں کے لیے اپنی آیتیں کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔‘‘ (سورہ البقرہ، آیت 221)
اللہ رب العزت کے اس فرمان کو مدنظر رکھتے ہوئے دنیا بھر میں مسلمان مرد اور عورتیں صدیوں سے ہر سال ہزاروں غیر مسلموں سے اسلام قبول کرنے کے بعد ہی نکاح کر رہے ہیں اور بھارت میں بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ بھارت میں جہاں مختلف مذاہب کے لوگ رہتے ہیں، اس طرح کی بین المذہبی، خصوصاََ مسلم-ہندو، شادیوں کی تاریخ کم از کم سات سو سال پرانی ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس طرح کی بین المذہبی شادیاں مغلوں خصوصاً تیسرے مغل شہنشاہ جلال الدین اکبر کے دور میں شروع ہوئیں۔ سن 1562 سے 1715 تک اکبر اور اس کے بیٹے جہانگیر اور پوتے شاہجہاں نے کل 40 شادیاں کیں، جن میں سے 17 شادیاں راجستھان کے ہندو راجپوت مہاراجاوں کی بیٹیوں اور ان کے خاندانوں کی دیگر عورتوں سے کیں۔ یہ شادیاں مغلوں اور راجپوتوں دونوں کی سیاسی ضرورت اور مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے عمل میں آئی تھیں، لیکن اس سے بھی تقریباًتین سو سال قبل خلجی خاندان کے سلطان علاؤالدین خلجی نے اور اس کے بعد کئی مسلمان بادشاہوں نے بھارت کے مختلف علاقوں میں ہندو عورتوں سے شادیاں کیں، ان سب کے کئی صدیوں بعد سن 1960 میں ایک اردو فلم ’’مغل اعظم‘‘ بنی جس میں اکبر اور اس کی بیوی مریم الزمانی کو (جس کا پیدائشی نام ہرکا بائی تھا اور جس کو جودا بائی کے غلط نام سے جانا جاتا ہے) بین المذہبی جوڑے کے طور پر پیش کیا گیا۔اس انتہائی مقبول فلم کے بعد سے بھارت میں ہندو مسلم شادیوں کا رواج خواص سے عوام میں آ گیا اور نتیجتاً آج ملک میں بین المذہبی شادیاں عروج پر ہیں۔ گزشتہ تقریباً ستر سال سے مسلم -ہندو شادیوں کی یہ ’’شاہی بیماری‘‘ عوام الناس میں پھیل گئی ہے۔ یہ بیماری شہروں میں زیادہ ہے، لیکن گاؤوں میں بہت کم ہے۔ اس رواج کے پھیلنے کی اصل وجہ 1954 میں لاگو ہوا اسپیشل میریج ایکٹ ہے جو ایسے بین المذہبی جوڑوں کو تحفظ فراہم کرتاہے۔
2013 میں کیے گئے ایک قومی سروے کے مطابق بھارت میں 1981 کے مقابلے میں 2005 میں بین المذہبی شادیوں کی شرح تقریباً دوگنا ہوگئی تھیں۔ 1981 میں اس طرح کی شادیوں کا تناسب کل شادیوں کے مقابلے 1.6فیصد تھا جو 2005 میں بڑھ کر 2.7 فیصد ہو گیا۔ لیکن قومی خاندانی صحت کے 2004-2005 میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق ہندوستان میں 2.1 فیصد شادیاں بین المذہبی تھیں۔ اس کے علاوہ 2016 میں کیے گئے ٹائمز آف انڈیا کے ایک سروے کے مطابق ملک کے مختلف میریج رجسٹریشن اداروں میں 2013-2014 میں 2,624 بین المذہبی شادیاں رجسٹر کی گئیں، لیکن ایک سال بعد یعنی 2015-2016 میں صرف بنگلور میں ہی یہ تعداد بڑھ کر 10,655 ہوگئی۔ 2015 سے جنوری 2016 تک 8,391 بین المذہبی شادیاں رجسٹرڈ ہوچکی تھیں جو کہ 2013-2014 کے مقابلہ میں تین گنا سے بھی زیادہ تھیں۔ہندوستان میں تمام بڑے مذاہب کے ماننے والوں کے لیے ان کے پرسنل لاز ہیں ،یعنی عائلی مسائل میں ان گروہوں کا مذہبی یا روایتی قانون ہی ملک کا قانون ہے اور ان لوگوں میں شادیاں ان ہی قوانین کے تحت ہوتی ہیں، لیکن 1954 کے اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت مذہب اور عقیدہ کے بر خلاف کوئی بھی شخص کسی بھی مذہب کے ماننے والے شخص سے شادی کر سکتا ہے، خواہ وہ مسلم ہو یا ہندو، سکھ ہو یا عیسائی، بدھسٹ ہو یا جین، یا پارسی ہو یا ملحد۔ اس ایکٹ کے تحت ہوئی شادیوں پر کوئی پرسنل لاء لاگو نہیں ہوتا ہے۔ یہ ایکٹ تمام ہندوستانیوں کے لئے ہے، بشمول ان کے جو بیرون ملک رہتے ہیں۔
اسپیشل میرج ایکٹ کی دین
در اصل اسپیشل میرج ایکٹ ان لوگوں کے لیے ایک متبادل ہے جو ہندوستان میں ہندو میرج ایکٹ کے تحت اپنی شادی کو رجسٹر کرنے کے اہل نہیں ہیں۔ اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت الگ الگ مذاہب کے ماننے والے کوئی بھی مرد اور عورت اپنی شادی کا میرج رجسٹریشن کے دفاتر میں، جو کہ سب بڑے شہروں میں ہیں اندراج کروا سکتے ہیں۔ درخواست دینے والے جوڑے کو سب رجسٹرار 30 دن کا نوٹس دیتا ہے اور وہ نوٹس اس کے دفتر کے نوٹس بورڈ پر لگا دیا جاتا ہے۔ اگر اس مدت کے اندر رجسٹرار کو ان کی شادی سے کسی کا اعتراض موصول نہیں ہوتا تو شادی رجسٹر ہو جاتی ہے۔ یہ سارا عمل شادی کو بغیر کسی مذہبی تقریب کے مکمل کرنے کے قابل بنا دیتا ہے۔ دراصل اسپیشل میریج ایکٹ کو بنانے کا مقصد پرسنل لاز کو کمزور کرنا تھا۔2020 میں کیے گئے ایک امریکی سروے کے مطابق ہندوستان میں ہندوؤں سے زیادہ مسلمان دوسرے مذاہب کے لوگوں سے شادی کرتے ہیں۔ واشنگٹن میں قائم غیر جانبدار تھنک ٹینک پیو ریسرچ سینٹر نے انکشاف کیا ہے کہ 2 فیصد مسلمان غیر مسلموں سے شادی کرتے ہیں۔ جبکہ صرف 1 فیصد ہندو غیر ہندوؤں سے شادی کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہندوستان کی 25 کروڑ مسلم آبادی میں سے 10کروڑ مسلمان شادی شدہ ہیں تو ان میں سے 20 لاکھ غیر مسلم شوہر یا بیوی ہیں، یعنی تقریباً 10 لاکھ مرد اور 10 لاکھ خواتین شامل ہیں۔اس سروے سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ تقریباً تمام میاں بیوی، چاہے وہ مسلمان ہوں، ہندو ہوں یا سکھ ، عیسائی اور پارسی ہوں، شادی کے بعد سب اسی مذہب پر قائم رہتے ہیں جس میں ان کی پرورش ہوئی ہے کیونکہ ہندوستان میں مذہبی تبدیلی کی شرح 1 فیصد سے بھی کم ہے۔ اگر یہ حقیقت تشویش کا باعث نہیں تو اور کیا ہے؟کچھ سال قبل تک بھارت میں بین المذہبی شادیاں زیادہ تر مسلمان لڑکوں اور ہندو، سکھ یا عیسائی لڑکیوں کے درمیان ہوا کرتی تھیں، لیکن گزشتہ چند برسوں سے ملک کے مختلف علاقوں سے یہ روح فرسا اور تشویشناک خبریں آ رہی ہیں کہ اب مسلمان لڑکیاں غیر مسلم لڑکوں سے شادی کر رہی ہیں اور اپنا دین و ایمان اور ضمیر و حیا بیچ کر اپنے خاندان، سماج اور معاشرے پر بدنامی کا داغ لگا رہی ہیں۔ پہلے اس طرح کے واقعات شاذ و نادر ہی ہوا کرتے تھے، لیکن اب ایسی لڑکیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جو بے حیائی کے راستے پر بڑھتے ہوئے ارتداد تک پہنچ رہی ہیں۔ ٹائمز آف انڈیا کے ایک سروے کے مطابق گزشتہ تین سالوں میں چالیس ہزار سے زائد مسلم لڑکیوں نے غیر مسلموں سے شادیاں رچائیں۔ سوشل میڈیا پر ہمارے نیک نیت علماء اور مخلص رہنماؤں کی طرف سے اجاگر کیے گئے مسلمانوں سے متعلق کسی معاملے کو نظر انداز نہیں کر سکتے اور نہ ہی ہم اپنا سر ریت میں دبا کر یہ اعلان کر سکتے ہیں کہ سب ٹھیک ہے۔ اب کوئی پاگل ہی اس حقیقت کو جعلی، من گھڑت، جھوٹا اور بھی بہتر کچھ کہہ کر رد کرے گا۔
بین المذہبی شادیوں کی وجوہات
مسلمان لڑکیوں کی غیر مسلم لڑکوں سے شادیوں کی مندرجہ ذیل بنیادی وجوہات بیان کی جاتی ہیں:
1. ایمان کی کمزوری: بین المذہبی شادیوں کی سب سے بڑی وجہ مسلمانوں میں ایمان کی کمزوری ہے۔ ایک مضبوط اور حقیقی ایمان کا حامل مسلمان عشق و محبت یا دنیاوی مال و دولت کے لیے کبھی بھی اپنے ایمان کا سودا نہیں کرے گا۔
.2نوجوانوں میں دینی تعلیم و تربیت کی کمی اور اردو و عربی سے آشنا نہ ہونا۔ جب مسلم نوجوان ہندی میڈیم کے ماحول میں پڑھتے ہیں تو وہ اکثر دین سے دور ہوتے جاتے ہیں اور غیر مسلموں کے طور طریقوں پر عمل کرنے لگتے ہیں اور ان ہی کی زبان بولنے لگتے ہیں۔
3 .مخلوط تعلیم: مردوں اور عورتوں کا اختلاط مسلم سماج کے لئے ایک خطرے کی گھنٹی ہوتی ہے اور یہ اختلاط سب سے زیادہ مخلوط تعلیمی اداروں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ جب مسلمان لڑکے یا لڑکیاں مخلوط تعلیم کے کالج یا یونیورسٹی میں داخلہ لیتے ہیں تو ان کی ملاقات مخالف جنس کے بہت سے غیر مسلموں سے ہوتی ہے۔ ان میں سے چند آہستہ آہستہ ان غیر مسلموں کی محبت کے جال میں پھنس جاتے ہیں اور ایسے اندھے ہو جاتے ہیں کہ انھیں اپنی خواہشات کے علاوہ کچھ نہیں سوجھتا۔ وہ جلد سے جلد شادی بھی کر لینا چاہتے ہیں تاکہ خاندان اور معاشرے کے لوگ ان کے درمیان روڑے نہ اٹکا سکیں۔ بالآخر وہ تمام تر دینی تعلیمات کو نظر انداز کرکے شادی کرلیتے ہیں۔
.4مخالف جنس کے ساتھ دوستی: آج کل نوجوانوں میں، خاص طور پر پیشہ ورانہ ملازمتوں میں، مخالف جنس سے دوستی بہت عام ہوگئی ہے۔ یہ آزادانہ تعلقات بھی اکثر و بیشتر بین المذہبی شادیوں کا باعث بنتے ہیں۔
5 .غربت: بین المذہبی شادیوں میں غربت اور اس کی وجہ سے بیٹیوں کا بڑی عمر تک کنوارپن کا ہونا بھی ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔کچھ والدین اپنی بیٹیوں کی شادی دوسرے مذہب کے لڑکوں سے کرنے پر اس لئے مجبور ہو جاتے ہیں کیونکہ انہیں اپنی بیٹیوں کے لئے اپنی قوم یا برادری میں تعلیمی اور معاشی طور پر مناسب لڑکے نہیں ملتے، یا پھر وہ لڑکے والوں کی طرف سے جہیز کے مطالبات پورے نہیں کر سکتے۔
6 .لالچ: بعض اوقات لالچ بھی مسلمان لڑکوں کو ایمان کی قیمت پر بین المذہبی شادی کا انتخاب کرنے پر اکساتی ہے۔ کچھ مسلم لڑکے شادی کرکے دولت مند بننا چاہتے ہیں اور انھیں سسرال سے جہیز کا ڈھیر ملنے کی توقع بھی ہوتی ہے۔
.7جہالت: زیادہ تر مسلم لڑکوں کومعلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان کا مذہب غیر مذہب کے لوگوں سے شادی کی اجازت دیتا ہے یا نہیں۔ بعض مسلمان انجانے میں شادی کر لیتے ہیں۔ بعد میں جب کبھی انہیں پتہ چلتا ہے کہ ان کا مذہب ایسی شادی کی اجازت نہیں دیتا ہے تو وہ فورا الگ ہو جاتے ہیں اور اپنے رب سے توبہ واستغفار کرتے ہیں۔
.8آزاد خیالی: جو مسلم لڑکے غیر معمولی طور پر وسیع الظرف ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ سوچتے ہیں کہ دماغ کی وسعت اور فکر ہی تمام مسائل کا واحد حل ہے۔ وہ مذہبی حدود کو رکاوٹیں اور پسماندگی کی علامت سمجھتے ہیں۔ ان کے خیال میں شادی ان کا ذاتی معاملہ ہے اور اس کو مذہب سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ لہٰذا وہ بین المذہبی شادیوں میں کچھ بھی غلط نہیں دیکھتے اور ان کے بچے جو اپنے لیے انتخاب کرتے ہیں اسے وہ کرنے دیتے ہیں۔ اس طرح بہت حد تک ’’آزاد خیالی‘‘ بھی بین المذہبی شادیوں کا باعث بنتی ہے۔
9 .تعلیم میں توازن کا فقدان: موجودہ دور میں مسلمان لڑکوں کے بہ نسبت مسلمان لڑکیاں تعلیم میں اعلی نمبرات حاصل کر رہی ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے مسلمان لڑکے ان اعلی تعلیم یافتہ لڑکیوں کے لیے مناسب نہیں ہوتے ہیں۔ مسلمان لڑکوں کے مقابلے میں غیر مسلموں کی ترقی کو دیکھ کر بھی متعدد لڑکیوں کو دوسرے مذاہب میں سے اپنے شریک حیات کا انتخاب کرنا پڑتا ہے جو کم از کم تعلیمی قابلیت کے لحاظ سے تو ان کے لیے مناسب ہوتے ہیں۔لڑکیوں کو آزادی: بعض حالات میں مسلمان بچوں کی غیر مسلموں سے شادی کے اصل ذمہ دار والدین خود ہوتے ہیں۔ یہ والدین اپنی بیٹیوں پر بھروسہ کرتے ہوئے انہیں آزاد چھوڑ دیتے ہیں اور لڑکیاں اس آزادی کا فائدہ اٹھا کر غیر مردوں سے ملاقاتیں کرتی ہیں اور نتیجتاً پیار محبت میں پھنس کر شادی کر بیٹھتی ہیں۔ کچھ والدین نوجوان بیٹیوں کو مردوں سے ٹیوشن کرانے میں کوئی عیب نہیں سمجھتے جس کے نتیجے میں استاد اور شاگرد کے درمیان عشق و محبت شروع ہوجاتا ہے اور پھر والدین کے لئے پچھتاوے کے علاوہ کچھ نہیں بچتا۔ ملازمت کرنے والے والدین کی گھر میں غیر موجودگی بھی ایسے مواقع فراہم کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔
(جاری)
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS